Al-Risala · October 2013

عرب کا اسلامائزیشن

Al-Risala, October 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں جو کامیابی حاصل ہوئی، اس میں ایک بڑا دخل اُس واقعے کا ہے جس کو اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک انوکھی تدبیر تھی جس کو پوری تاریخ میں کسی نے استعمال نہیں کیا تھا۔ یہ مکمل طور پر ایک اجتہادی تدبیر تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن 610 عیسوی میں شروع کیا۔ یہ زمانہ جارحانہ شرک اور مذہبی عدم رواداری (religious intolerance) کا زمانہ تھا۔ اس بنا پر وہاں فریق ثانی کی طرف سے مسلسل طور پر ٹکراؤ اور جنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس طرح کے ماحول میں دعوت توحید کا کام پوری طرح نہیں ہو سکتا تھا۔ توحید کی آئڈیالوجی پیغمبر اسلام کے مشن کی سب سے بڑی طاقت تھی ، مگر طرفین کے درمیان تشدد کے ماحول کی بنا پر یہ موقع نہ تھا کہ یہ طاقت پوری طرح ظاہر ہو اور لوگوں کو مسخر کرے۔

اُس وقت اللہ کی خصوصی توفیق سے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی تدبیر کی جس کی کوئی نظیر تاریخ میں موجود نہ تھی۔ وہ تدبیر یہ تھی کہ فریق ثانی کے تمام مطالبات کو یک طرفہ طور پر مان لیا جائے، تا کہ فریقین کے درمیان معتدل ماحول قائم ہو جائے اور کسی رکاوٹ کے بغیر دعوت توحید کا کام انجام پا سکے۔ یہ تدبیر بلاشبہ ایک عظیم تدبیر تھی، اسی لیے اُس کو قرآن میں فتح مبین (48:1) کہا گیا ہے۔

صلح حدیبیہ کی اس تدبیر سے دو بڑے فائدے حاصل ہوئے۔ ایک ، یہ کہ صلح حدیبیہ سے پہلے فریقین کا مقابلہ میدان جنگ میں ہوتا تھا، اور جنگ کا طریقہ صرف مسئلے کو بڑھاتا ہے، وہ مسئلے کو کم نہیں صلح حدیبیہ کا یہ فائدہ ہوا کہ طرفین کا مقابلہ عقل اور فطرت کے میدان میں ہونے لگا، اور جب عقل اور فطرت کے میدان میں مقابلہ ہو تو توحید کی آئیڈیالوجی ہمیشہ غالب رہے گی۔ وہ عقل کو ایڈریس کرے گی اور انسان کی فطرت مسخر ہوتی چلی جائے گی۔ اسی کا یہ نتیجہ تاریخ نے دیکھا کہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد صرف دو سال کے اندر پیغمبر اسلام کے پیروؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی کہ صرف تعداد ہی مکہ کی پرامن فتح کے لیے کافی ہو گئی۔

صلح حدیبیہ کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ قریش مکہ کی طرف سے جنگ کا خطرہ باقی نہیں رہا۔ اب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنے مشن کو پورے عرب میں پھیلا سکیں۔ اس سے پہلے یہ واقعہ پیش آیا کہ پیغمبر اسلام کا دعوتی پیغام تمام عرب قبائل میں پھیل گیا تھا۔ عمومی طور پر لوگوں کے دلوں میں توحید کے لیے نرم گوشہ (soft corner) پیدا ہو چکا تھا، لیکن قریش سے حالت جنگ قائم ہونے کی بنا پر پیغمبر اسلام کو یہ موقع نہیں مل رہا تھا کہ آپ کھلے طور پر اس دعوتی امکان کو استعمال کریں۔ نے یہ کیا کہ مدینہ سے تمام عرب قبائل کی طرف وفود بھیجنے شروع کیے۔ وفود کا یہ طریقہ بھی قدیم زمانے میں ایک نیا طریقہ تھا۔ یہ طریقہ کامیاب ہوا اور بہت کم مدت میں پورا عرب اسلامائز ہو گیا۔ پیغمبر اسلام کا مشن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انسان کی لمبی تاریخ کی ایک درمیانی کڑی کی حیثیت رکھتے آپ سے پہلے کثیر تعداد میں خدا کے پیغمبر آئے۔ ان پیغمبروں کے زمانے میں بلاشبہ توحید کا فکری اظہار ہوا، لیکن توحید کی بنیاد پر عملاً کوئی فکری انقلاب برپانہ ہو سکا۔ اسی بنا پر پچھلے پیغمبروں کا لایا ہوا دین محفوظ بھی نہ رہا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے اللہ نے ایک نئی منصوبہ بندی کی۔ وہ منصوبہ بندی یہ تھی کہ صحرائی ماحول میں ایک نئی نسل پیدا کی جائے جس کے افراد

اپنی اصل فطرت پر قائم ہوں۔ اسی نسل میں پیغمبر اسلام کا ظہور ہوا اور آپ کی دعوتی جدوجہد کے ذریعے اسی نسل کے اندر سے وہ افراد پیدا ہوئے جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے تاریخ میں جو انقلاب آیا، اُس کے دو پہلو تھے ۔ یہ کہ اس کے ذریعے خدا کی کتاب محفوظ ہوگئی۔ پیغمبر کے ذریعے انسانی زندگی کا ایک مستند ماڈل (authentic model) تیار ہوگیا ۔ خدا کے دین کی ایک مستند تاریخ بن گئی، جب کہ اس سے پہلے خدا کے دین کی کوئی مستند تاریخ نہیں بنی تھی، وغیرہ۔

رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے جو عظیم انقلاب آیا، اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا طاقت ور عمل (strong porcess) جاری ہوا جو آخر کار اُن تمام ترقیوں تک پہنچا جن کو عام طور پر اہلِ مغرب کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ تمام ترقیاں خدا کے دین کے موافق ترقیاں تھیں۔ ان ترقیوں کے ذریعے انسان کو شکر کا اعلیٰ فریم ورک ملا۔ ترقیوں کے ذریعے معرفت کے آفاقی دروازے کھلے۔ ان ترقیوں کے ذریعے حق کی عالمی اشاعت کے ذرائع حاصل ہوئے، وغیرہ۔

Printed page