Follow one and respect all.
Al-Risala, October 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری بات یہ کہ مذاہب کے درمیان فرق واختلاف کوئی برائی (evil) نہیں ہے، بلکہ اس کی حقیقت ایک رحمت (blessing) کی ہے۔ اِسی فرق واختلاف کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان ڈسکشن اور ڈائیلاگ ہو اور اس طرح نئے نئے پہلو واضح ہوتے رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فرق واختلاف ایک فکری چیلنج (intellectual challenge) ہے اور فکری چیلنج ہمیشہ مفید ہوتا ہے۔ آرنلڈ ٹائن بی کے الفاظ میں چیلنج اور جواب چیلنج کا عمل (challenge-response-mechanism) ہی وہ واحد عمل ہے جس سے تمام ترقیاں ظہور میں آتی ہیں۔ اگر یہ عمل باقی نہ رہے تو ترقیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے۔ امرا واقعہ اور وحدت ادیان وحدتِ ادیان کا نظریہ سچائی (truth) کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ طور پر متلاشی حق (truth-seeker) ہے۔ ہر عورت اور مرد کے اندر یہ جذبہ چھپا ہوا ہے کہ وہ سچائی کو جانے، سچائی ہر ایک کا سب سے بڑا مطلوب ہے۔ یہ دراصل سچائی کی دریافت ہے جو کسی انسان کو اس
قابل بناتی ہے کہ وہ اس دنیا میں یقین (conviction) پر کھڑا ہو۔ یہ احساس کہ میں نے آخری سچائی کو دریافت کر لیا ہے، یہی اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ جو عورت یا مرد اس احساس سے خالی ہوں کہ میں نے سچائی (truth) کو دریافت کر لیا ہے، ان کی حیثیت بلا شبہ صرف ایک حیوان کی ہے، ایسا آدمی حقیقی معنوں میں، انسان کے درجے تک نہیں پہنچا۔ زندگی ایک مشکل امتحان ہے۔ اس دنیا میں آدمی کو مختلف قسم کے ناموافق حالات میں جینا پڑتا ایسی حالت میں اس کو ایک یقین درکار ہے جس کے اوپر وہ کھڑا ہو سکے۔ یہ یقین کسی مادی یافت (material gain) کی بنیاد پر نہیں ہو سکتا، کیوں کہ اس محدود دنیا میں مادی یافت ہمیشہ نا تمام ہوتی ہے اور نا تمام یافت کسی انسان کو لازوال یقین نہیں دے سکتی۔
اس محدود دنیا میں صرف ایک چیز ہے جو لا محدود ہے اور وہ سچائی (truth) ہے۔ سچائی کا تصور ایک ناقابلِ تقسیم تصور ہے۔ سچائی اپنے آپ میں کمال کو چاہتی ہے۔ جس سچائی کے ساتھ کمال کا تصور موجود نہ ہو، وہ بلا شبہ سچائی نہیں۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے، اس احساس میں جینا چاہتا ہے کہ میں نے اعلیٰ سچائی کو پالیا ہے۔ ایسی حالت میں وحدتِ ادیان کا تصور ایک ایسا تصور ہے جو انسان کی فطرت سے ٹکراتا ہے، اور یہی ٹکراؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تصور درست نہیں۔ تمام مذاہب حقیقتاً ایک ہیں۔ ایک غیر سائنٹفک نظریہ ہے۔ کوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اس قسم کا بیان دے۔ جو شخص ایسا کہے، اُس سے فطری طور پر یہ سوال کیا جائے گا کہ تم کس حق کی بنیاد پر ایسا کہہ رہے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مذاہب کے بارے میں کوئی بیان آدمی صرف اپنی ذات کی نسبت سے دے سکتا ہے، دوسرے کی نسبت سے نہیں۔
وحدتِ ادیان کے تصور کے تجزیہ کے دو خاص پہلو ہیں۔ ایک، یہ کہ اصولی یا نظری طور پر یہ تصور مبنی بر حقیقت ہے یا نہیں۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کیا اس طرح دنیا میں سماجی امن (social peace) آسکتا ہے کہ تمام ادیان کو ایک مان لیا جائے۔
جہاں تک اس معاملے کے اولین پہلو کا تعلق ہے، عملی طور پر یہ بات غیر ثابت شدہ ہے کہ تمام
مذاہب ایک ہیں۔ اس لیے کہ مختلف مذاہب کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ ان کو ایک کہنا کسی بھی طرح ممکن مثلاً کسی مذہب میں توحید (monotheism) کا عقیدہ ہے اور کسی مذہب میں وحدتِ وجود (monism) کا عقیدہ۔ اسی طرح کسی مذہب میں ایک خدا کا تصور ہے اور کسی مذہب میں تین خدا کا تصور۔ اسی طرح کسی مذہب میں نجات کا مدار عمل پر ہے اور کسی مذہب میں نجات کا مدارنسل پر۔ اسی طرح کسی مذہب میں یہ تصور ہے کہ موت کے بعد فوراً دار الجزا شروع ہو جاتا ہے اور کسی مذہب میں اس کے برعکس، پنر جنم (rebirth) کا تصور ہے، وغیرہ۔ مختلف مذاہب کے درمیان اس طرح کے بے شمار تضادات پائے جاتے ایسی حالت میں یہ کہنا کہ تمام مذاہب ایک ہیں، سرتاسر ایک غیر علمی بات ہے۔ جو لوگ وحدتِ ادیان کی بات کرتے ہیں، اُن کا طریقہ یہ ہے کہ انھوں نے بطور خود مذہب کا ایک خود ساختہ معیار بنایا ہے اور اسی خود ساختہ معیار کے تحت انھوں نے اعلان کر دیا کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ مثلاً یہ قول کہ تمام مذاہب کی منزل ایک ہے، راستے جدا جدا ہیں، یہ صرف ایک تمثیل ہے اور اس طرح کی تمثیل سے کوئی علمی بات ثابت نہیں ہوتی۔ دوسری بات یہ کہ تمام ادیان کو ایک ماننے سے سماجی امن قائم ہو جائے گا۔ یہ حل صورت حال کے غیر واقعی تصور پر مبنی ہے۔ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے، نہ کہ صرف مذہب کا ایک حصہ۔ اگر وحدتِ ادیان کے نظریے کو مان لیا جائے، تب بھی لوگوں کے درمیان بے شمار اختلاف موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں وحدتِ ادیان کا نظریہ اصل مسئلے کی نسبت سے، ایک غیر متعلق نظریہ ہے، وہ ہرگز اصل مسئلے کو حل کرنے والا نہیں۔ اِس معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے، ایک ایسی مخلوق ہے جو صرف ایک چیز پر کامل یقین رکھ سکتا ہے۔ اس دنیا میں جینے کے لیے آدمی کی یہ ضرورت ہے کہ وہ یقین کرے کہ اس نے واحد سچائی کو پا لیا ہے۔ وہ ٹرتھ وددی کیپٹل ٹی (Truth with the capital T) تک پہنچ گیا ہے۔ اس دریافت کے بغیر انسان اس دنیا میں کامل یقین پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ تعددِ حقیقت (manyness of reality) کی بات کرتے ہیں، جو بظاہر یہ اعلان کرتے ہیں کہ تمام مذاہب سچے ہیں، وہ خود بھی اندر سے صرف ایک سچائی پر عقیدہ رکھتے ہیں۔
اس کی ایک مثال مہاتما گاندھی کی ہے۔ وہ اس مذہبی اصول کے زبردست داعی تھے کہ رام اور رحیم ایک ان کے آشرم میں ہر صبح کو یہی گیت گایا جاتا تھا۔ لیکن 30 جنوری 1948 کو جب ایک تشدد پسند آدمی نے ان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تو آخر وقت میں ان کی زبان سے جو کلمہ نکلا، وہ ’’ہے رام‘‘ تھا، نہ کہ ہے رام، ہے رحیم۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اگرچہ کہنے کے لیے یہ کہتے تھے کہ رام اور رحیم ایک ہیں، لیکن وہ جس یقین پر کھڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھا جو آخر وقت میں ان کی زبان سے نکلا۔ حقیقت یہ ہے کہ وحدت ادیان کا تصور دین کی نفی ہے۔ انسان کو دین کی ضرورت کس وہ اس لیے ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے، ایک متلاشی حق حیوان ہے۔ یہ فطرت صرف اُس وقت ایڈریس ہوسکتی ہے، جب کہ وہ ایک دین کو واحد سچائی کے طور پر دریافت اس سے کم تر درجے کا کوئی عقیدہ انسان کی فطرت کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ اس ضمن میں یہ بحث غیر متعلق ہے کہ کسی کا یہ سمجھنا کہ اس نے جس سچائی کو دریافت کیا ہے، وہی سچائی ہے اور دوسری کوئی سچائی نہیں، اس سے دوسرے کے بارے میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔ اعتراض بلاشبہ سچائی کی تضییر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی جب کسی شخص کو حاصل ہوتی ہے تو وہ اْس کو ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر کر دیتی ہے۔ اگر کوئی شخص سچائی کو پانے کا دعویٰ کرے اور اسی کے ساتھ وہ دوسروں کے بارے میں منفی ذہن میں مبتلا ہو تو ایسا شخص گویا یہ اعلان کر رہا ہے کہ میں نے سچائی کو نہیں پایا، میں کسی اور چیز پر کھڑا ہوا ہوں، نہ کہ سچائی پر۔
اسی طرح، وحدت ادیان کے وکیل یہ کہتے ہیں کہ جو لوگ وحدت ادیان کو نہیں مانتے، وہ یہ عقیدہ بنا لیتے ہیں کہ نجات (salvation) صرف اْن کے لیے ہے، دوسرے کے لیے نجات نہیں۔ بات سرتا سر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نجات تمام تر خدا کے دائرہ (domain) کی چیز ہے۔ نجات کا فیصلہ کرنے والا صرف خدا ہے، کوئی بھی انسان اس معاملے میں سرے سے فیصلہ کرنے کا مطلق کوئی حق نہیں رکھتا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جو شخص یا گروہ یہ سمجھ لے کہ ہم نجات یافتہ ہیں اور دوسرے لوگ نجات یافتہ نہیں، ایسے لوگ خود اپنے بارے میں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ وہ خود باطل پر ہیں۔
کسی بھی شخص یا گروہ کو یہ حق نہیں کہ جو فیصلہ آخرت میں خدا کی عدالت میں ہونے والا ہے، اس کا فیصلہ وہ اسی دنیا میں خدا کی طرف سے کر دے۔
وحدت ادیان کو ماننے والے اپنے نظریے کی تائید میں ایک بات یہ کہتے ہیں کہ مذہب کی اصل اطاعت ہے، نہ کہ کسی مذہبی گروہ سے وابستگی۔ یہ بات بجائے خود درست ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اطاعت کا ماڈل کیا ہے۔ کوئی شخص یہ نہیں کر سکتا کہ مذہبی کتاب سے لفظ اطاعت لے اور اس کا مفہوم خود اپنے ذہن سے متعین کرے۔ اس قسم کا استدلال ایک غیر سنجیدہ فعل ہے، وہ کوئی علمی استدلال نہیں۔ اس سلسلے میں جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، قرآن میں بلاشبہ اصل اہمیت اطاعت کو دی گئی ہے، لیکن اسی کے ساتھ قرآن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اطاعت کا ماڈل کیا ہے۔ یہ ماڈل اللہ کا رسول دوسرے لفظوں میں یہ کہ سنت کی شکل میں رسول کی زندگی کا جو نمونہ (model) مستند طور پر موجود ہے، وہی نمونہ ہمیشہ کے لیے اطاعت کا واحد ماڈل رہے گا۔ کسی کو یہ حق نہ ہوگا کہ وہ قرآن سے لفظ اطاعت لے اور اس کا عملی نمونہ بطور خود وضع کرے۔
قرآن میں دوسرے رسولوں کو بھی نمونے کے طور پر پیش کیا گیا ہے (6:90)۔ لیکن یہ خود قرآن کے معنی میں ہے، نہ کہ کسی شخص یا گروہ کے اپنے وضع کردہ معنی میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں جن رسولوں کے نام آئے ہیں، اور اُن کے جو نمونے خود قرآن میں مذکور ہیں، وہی مستند نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسرے پیغمبروں کی صرف وہی بات مستند طور پر قابل اختیار ہوگی جو قرآن کی تعلیمات سے مطابقت رکھنے والی ہو۔
حیدر آباد میں صدر اسلامی مرکز کا تلگو ترجمہ قرآن حسب ذیل پتے پر دستیاب ہے : Top Publishers, Hyd. #8-1-363/34, Aditya Nagar Colony Tolichowki, Hyderabad-500008 (A.P.)
Ph: 09246294664, E-Mail: aijazadil19@yahoo.com یہ ترجمہ گڈورڈ بکس (نئی دہلی) میں بھی دستیاب ہے۔