ربانی تہذیب کا ظہور
Al-Risala, October 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے تاریخ میں جو انقلاب آیا، وہ محدود طور پر صرف ایک سیاسی واقعہ نہ تھا۔ اُس کا تعلق پوری تاریخ بشری سے تھا۔ جس چیز کو قرآن میں ”اتمام نور‘‘ کہا گیا ہے، وہ دوسرے لفظوں میں تہذیب ربانی (divine civilization) کو قائم کرنے کا معاملہ تھا۔ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ اس کی کتاب (قرآن) محفوظ ہو جائے۔ تاریخ میں ایسے انقلابات ظہور میں آئیں جن کے نتیجے میں دنیا میں پرنٹنگ پریس کا دور آئے۔ فطرت میں چھپے ہوئے راز منکشَف ہوں، تاکہ انسان کو علمی سطح پر خالق کی معرفت حاصل ہو۔ کمیونیکیشن کے ذرائع دریافت ہو کر انسان کے استعمال میں آسکیں۔ اسی طرح یہ ہو کہ دنیا میں مذہبی آزادی کا دور آئے۔ دین حق کی عالمی اشاعت ممکن ہو جائے۔ کے تمام چھپے ہوئے خزانوں پر انسان کو دسترس حاصل ہو جائے، وغیرہ۔
اس پورے معاملے کو تہذیب ربانی کے ظہور سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے یہی انقلابی واقعہ پیش آیا اور فطرت کے قانون کے مطابق، مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اکیسویں صدی تک پہنچا جو اس کی تکمیل کا مرحلہ ہے۔ تاہم تکمیل کا یہ مرحلہ بہ اعتبار
امکان ہے، نہ کہ بہ اعتبار واقعہ۔ ربانی تہذیب کیا ہے، وہ خدا کا قائم کردہ ایک بامعنی تسلسل ہے جو کسی انقطاع کے بغیر تاریخ انسانی میں مسلسل طور پر جاری ہے۔ اب اہل اسلام کا یہ فرض ہے کہ وہ تاریخ کے اشارے کو سمجھیں، وہ پیدا شدہ مواقع کو استعمال کر کے دین توحید کو پر امن انداز میں تمام عالم تک پہنچا دیں۔ یہی پیغمبرانہ مشن کی وہ تکمیل ہے جس کی پیشین گوئی حدیث رسول میں کی گئی تھی۔ اس عالمی رول کو ادا کرنے کی صرف ایک ہی شرط ہے، وہ یہ کہ اہل اسلام قوموں کے خلاف، نفرت اور تشدد کے کلچر کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں اور کسی شرط کے بغیر پر امن دعوتی کلچر کو اختیار کر لیں۔ مراٹھی زبان میں صدر اسلامی مرکز کے دعوتی پمفلٹ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: 1414/1A, Trio Chambers Beside Renuka Swarup High School, Sandashiv Peth, Pune- 411030 Ph: (020) 24498765, E-Mail: info@chausbooks.com ہندی داں طبقے کے لئے ایک قیمتی تحفہ "پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کا جیون"