Al-Risala · October 2013

تاریخِ اسلام: ایک مطالعہ

Al-Risala, October 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ آپ کی مسلسل جدوجہد سے وہاں ایک ٹیم بنی جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں سے ساتویں صدی کے نصف اول میں ایک انقلاب آیا۔ مورخین اعتراف کرتے ہیں کہ یہ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا انقلاب تھا۔ مثلاً امریکا کے ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے 1978 میں شائع شدہ اپنی کتاب (100 The) میں لکھا ہے کہ محمد تاریخ کے تنہا شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے، مذہبی سطح پر بھی اور دنیوی سطح پر بھی:

Muhammad was the only man in history who was supremely successful on both, the religious and secular levels.

اسی طرح انڈیا کے ایک سیاسی لیڈر ایم این رائے (M. N. Roy) کی کتاب دی ہسٹاریکل رول آف اسلام (The Historical Role of Islam) ہے جو 1939 میں دہلی سے چھپی تھی۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ - اسلام کی توسیع تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے: The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (p. 4)

حال میں برطانیہ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے موضوع پر ایک انگریزی کتاب چھپی ہے۔ اُس کا نام یہ ہے:

The Prophet Muhammad: A Biography by Barnaby Rogerson, Little, Brown, UK 2003, p. 240 برطانی مصنف راجر سن نے اپنی اس کتاب میں لکھا ہے کہ - پیغمبر اسلام کو جو عظیم کامیابی حاصل ہوئی، اس کے لحاظ سے وہ بلا شبہ تاریخ کے سپر ہیرو (superhero) تھے۔ تاہم پیغمبر اسلام کی غیر معمولی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ ان کی یہ کامیابی محض اتفاقی (mere accidental) تھی (صفحہ 4)۔

سیکولر مبصرین عام طور پر اس طرح کے الفاظ بولتے ہیں۔ جس واقعہ کی توجیہ وہ معلوم اسباب کے تحت نہ کر سکیں، اُس کو وہ ’’اتفاق‘‘ کا نتیجہ قرار دے دیتے ہیں۔ مگر اتنا بڑا واقعہ جو پوری تاریخ میں واحد استثنا کی حیثیت رکھتا ہو، وہ محض اتفاق کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک خدائی منصوبہ (divine plan) تھا، جو رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے انجام پایا۔ اس کا ظہور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے زمانے میں ہوا اور خلافت راشدہ کے زمانے میں اس کی تکمیل ہوئی۔

اللہ کا یہ منصوبہ تھا کہ توحید کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے قدیم دور میں اللہ نے بہت سے پیغمبر بھیجے۔ مگر ان پیغمبروں کے ذریعے کوئی ٹیم نہیں بنی۔ اس لیے قدیم زمانے میں مطلوب انقلاب بر پا نہ ہو سکا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک نیا منصوبہ بنایا۔

اس منصوبے کے تحت حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا اس واقعے کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: رَبَّنَآ اِنِّيۡ اَسۡكَنۡتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيۡ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيۡ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ (14:37)۔ اس صحرائی ماحول میں لمبی مدت تک توالد وتناسل کے ذریعے ایک جان دار قوم تیار ہوئی۔ اسی قوم کے اندر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ پھر اسی قوم کے اندر کام کر کے وہ ٹیم بنی جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔

یہ پورا معاملہ ایک خدائی منصوبے کے تحت وجود میں آیا۔ مکہ میں مقدس کعبہ کی تعمیر اسی منصوبے کا ایک حصہ تھی۔ بعد کو سارے عرب میں شرک پھیل گیا۔ یہ قبائلی دور تھا۔ ہر قبیلے کا ایک الگ چناں چہ یہاں ایسے اسباب پیش آئے کہ کعبہ 360 بتوں کا مرکز بن گیا۔ یہ قدیم تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔ اس سبب سے یہ ممکن ہو گیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن کی اشاعت کے لیے سارے عرب میں سفر نہ کرنا پڑے، بلکہ مکہ ہی میں آپ کو تمام قبائل کے نمائندے حاصل ہو جائیں۔ کیوں کہ کعبہ میں تمام قبائل کے بتوں کی موجودگی کی بنا پر ایسا ہوتا تھا کہ مکہ میں مسلسل طور پر وہ چیز ہوتی رہتی تھی جس کو آج کل کی زبان میں گلِ عرب اجتماع (all Arab assembly) کہا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد بار بار ایسے واقعات پیش آئے جن کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ تیز رفتاری کے ساتھ اپنے مشن کی تکمیل کر سکیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت پر غور کیجیے۔ غزوہ بدر کی نسبت سے، قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُوا اَوْ يَكْبِتَهُمْ (3:127) یعنی تاکہ اللہ اہلِ کفر کے ایک حصے کو کاٹ لے یا وہ اُن کو ذلیل کر دے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں ”طَرَف“ کا لفظ حصۂ بہتر (better part) کے معنی میں ہے، یعنی اہلِ کفر کے بہتر حصے کو کاٹ کر جدا کر دینا اور ’يكبتهَم‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بقیہ حصہ کو ہلاک کر کے ختم کر دینا۔ ٹھیک یہی واقعہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا۔ پہلے کی دور کی

تیرہ سالہ دعوتی جدوجہد کے دوران مکہ کے صالح افراد کو ایمان کی توفیق ملی اور وہ اسلام قبول کر کے پیغمبر اسلام کے ساتھی بن گئے۔ قطع طرف کا یہی واقعہ ہے جس کا ذکر حضرت خالد بن الولید نے ان الفاظ میں کیا تھا: دخل الناس فی الإسلام، فلم يبق أحد به طعم (البيهقي : یعنی مکہ کے بہترین افراد اسلام میں داخل ہو گئے ۔ اب مکہ میں کوئی باذوق آدمی (man of taste) باقی نہیں رہا۔ یکبتہم کا لفظی مطلب ہے ذلیل کرنا۔ یہاں مراد یہ ہے کہ مکہ کے مخالفین جو چڑھائی کر کے ایک ہزار کی تعداد میں مدینہ آئے تھے، اُن کے 70 طاقت ور افراد قتل ہو گئے اور اُن کو ذلیل وخوار ہو کر مکہ واپس جانا پڑا۔

Printed page