Al-Risala · October 2013

عقیدہ خدا اور سائنس

Al-Risala, October 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

خالص سائنسی نقطہ نظر کے مطابق، خدا کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں۔ سائنس نے اپنے طریقِ مطالعہ کے ذریعے جس چیز کو دریافت کیا ہے، وہ ہے الیکٹران (electron) اور نیوٹران (neutron) اور پروٹون (proton)۔ مگر اسی کے ساتھ یہ واقعہ ہے کہ اب تک کسی سائنس داں نے الیکٹرانس اور نیوٹرانس اور پروٹانس کو نہیں دیکھا ہے، نہ آنکھ سے اور نہ خوردبین سے، پھر سائنس داں اُن کے وجود پر یقین کیوں رکھتے ہیں۔ سائنس داں کے پاس اس کا جواب یہ ہے کہ اگر چہ ہم اُن کو براہِ راست نہیں دیکھتے، لیکن ہم اُن کے اثرات (effects) کو دیکھ رہے ہیں:

Though we cannot see them, we can see their effects. مزید مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف کاز اینڈ ایفیکٹ (cause and effect) کا مسئلہ نہیں اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خود سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ کائنات میں اعلیٰ درجے کی ذہانت (intelligence) ہے۔ کائنات میں اعلیٰ درجے کی ہم آہنگی (harmony) ہے۔ کائنات میں اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی (planning) ہے۔ اس بات کو ٹاپ کے سائنس دانوں نے تسلیم کیا ہے۔ مثلاً جیمس جینز، آرتھر ایڈنگٹن، البرٹ آئن اسٹائن، ڈیوڈ فوسچر (David Foster) اور فریڈ ہائل (Fred Hoyle)، وغیرہ۔ اب یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ، ایک سائنس داں کے الفاظ میں،

کائنات کی جنس، ذہن (mind-stuff) ہے:

Molecular biology has conclusively proved that the “matter” of organic life, our very flesh, really is mind-stuff. عقیدہ خدا اور سائنس کے معاملے میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ مذہب میں جس خدا کو بطور عقیدہ پیش کیا گیا تھا، وہ اگرچہ سائنس کا براہ راست موضوع نہیں، لیکن سائنس کی دریافتیں بالواسطہ طور پر عقیدہ خدا کی علمی تصدیق (affirmation) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سائنس نے خدا کے عقیدے کو ثابت نہیں کیا ہے، البتہ یہ کہنا درست ہے کہ سائنس نے عقیدہ خدا کے ثبوت کا ڈیٹا فراہم کر دیا ہے۔ سائنس کے اسٹینڈرڈ ماڈل میں ایک چیز مسنگ لنک (missing link) کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ ماڈل فعل (action) کو بتاتا تھا، مگر وہ فاعل (actor) کو نہیں بتاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں، قرآن کائنات کا جو ماڈل دے رہا ہے، اس میں فعل اور فاعل دونوں موجود ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن میں سبب (cause) کے ساتھ مسبب (causative factor) کو بھی بتایا گیا ہے۔ سائنس جب فعل (ذہانت) کی تصدیق کر رہی ہے تو منطقی طور پر اس کا جواز نہیں کہ وہ فاعل (ذہن) کی تصدیق نہ کرے۔ خدا کا وجود البرٹ آئن اسٹائن (Albert Einstein) اگرچہ ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوا تھا، لیکن سائنسی مطالعے کے بعد وہ خدا کے وجود کے بارے میں تشکیک میں مبتلا ہو گیا۔ اپنی وفات سے ایک سال پہلے 3 جنوری 1954 کو اس نے ایک اسرائیلی فلسفی ایرک (Eric B. Gutkind) کو جرمن زبان میں ایک خط لکھا۔ اس خط کا ایک جملہ یہ تھا کہ ۔ خدا کا لفظ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کی ایک پیدا وار ہے:

The word God was nothing more than the expression and product of human weaknesses. آئن اسٹائن نے جس چیز کو ’انسانی کمزوری‘ بتایا ہے، وہ کمزوری نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی ایک اعلیٰ خصوصیت ہے۔ اس خصوصی کو درست طور پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان ایک

تو جیہہ طلب حیوان (explanation-seeking animal) ہے۔ انسان کی یہی خصوصیت تمام علمی ترقیوں کی بنیاد ہے۔ اسی خصوصیت کی بنا پر انسان چیزوں کی توجیہہ تلاش کرتا ہے اور پھر وہ بڑی بڑی ترقیوں تک پہنچتا ہے۔ انسان کے اندر اگر یہ خصوصیت نہ ہوتی تو انسانی تہذیب (human civilization) پوری کی پوری غیر دریافت شدہ حالت میں پڑی رہتی۔ خود آئن اسٹائن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اپنی عمر کے آخری 30 سال کے دوران وہ ایک سوال کا سائنسی جواب پانے کی کوشش کرتا رہا، مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ یہ سوال آئن اسٹائن کے الفاظ میں، یونی فائنڈ فیلڈ تھیوری (unified field theory) کی دریافت ہے۔ سائنسی اعتبار سے یہ سوال اتنا زیادہ اہم ہے کہ آج وہ تمام نظریاتی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اب اس سوال کو عام طور پر تھیوری آف ایوری تھنگ (Theory of Everything) کہا جاتا ہے۔ یہ ’تھیوری آف ایوری تھنگ‘ کیا ہے۔ یہ دراصل ایک ایسا ریاضیاتی فارمولا دریافت کرنا ہے جو تمام کائناتی مظاہر کی سائنسی توجیہہ کر سکے۔ تھیوری آف ایوری تھنگ کا مطلب ہے: Theory that explains everything. ایک سائنسی ادارہ (European Organization for Nuclear Research)

کے تحت سوئزر لینڈ میں ایک پروجیکٹ قائم کیا گیا۔ اس کا نام یہ تھا— لارج ہیڈرون کولائڈر (Large Hadron Collider)— یہ پروجیکٹ 1998 میں قائم کیا گیا۔ اس پروجیکٹ پر ایک سو ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ اس میں دنیا کے ایک سو ملک اور دس ہزار سائنس دانوں اور انجینئروں کا تعاون اگرچہ یہ پروجیکٹ کامیاب نہ ہوسکا، تاہم اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ ’تھیوری آف ایوری تھنگ‘ کو دریافت کیا جائے۔

’تھیوری آف ایوری تھنگ‘، یا زیادہ درست طور پر، یکسپینیشن آف ایوری تھنگ کی تلاش پر تقریباً 90 سال گزر چکے ہیں، مگر اس معاملے میں سائنس دانوں کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مظاہر کائنات کی تو جیہہ خدا کے وجود کو مان کر حاصل ہوتی ہے۔ کوئی ریاضیاتی فارمولا کبھی اس کا

جواب نہیں بن سکتا۔ ریاضیاتی فارمولے میں اِس سوال کا جواب تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے پیاس کو بجھانے کے لیے پانی کے سوا کسی اور چیز کو اس کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرنا۔ سائنس اور عقیدہ خدا 1927 میں بیلجیم کے ایک سائنس داں جار جز لیمیٹری (Georges Lemaitre) نے بگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ پیش کیا۔ اس نظریے پر مزید تحقیق ہوتی رہی، یہاں تک کہ اس کی حیثیت ایک مسلمہ واقعہ کی ہوگئی۔ آخر کار 1965 میں بیگ گراؤنڈ ریڈی ایشن (background radiation) کی دریافت ہوئی۔ اِس سے معلوم ہوا کہ کائنات کے بالائی خلا میں لہر دار سطح (ripples) پائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینگ کی شکل میں ہونے والے انفجار کی باقیات ہیں۔ لہروں کو دیکھ کر ایک امریکی سائنس داں جوئیل پرائَمیک (Joel Primack) نے کہا تھا کہ یہ لہریں خدا کے ہاتھ کی تحریر ہیں:

The ripples are no less than the handwriting of God. (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب ”عظمتِ اسلام“، صفحہ 33) جارج اسموٹ 1945 میں پیدا ہوا۔ وہ ایک امریکی سائنس داں ہے۔ 2006 میں فزکس کا نوبل پرائز حاصل کیا۔ یہ انعام اُن کو ’کاسمک بیک گراؤنڈ ایکسپلورر‘ کے لیے کام کرنے پر دیا گیا۔ 1992 میں جارج اسموٹ نے یہ اعلان کیا کہ بالائی خلا میں لہر دار سطحیں پائی جاتی ہیں ۔ یہ بگ بینگ کی باقیات ہیں۔ اُس وقت جارج اسموٹ نے اپنا تاثر ان الفاظ میں بیان کیا تھا— یہ خدا کے چہرے کو دیکھنے کے مانند ہے: George Fitzgerald Smoot III (born February 20,1945) is an American astrophysicist, cosmologist. He won the Nobel Prize in Physics in 2006 for his work on the Cosmic Background Explorer. In 1992 when George Smoot announced the discovery of ripples in the heat radiation still arriving from the Big Bang, he said it was "like seeing the face of God". (God For The 21st Century, Templeton Press, May 2000, 204 pages)

Printed page