Al-Risala · November 2013

ایک حکیمانہ اصول

Al-Risala, November 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

سلمان فارسی، اصفهان (ایران) میں پیدا ہوئے، پھر وہ مدینہ آئے۔ یہاں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ ان کی وفات مدائن (ایران) میں 35 ہجری (655 عیسوی) میں ہوئی۔

ہجرت کے پانچویں سال وہ واقعہ پیش آیا جس کو عام طور پر غزوہ خندق کہا جاتا ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ مکہ کے سرداروں نے مختلف قبائل کے تعاون سے ایک بڑا لشکر تیار کیا اس کے افراد کی تعداد دس ہزار ہے۔ یہ لشکر مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے مکہ سے روانہ ہو چکا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب معمول مدینہ میں اپنے اصحاب کو جمع کیا اور اُن سے مشورہ کیا کہ اس طرح کی صورت حال میں، ہم کو کیا کرنا چاہیے۔ یہ بات واضح تھی کہ مسلمان اُس وقت اتنے بڑے لشکر سے جنگی مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے۔ اس لیے سوال یہ تھا کہ اس لشکر سے مقابلے کے لیے جنگ کے سوا دوسری کون سی تدبیر اختیار کی جائے۔

اُس وقت سلمان فارسی کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ میرا تعلق فارس (ایران) سے ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ فارس کے حکمراں جب دشمن سے ٹکراؤ کرنا نہیں چاہتے تو وہ اپنے اور دشمن کے درمیان ایک خندق کھود دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور مدینے کے تمام قابلِ کار مسلمان خندق کھودنے میں مصروف ہو گئے، یہاں تک کہ 6 دن کی لگا تار محنت کے بعد خندق تیار ہوگئی۔ مدینہ اُس وقت تین طرف سے پہاڑوں اور کھجور کے گھنے درختوں سے گھرا ہوا تھا۔ لیے اس سمت سے حملہ آور فوج مدینہ میں داخل نہیں ہوسکتی تھی۔ البتہ مدینہ کا شمال مغربی حصہ خالی تھا۔ اس سمت سے کوئی فوج حملہ آور ہو سکتی تھی۔ مدینے کے اسی کھلے ہوئے حصے کی طرف خندق کھودی گئی۔ اس خندق کی چوڑائی اور گہرائی تقریباً تین میٹر تھی۔ اس کی لمبائی 6 میل (10 کلومیٹر) تھی۔ اہل مکہ کی اس حملہ آور فوج کے سردار ابو سفیان تھے جو بعد کو اسلام میں داخل ہو گئے۔ دس ہزار کا

یہ لشکر جب سفر کرتے ہوئے مدینہ کی سرحد پر پہنچا تو اس وقت تک خندق کھودی جا چکی تھی۔ اہل مکہ کا یہ لشکر اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار تھا۔ قدیم زمانے میں بظاہر اُن کے لیے یہ ناممکن تھا کہ وہ خندق کو پار کر کے مدینہ کے اندر داخل ہو جائیں۔ چناں چہ جب وہ مدینہ کی سرحد پر پہنچے اور خندق کو دیکھا تو انھوں نے کہا: واللہ إن هذه لمكيدة ما كانت العرب تكيدها (بخدا، یہ ایک ایسی تدبیر ہے جس تدبیر سے اہل عرب باخبر نہ تھے)۔

یہ خندق، دوسرے لفظوں میں، اُس وقت ایک حاجز (buffer) کی حیثیت رکھتی تھی۔ ایسی تدبیر تھی جس نے اہل اسلام اور ان کے مخالفوں کے درمیان ایک ناقابل عبور آڑ قائم کر دی تھی۔ چناں چہ نتیجہ یہ ہوا کہ مخالفین کا لشکر مدینہ کے باہر تقریباً ایک مہینہ تک پڑاؤ ڈالے رہا۔ وہ اپنے مقام سے مسلمانوں کو آواز دیتے تھے کہ تم مدینہ سے باہر آؤ، مگر مسلمان باہر نہیں آئے۔ آخر کار مخالفین کا یہ پورا لشکر مایوس ہو کر واپس چلا گیا۔

Printed page