Al-Risala · October 2013

نفسیاتی مسئلہ

Al-Risala, October 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر آپ کو کوئی جسمانی بیماری ہو جائے تو اس کے لیے آپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ جسمانی بیماری کا علاج ڈاکٹر کے پاس ہوتا ہے، لیکن بے چینی یا اضطراب (anxiety) اس قسم کی کوئی بیماری نہیں۔ اضطراب ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ اضطراب کا علاج آدمی کو خود کرنا چاہیے۔ دوسرا شخص آپ کے اضطراب کا علاج نہیں کر سکتا۔

اضطراب کا سبب ہمیشہ بے بنیاد اندیشہ ہوتا ہے۔ کبھی ماضی میں کسی کھوئی ہوئی چیز کا غم اور کبھی مستقبل میں کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آجانے کا اندیشہ۔ اضطراب کا سبب اکثر یہی دو چیزیں ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں لوگ ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔

یہ دونوں چیزیں ہمیشہ سوچ (thinking) کی سطح پر پیدا ہوتی ہیں اور سوچ کی سطح پر ہی ان کا علاج ممکن ہوتا ہے۔ اضطراب کا علاج کسی خارجی کلینک میں نہیں، اضطراب کا علاج خود اُس شخص کے ذہن میں ہے جو اضطراب کا شکار ہوا ہے۔

اضطراب کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے اور وہ ہے حقیقت پسندانہ سوچ حقیقت پسندانہ سوچ کے فقدان سے آدمی اضطراب میں مبتلا ہوتا ہے، اور حقیقت پسندانہ سوچ ہر قسم کے اضطراب کا خاتمہ کر دینے والی ہے۔ غیر حقیقت پسند انسان ہمیشہ مفروضات میں جیتا ہے، حقیقت پسند انسان وہ ہے جو حقائق میں جینے والا ہو۔ غیر حقیقت پسندانہ سوچ آدمی کو موہوم قسم کی پریشانی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ مقابلے میں، حقیقت پسندانہ سوچ آدمی کو موہوم قسم کی پریشانی سے باہر لاتی ہے۔ غیر حقیقت پسندانہ سوچ والا آدمی صرف اپنے جذبات کو جانتا ہے، اور حقیقت پسندانہ سوچ والا آدمی خارجی حقیقتوں کو جان لیتا ہے۔ غیر حقیقت پسندانہ سوچ آدمی کے لیے قاتل ہے اور حقیقت پسندانہ سوچ آدمی کو زندگی عطا کرنے والی ہے۔

Printed page