قرآن ایک جامع ہدایت
Al-Risala, November 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ النحل میں قرآن کی ایک خصوصیت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ (16:89) یعنی ہم نے تم پر الکتاب اتاری ہے جس میں ہر چیز کا کھلا بیان ہے۔ اور ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے فرماں برداروں کے لیے۔
"تبیاناً لکل شیء" کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے۔ مقصد قرآن کی نسبت سے ہر چیز کا بیان۔ اس سے مراد عام انسانی فہرست نہیں ہے، بلکہ اس سے اُس دین کی فہرست ہے جو اللہ کو مشہور عربی لغت لسان العرب میں اس کی توضیح ان الفاظ میں کی گئی ہے: بین لك فيه كل ما تحتاج إليه أنت وأمتك من أمر الدين (68/13) یعنی قرآن میں اُن تمام چیزوں کو بیان کر دیا گیا ہے جو امر دین کی نسبت سے تمھارے لیے اور تمھاری امت کے لیے ضروری ہیں۔ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن میں تمام سائنسی مضامین اور تمام عمرانی علوم (social sciences) موجود ہیں، وہ اس سے بے خبر ہیں کہ قرآن کا مقصد نزول کیا ہے۔ اس لیے نہیں اتارا گیا ہے کہ وہ انسان کو تمام دنیوی علوم سے واقف کرائے۔ واضح طور پر اس کی تردید موجود ہے۔ تابرنخل کے واقعے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے کو ایک جامع اصول کے طور پر ان الفاظ میں بیان کیا ہے: أنتم أعلم بأمر دنياكم (صحیح مسلم، رقم الحديث: 6277 )
اصل یہ ہے کہ قرآن اس لیے اتارا گیا ہے کہ وہ انسان کو اس کی ابدی فلاح کے معاملے میں رہنمائی اس ابدی فلاح کا تعلق آخرت کی فلاح سے ہے۔ قرآن میں اُن رہنما اصولوں کو بتایا گیا ہے جن کی پیروی کرکے انسان آخرت کی ابدی زندگی کو کامیاب بنا سکتا ہے۔ جہاں تک دنیوی معاملات کا تعلق ہے، اس کے بارے میں انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی تحقیق اور تجربے کے ذریعے اُن کو معلوم کرے۔