خدا کا وجود اور سائنس
Al-Risala, October 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
آئن اسٹائن کے بارے میں لوگوں کے درمیان کنفیوژن (confusion) پایا جاتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ آئن اسٹائن کا کیس منکر خدا (atheist) کا کیس تھا۔ کچھ دوسرے لوگ اس کے برعکس رائے رکھتے ہیں۔ مگر آئن اسٹائن کے مختلف بیانات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آئن اسٹائن منکر خدا نہیں تھا، بلکہ وہ خدا کے وجود کے بارے میں شک کی کیفیت میں مبتلا تھا۔ 1945 میں امریکی بحریہ کے ایک جونیئر افسر گائے ریز (Guy Raner) نے خط کے ذریعہ آئن اسٹائن سے سوال کیا تھا کہ ۔ کیا آپ ڈکشنری کے مفہوم کے اعتبار سے، منکر خدا ہیں، یعنی وہ آدمی جو خدا کے وجود میں عقیدہ نہیں رکھتا۔ اس کے جواب میں آئن اسٹائن نے لکھا کہ آپ مجھ کو لا ادریہ کہہ سکتے ہیں، مگر میں پروفیشنل قسم کے منکر خدا سے اتفاق نہیں رکھتا: In 1997, Skeptic, a hard unbelief science magazine, published for the first time a series of letters Einstein exchanged in 1945 with a junior officer in the US navy named Guy Raner on the same topic. Raner wanted to know if it was true that Einstein converted from atheism to theism when he was confronted by a Jesuit priest with the argument that a design demands a designer and since the universe is a design there must be a designer. Einstein wrote back that he had never talked to a Jesuit priest in his life but that from the viewpoint of such a person, he was and would always be an atheist. He added it was misleading to use anthropomorphical concepts in dealing with things outside the human sphere and that we had to admire in humility the beautiful harmony of the structure of this world as far as we could grasp it. But Raner persisted, "Are you from the viewpoint of the dictionary", he wrote back, "an atheist, one who disbelieves in the existence of a God, or a Supreme Being." To this Einstein replied: "You
عقیدۂ خدا کے بارے میں آئن اسٹائن کا جو موقف ہے، وہی موقف تقریباً سائنس دانوں کا ہے، خدا سائنسی مطالعہ (scientific study) کا موضوع نہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ سائنس داں خدا کا انکار نہیں کرتے، وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ لا ادریہ (agnostic) بتاتے ہیں۔ یعنی ایک ایسا موقف جب کہ انسان نہ انکار کرنے کی پوزیشن میں ہو اور نہ اقرار کرنے کی پوزیشن میں۔ یہ صحیح ہے کہ سائنس کے مطالعے کا موضوع مادی دنیا (material world) ہے، مگر مادی دنیا کیا ہے، وہ خالق کی تخلیق (creation) ہے، اس لیے سائنس کا مطالعہ بالواسطہ طور پر خالق کی تخلیق کا مطالعہ بن جاتا ہے۔ ایک سائنس داں خالق کے عقیدے کا انکار کر سکتا ہے، لیکن تخلیقات میں خالق کی جو نشانیاں (signs) موجود ہیں، اُن کا انکار ممکن نہیں۔
اصل یہ ہے کہ سائنس نے جس مادی دنیا (physical world) کو دریافت کیا ہے، اس میں حیرت انگیز طور پر ایسی حقیقتیں پائی جاتی ہیں جو اپنی نوعیت میں غیر مادی ہیں۔ ڈیزائن، ذہانت اور با مقصد پلاننگ، وغیرہ۔ مادی دنیا کی نوعیت کے بارے میں یہ دریافت گویا خالق کے وجود کی بالواسطہ شہادت ہے۔
خدا کے وجود کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے ایک سائنسی طریقہ یہاں قابل انطباق (applicable) ہے، وہ یہ کہ یہ دیکھا جائے کہ سائنس کی دریافت کردہ دنیا کس نظریے کی تصدیق کر رہی ہے، انکارِ خدا کے نظریے کی تصدیق یا اقرارِ خدا کے نظریے کی تصدیق۔ اصول استدلال کو سائنس میں ویری فیکیشن ازم (verificationism) کہا جاتا ہے۔ سائنس میں استدلال کا ایک اصول ہے، جس کو اصول مطابقت (principle of compatibility) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نظریہ جو بذاتِ خود قابلِ مشاہدہ نہ ہو، لیکن وہ مشاہدہ کے
ذریعے دریافت کردہ معلومات سے مطابقت رکھتا ہو، تو اس بالواسطہ شہادت کی بنا پر اس نظریے کو حقیقت کا درجہ دے دیا جائے گا۔ جس نظریے کے حق میں اس قسم کی مطابقت موجود ہو، اس کو بالواسطہ تصدیق کی بنا پر بطورِ حقیقت تسلیم کر لیا جائے گا۔ سائنس کے اس اصولِ استدلال کو اگر عقیدۂ خدا کے معاملے میں منطبق کیا جائے تو اصولی طور پر خدا کا عقیدہ ایک ثابت شدہ عقیدہ بن جاتا ہے۔ جو سائنس داں اپنے کیس کو لا ادریہ (agnosticism) کا کیس بتاتے ہیں، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر فرار کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وہ خود اپنے علم کے مطابق، خدا کا انکار نہیں کر سکتے، وہ کہہ دیتے ہیں کہ ان کا کیس لا ادریہ (agnostic) کا کیس ہے۔