ایک ابدی اصول
Al-Risala, November 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
خندق کا یہ واقعہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، وہ زندگی کا ایک ابدی اصول ہے۔ زندگی کا بھی اور اجتماعی زندگی کا بھی۔ وہ اصول یہ ہے کہ اگر کوئی فرد یا گروہ تمھارا مخالف بن جائے تو اس سے ٹکراؤ نہ کرو، بلکہ ٹکراؤ کے بجائے تدبیر کا راستہ اختیار کرو۔ وہ تدبیر یہ ہے کہ اپنے اور حریف کے درمیان ایک آڑ (buffer) قائم کر دو۔ اس طرح پیش آمدہ مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ جس مسئلے کو تم ٹکرا کر ختم کرنا چاہتے ہو، وہ مسئلہ ٹکراؤ کے بغیر خود حالات کے نتیجے میں ختم ہو جائے گا، جیسا کہ خود غزوۂ خندق کے موقع پر ہوا۔
اس حاجز یا آڑ کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ قدیم زمانے میں حاجز قائم کرنے کے لیے دیوار بنانا یا خندق کھودنا پڑتا تھا۔ موجودہ زمانے میں نئے وسائل کی دریافت نے اس تدبیر کی نئی نئی صورتیں پیدا کی ہیں۔ آدمی اگر صورتِ حال پر مشتعل ہونے کے بجائے سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو آسانی کے ساتھ وہ موقع کے لحاظ سے ایک کامیاب تدبیر دریافت کر سکتا ہے۔
اس معاملے کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ 1950 کے بعد مصر اور مغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھی، یہاں تک کہ اُس وقت کے مصری صدر جمال عبد الناصر کے ذہن میں انتہا پسندانہ خیالات آنے لگے، چناں چہ انہوں نے یہ نا عاقبت اندیشانہ اقدام کیا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے مصر میں مقرر کیے ہوئے پیس کیپنگ فورس (peace-keeping forse) کے دستے کو واپس کر دیا۔ پیس کیپنگ فورس کی حیثیت اُس وقت فریقین کے درمیان بفر (buffer) کی تھی۔ اس کو واپس بھیجنا بفر کو ختم کرنے کے ہم معنی تھا۔
اس کے بعد 29 اکتوبر 1956 کو جمال عبدالناصر نے تالیوں کی گونج کے درمیان اعلان کیا کہ آج ہم نے نہر سویز (Suez Canal) کو نیشنلائز کر لیا ہے۔ یہ اعلان بین الاقوامی اصول کے سرتاسر خلاف تھا۔ فطری طور پر فریق ثانی کے درمیان اس کا سخت رد عمل ہوا۔ اس کے بعد حالات بہت خراب ہو گئے، یہاں تک کہ جون 1967 کی 6 روزہ جنگ پیش آئی، جس کے بعد مصر اور فلسطین کا بڑا حصہ اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا۔