نورِ ہدایت کا اتمام
Al-Risala, October 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبرانہ مشن کے سلسلے میں ایک منصوبہ الہی کو اظہارِ دین کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اظہارِ دین اور اتمامِ نور کی آیت قرآن کی تین سورتوں میں آئی ہے۔ سورۃ الصف کے الفاظ یہ ہیں: يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنے نور کا اتمام کر کے رہے گا، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ، تاکہ وہ اُس کو سب دینوں پر غالب کر دے، خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ قرآن کی اس آیت میں اظہارِ دین سے کچھ لوگ سیاسی غلبہ مراد لیتے ہیں، مگر آیت کے الفاظ سے اس مفہوم کا کوئی تعلق نہیں۔ قرآن کی آیت میں جو لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ ليظهره علی الدين كله ہے، نہ کہ ليظهره علی الأرض کلّہا یعنی اس آیت میں جس غلبہ کا ذکر ہے، وہ زمین پر ہونے والا غلبہ نہیں ہے، بلکہ وہ دین یا ادیان پر ہونے والا غلبہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس سے مراد فکری اور نظریاتی غلبہ ہے، نہ کہ سیاسی اور حکومتی غلبہ۔ دوسرے لفظوں میں، اس سے مراد غلبہ بہ مقابلہ آئیڈیالوجی ہے، نہ کہ غلبہ بہ مقابلہ سیاسی اقتدار۔ اسی طرح قرآن کی مذکورہ آیت میں متم نورہ کا لفظ آیا ہے۔ قرآن میں متم حُکمہ‘ کا لفظ نہیں آیا ہے، یعنی اس سے مراد نور کا اتمام ہے، نہ کہ حکومت کا اتمام۔ اس اتمام کا مطلب یہ نہیں کہ ابھی مسلمانوں کی حکومت مکہ مدینہ میں قائم ہوئی
ہے، آئندہ ان کی حکومت سارے عالم میں قائم ہو جائے گی۔
پیغمبر کا مشن اصلاً غیر سیاسی مشن (non-political mission) ہوتا ہے۔ مشن کو بتانے کے لیے قرآن میں جو الفاظ آئے ہیں، اُن میں سے کوئی بھی لفظ سیاسی لفظ نہیں۔ انذار، تبشیر، ابلاغ، دعوت، شہادت، وغیرہ۔ ایسی حالت میں پیغمبر کے مشن کے اظہار یا اتمام کو بتانے کے لیے وہی تعبیر درست ہو سکتی ہے جو پیغمبرانہ مشن کی روح کے مطابق ہو، اور وہ بلاشبہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے عالمی سطح پر خدا کے پیغام کی توسیع واشاعت۔
پیغمبر کے مشن کی سیاسی تعبیر کرنا یا اس کو حکومت کی اصطلاحات میں بیان کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کی تردید کے ہم معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان اور دوسرے انسانوں کے درمیان جو مساوات (equation) ہے، وہ حاکم اور محکوم کی مساوات ہے، جب کہ صحیح تصور کے مطابق، اہل ایمان اور دوسرے انسانوں کے درمیان جو مساوات ہے، وہ داعی اور مدعو کی مساوات ہے، نہ کہ حاکم اور محکوم کی مساوات۔ اس تصور کے مطابق، پیغمبر کے مشن کا اظہار اور اتمام بہ اعتبار "نور" متعین کیا جائے گا، نہ کہ بہ اعتبار حکومت، اور وہ یہ ہے کہ پیغمبر کے مشن کے ساتھ ایسے اسباب و وسائل جمع ہوں جو پیغمبر کے مشن کی عمومی اشاعت میں تائید کا کام دیں۔ ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبرانہ مشن کی اشاعت کے لیے صرف روایتی وسائل موجود تھے۔ اس لیے ایسا ہوا کہ اگرچہ پیغمبر کا مشن ایک عالمی مشن تھا، لیکن وہ وسائل کی محدودیت کی بنا پر اپنے ابتدائی دور میں پورے عالم تک پہنچ نہ سکا۔
قرآن کی مذکورہ آیت (61:8) ایک اعتبار سے پیشین گوئی ہے۔ اس آیت میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ مستقبل میں ایسے حالات پیدا کرے گا، جب کہ تبلیغ قرآن کا عالمی نشانہ پورا کیا رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں جو انقلاب آیا، اس کے ذریعے دراصل تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کرنا تھا۔ یہ پراسس نہایت طاقت ور صورت میں جاری ہوا، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنے نقطہ انتہا (culmination) تک پہنچ گیا۔
موجودہ زمانے کو آج آف کمیونیکیشن (age of communication) کہا جاتا ہے۔
آج آف کمیونیکیشن کیا ہے۔ یہ دراصل دعوت بذریعہ روایتی ذرائع کو دعوت بذریعہ ٹیکنالوجی کے دور میں پہنچانا موجودہ زمانے میں کمیونیکیشن کے جو ذرائع پیدا ہوئے ہیں، انھوں نے دعوت بذریعہ روایتی ذرائع کو دعوت بذریعہ کمیونیکیشن کے دور میں پہنچا دیا ہے۔ اب یہ پوری طرح ممکن ہو گیا ہے کہ پیغمبرانہ دعوت کی اشاعت عالمی سطح پر انجام دی جائے۔ جدید ٹیکنالوجی اور دوسرے معاون حالات کے نتیجے میں آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کسی سیاسی اقتدار یا کسی پوٹیکل ایمپائر کے بغیر غیر سیاسی دائرے میں اسلامی دعوت کا ایک عالمی ایمپائر قائم کیا جاسکے۔ اس ایمپائر کو غیر سیاسی دعوہ ایمپائر (non-political dawah empire) کہا جا سکتا ہے۔ جدید کمیونیکیشن اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو استعمال کر کے عالمی دعوت کی اُس پیشین گوئی کو واقعہ بنایا جاسکے جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: تَبٰرَکَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔