تاریخ کاربانی سفر
Al-Risala, October 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک آیت، معمولی لفظی فرق کے ساتھ، دو سورتوں میں آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمٍّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (61:8) یعنی وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کی روشنی کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
قرآن کی اس آیت کا خطاب محدود طور پر صرف قدیم مکہ یا قدیم مدینہ کے مخالفین سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق پوری انسانی تاریخ کے ربانی سفر سے ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے پچھلے ہزاروں سال کے دوران مختلف مقامات پر اپنے پیغمبر بھیجے، لیکن مخالفین نے اُن کے مشن کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔ اب اللہ نے تاریخ میں مداخلت کرتے ہوئے اِس مشن کا چارج خود لے لیا ہے۔ یہی مداخلت اِس بات کی ضمانت ہے کہ خدا کا یہ مشن اپنی آخری تکمیل تک پہنچے، کئی بھی طاقت اس کے سفر کو روکنے میں کامیاب نہ ہو۔
رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلاب آیا، وہ اسی فیصلۂ الہی کا اس انقلاب کا سب سے زیادہ انوکھا پہلو یہ تھا کہ وہ تقریباً 35 سال (644-610) کے اندر مکمل انقلاب کا یہ پہلو بے حد اہم ہے۔ تاریخ میں دوسرے جو انقلابات پیش آئے، وہ سب اپنی نوعیت کے اعتبار سے، سیاسی انقلابات (political revolutions) تھے، مگر اسلامی انقلاب اس کے برعکس، ایک نظریاتی انقلاب (ideological revolution) تھا۔ اس بنا پر ضروری تھا کہ وہ پہلی نسل (first generation) کے اندر مکمل ہو جائے۔ سیاسی انقلاب کو کوئی نسلوں میں مکمل کیا جا سکتا ہے، لیکن نظریاتی انقلاب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ یا تو پہلی نسل میں مکمل ہوگا، یا وہ سرے سے مکمل ہی نہ ہوگا۔ بنیادی طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے دو دور تھے۔ ایک تھا، فاؤنڈیشن پیریڈ (foundation period) اور دوسرا تھا، تو سیعی پیریڈ (expansion period)۔ تو سیعی پیریڈ کی
تکمیل بعد کے دور میں بھی ممکن ہے، لیکن فاؤنڈیشن پیریڈ کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلی نسل میں اپنی تکمیل تک پہنچ جائے۔
انسان کی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے پہلی نسل میں فاؤنڈیشن پیریڈ کی تکمیل اس عالم اسباب میں کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ یہ صرف اللہ کے لیے ممکن تھا اور اللہ نے خصوصی مداخلت کر کے ایسے حالات پیدا کیے کہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے یہ ممکن ہو جائے کہ وہ پہلی نسل میں اس انقلاب کو مکمل کر سکیں۔ یہ ایک ایسا استثنائی واقعہ تھا کہ پوری انسانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال موجود مورخین، اسلامی انقلاب کے اس استثنائی پہلو کا اعتراف کرتے ہیں، لیکن وہ اس کی توجیہہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مورخین مادی اسباب کی روشنی میں واقعات کی توجیہہ کرتے ہیں، جب کہ یہ واقعہ خدا کی برتر مداخلت کا نتیجہ تھا اور خدا کی برتر مداخلت ایک ایسا عامل (factor) ہے جس سے مورخین شعوری طور پر واقف نہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ کو جو انقلاب لانا مطلوب تھا، اس کو قرآن میں اتمام نور (61:8) کہا گیا ہے۔ ضروری تھا کہ یہ واقعہ پہلی نسل(first generation) کے اندر مکمل کیوں کہ فطرت کے قانون کے تحت ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ بعد کی نسلوں میں زوال شروع ہو جاتا ہے اور زوال یافتہ افراد اتمام نور کا کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے خصوصی منصوبے کے تحت ایک محدود مدت میں بہت سے انتظامات کیے، تاکہ پہلی نسل میں انقلاب کی تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے مختلف تدبیریں کی گئیں۔ مثلاً کعبہ کو تمام عرب قبائل کے بتوں کا مرکز بنا دیا گیا، تا کہ تمام قبائل کے افراد مکہ میں حاصل ہو جائیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے سال (570ء) میں یمن کے حاکم ابرہہ نے ہاتھیوں کی فوج کے ذریعے مکہ پر حملہ کیا تھا، تا کہ کعبہ کو ڈھادیا اگر ابرہہ کا منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو کعبہ کا وجود مٹ جاتا اور پیغمبر اسلام کو یہ موقع حاصل نہ ہوتا کہ وہ مکہ میں تمام عرب قبائل کے افراد کو یکجا طور پر پاسکیں۔ اُس زمانے میں قبیلہ قریش کو پورے عرب کی
ذہنی قیادت (intellectual leadership) کا مقام حاصل تھا۔ مکہ میں ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ وہاں کے تمام اعلیٰ ذہن پیغمبرِ اسلام کے ساتھی بن گئے۔ پھر مدینہ کے دونوں قبائل (اوس وخزرج) کے درمیان خوں ریز جنگ ہوئی۔ اس کے نتیجے میں دونوں قبائل بے حد کمزور ہو گئے۔ اس طرح پیغمبرِ اسلام کو یہ موقع ملا کہ وہ دس سال کے اندر پورے مدینے کو اسلام کے فولڈ میں لاسکیں۔ تمام قبائل کے بتوں کا مرکز بن جانے کی بنا پر عرب کے قبائل کعبہ کو پورے عرب کا مذہبی اور سیاسی مرکز سمجھتے تھے۔ چناں چہ جب مکہ فتح ہوا تو نہایت تیزی سے تمام عرب قبائل نے پیغمبرِ اسلام کی قیادت کو قبول کر لیا۔ اسی طرح اُس زمانے میں عرب کی سرحدوں پر ایک بڑا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن کی سورہ الروم (30) کے آغاز میں موجود ہے۔ وہ یہ کہ اُس زمانے میں عرب کی سرحدوں پر دو بڑے ایمپائر قائم تھے۔ ایک، ساسانی ایمپائر اور دوسرے، بازنتینی ایمپائر۔ عین اُس زمانے میں دونوں کے درمیان فوجی ٹکراؤ ہوا۔ پہلے ساسانی ایمپائر نے رومی ایمپائر کو تباہ کیا۔ اس کے بعد رومی بادشاہ نے اپنی طاقت کو دوبارہ مجتمع کر کے ساسانی ایمپائر پر حملہ کیا اور اس کو تباہ کر دیا۔ چناں چہ دونوں ایمپائر بہت زیادہ کمزور ہو گئے۔ اس طرح اصحابِ رسول کو یہ موقع مل گیا کہ وہ نہایت آسانی سے ایشیا اور افریقہ کے درمیان پھیلے ہوئے اس پورے علاقے کو اسلامی علاقے میں شامل کر سکیں۔