Al-Risala · October 2013

غیر خدا پرست انسان کی تائید

Al-Risala, October 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اظہار دین اور اتمامِ نور کا جو خدائی منصوبہ تھا، وہ ایک عظیم عالمی منصوبہ تھا۔ وہ اتنا بڑا منصوبہ تھا کہ صرف اہلِ ایمان کی مدد سے وہ انجام نہیں پاسکتا اللہ تعالیٰ نے اس انقلاب کو یقینی بنانے کے لیے یہ کیا کہ اہلِ ایمان کے علاوہ، دوسرے گروہوں سے تائید (support) کا کام لیا۔ اسلام کی تاریخ میں اس طرح کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ یہاں وضاحت کے لیے صرف دو مثالیں درج کی جاتی ہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت 610 عیسوی میں مکہ میں ہوئی ۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، یہاں تائید کا ایک انوکھا معاملہ پیش آیا۔ مکہ میں قریش کے نام سے ایک قبیلہ تھا جو کعبہ کا متولی تھا۔ نے اپنی سیادت کی توسیع کے لیے یہ کیا کہ عرب کی سرزمین میں موجود تمام قبائل کے بت لاکر کعبہ کی

عمارت میں رکھ دیے ۔ اس طرح دھیرے دھیرے کعبہ تمام عرب قبائل کا ایک عبادتی مرکز بن گیا ۔ قبیلے کے لوگ اپنے بت کی زیارت اور پرستش کے لیے مکہ آنے لگے۔ اس طرح مکہ نے تمام عرب قبائل کے لیے مقام اجتماع کی حیثیت اختیار کرلی۔ تمام عرب قبائل کے لوگ مسلسل طور پر مکہ آنے لگے۔ طرح پیغمبر اسلام کو یہ موقع مل گیا کہ وہ مکہ میں رہتے ہوئے تمام عرب قبائل میں اپنا مشن پھیلا سکیں ۔ قریش اُس وقت ایک مشرک قبیلے کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اُن سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے موحدانہ مشن کی تائید کا کام لیا۔

Printed page