اہل مغرب کے ذریعے تائید
Al-Risala, October 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں غیر اہل ایمان کی تائید کا دوسرا بڑا واقعہ وہ ہے جو بعد کے زمانے میں پیش آیا۔ یہ اہل مغرب کے ذریعے تائید فراہم کرنے کا واقعہ تھا۔ یہ واقعہ مغرب کی نشأۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد پیش آیا۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (14:34)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو اس کی ضرورت کی تمام چیزیں دے دیں ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں انسان کو یہ اشیاء ضرورت صرف محدود طور پر حاصل ہوئی تھیں۔ جو چیزیں دنیا میں فطری طور پر آغاز تخلیق سے پائی جاتی تھیں، صرف اُن چیزوں تک انسان کی رسائی ہوسکی۔ سواری کے لیے گھوڑا، وغیرہ۔ دوسری چیزیں وہ تھیں جن کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی کی دریافت قدیم زمانے میں انسان اس ٹیکنالوجی کو دریافت نہ کر سکا، اس لیے وہ اس دوسری قسم کی اشیاء ضرورت کو حاصل کرنے سے محروم رہا۔
ٹیکنالوجی صرف مغربی تہذیب کے ذریعے دریافت ہوئی اور پھر ضرورت کی بے شمار نئی چیزیں انسان کے لیے قابل حصول ہوگئیں۔ یہ اشیاء ضرورت صرف اشیاء ضرورت نہ تھیں، بلکہ وہ شکر خداوندی کے نئے اور عظیم تر آئٹم کی حیثیت رکھتی تھیں۔
اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر کا مشن سارے اہل عالم کے لیے ہے (25:1)۔
لیکن پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے زمانے میں مشن کا یہ عالمی ابلاغ عملاً ممکن نہ ہو سکا۔ کیوں کہ اس کے لیے عالمی کمیونیکیشن کی ضرورت تھی اور قدیم زمانے میں یہ عالمی کمیونیکیشن وجود میں نہیں آیا تھا۔ کمیونیکیشن کے ذرائع موجودہ زمانے میں پہلی بار اہل مغرب نے دریافت کیے۔ یہ اہل مغرب کی طرف سے پیغمبرانہ مشن کی خصوصی تائید کا ایک معاملہ تھا۔
اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آفاق اور انفس میں اللہ کی آیات (signs) چھپی ہوئی یہ آیات ظاہر ہو کر انسان کے لیے تبیین حق کا ذریعہ بنیں گی۔ یہ گویا کائناتی سطح پر اعلیٰ معرفت کے ظہور کی پیشگی خبر تھی، مگر قدیم زمانے میں اس کا ظہور نہ ہو سکا۔ اس کا ظہور پہلی بار موجودہ زمانے میں اہل مغرب کی سائنسی دریافتوں کے ذریعے ہوا۔ یہ بھی غیر اہل ایمان کی طرف سے پیغمبر اسلام کے مشن کی تائید کا ایک اہم معاملہ تھا۔
یہ خارجی تائید اپنے طریقے کے اعتبار سے، عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں آؤٹ سورسنگ (outsourcing) کہا جاتا ہے۔ پیغمبرانہ مشن کے لیے یہ خارجی تائید کوئی اتفاقی معاملہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک ایسا معاملہ تھا جو اللہ کی طرف سے پیشگی طور پر مقدر کر دیا گیا تھا۔ اس حقیقت کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحيح البخاري، رقم الحديث: 3062)۔ اس حدیث میں موید کے لیے فاجر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فاجر کا مطلب ہے— بدکردار (sinner)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی طرف سے پیغمبر کے مشن کی خارجی تائید کا جو کام ہے، وہ صرف مخلصین اور مومنین کے ذریعے نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایسے افراد کے ذریعے بھی ہوگا جو اخلاقی اعتبار سے بدکردار اور گناہ گار ہوں گے۔ مذکورہ دونوں واقعات پیغمبرانہ مشن کے لیے عظیم تائیدی واقعات تھے، مگر یہ دونوں واقعات اہل ایمان کی تائید سے پیش نہیں آئے، بلکہ وہ ایسے لوگوں کے ذریعے پیش آئے جو فقہ اسلامی کی اصطلاح میں "مشرک اور فاجر" تھے۔ فاجر شخص کے ذریعے تائیدِ دین کے یہ واقعات صرف تائید کے واقعات نہیں ہیں، بلکہ اسی کے ساتھ وہ دلیل نبوت بھی ہیں۔