Al-Risala · November 2013

اجتہاد کی اہمیت

Al-Risala, November 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

اجتہاد کا لفظی مطلب ہے ۔ بھرپور کوشش کرنا (بذل الوسع فی طلب الأمر)۔ اصطلاح میں، اجتہاد کا مفہوم یہ ہے کہ نئی صورت حال میں اسلام کے کسی اصول کے عملی انطباق کو جاننے کے لیے کامل فکری جدوجہد کی جائے۔ یہ اجتہاد ایک فطری ضرورت ہے۔ وہ ہر حال میں جاری خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اجتہاد کا عمل صحابہ کے درمیان جاری تھا اور بعد کو وہ امت کے اندر مسلسل طور پر جاری رہا۔

دورِ جدید ہر اعتبار سے ایک بدلا ہوا دور تھا۔ فطری طور پر اس دور میں مسلمانوں کے لیے یہ سوال پیدا ہوا کہ وہ نئے حالات میں اسلام کے اصول کو از سر نو منطبق کریں۔ یہ ایک اجتہادی تقاضا تھا، مگر دورِ جدید کے مسلم اہل علم اس اجتہاد میں مکمل طورپر ناکام رہے۔ وہ نئے حالات کی نسبت سے، اسلامی اصولوں کا از سر نو انطباق (re-application) تلاش نہ کر سکے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کا بحران (crisis) کہا جاتا ہے۔ بحران کیا ہے۔ مسئلہ (problem) ہی کا دوسرا نام ہے۔ مسئلہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ جب کسی پیش آمدہ مسئلے کو حل کر لیا جائے تو وہ صرف مسئلہ رہے گا، اور اگر مسئلہ اتنا پیچیدہ ہو کہ وہ بظاہر ایک غیر حل شدہ مسئلہ (unsolved problem) نظر آنے لگے تو اسی کا دوسرا نام بحران ہے۔ موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسی قسم کے بحران میں مبتلا ہوگئی ہے۔ اسلام کا آغاز 610 عیسوی میں عرب میں ہوا۔ وہ بہت تیزی سے پھیلا اور صرف نصف صدی کے عرصے میں اس نے ایک عالمی حیثیت حاصل کرلی۔ پہلے مسلمانوں کی مقامی حکومتیں قائم ہوئیں۔ عباسی دور میں مسلمان ایک مسلم ایمپائر قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ سیاسی اقتدار کا یہ دور مختلف قسم کے نشیب و فراز کے ساتھ تقریبا ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ مسلمانوں کے سیاسی عروج کی انتہا اور ان کے سیاسی زوال کا نقطہ آغاز اگر متعین کرنا ہو تو وہ 1799 قرار پائے گا۔ مسلم دنیا میں 1799 میں دو بڑے واقعات

ایک واقعہ بحر روم (Mediterranean Sea) میں پیش آیا، اور دوسرا واقعہ میسور (انڈیا) ایک طرف، یہ ہوا کہ یورپی حکومتوں نے 1799 میں ترکی کے طاقت ور بحری بیڑا (naval fleet) پر حملہ کر کے اس کو بحر روم میں تباہ کر دیا۔ یہ واقعہ اتنا بڑا تھا کہ اُس وقت کے انگریز جنرل نے انتہائی خوشی کے عالم میں کہا تھا کہ ــــ آج انڈیا ہمارا ہے (Today India is ours)۔

اِس کے بعد رفتہ رفتہ تمام مسلم ملکوں میں مغربی طاقتوں کا دبدبہ قائم ہو گیا۔ زمانے میں مسلم دنیا میں جوابی تحریکیں شروع ہوئیں۔ عرب سے عجم تک ہر جگہ مسلم رہنما حرکت میں ان تمام مسلم رہنماؤں کا مشترک نشانہ صرف ایک تھا، اور وہ تھا مسلمانوں کی عظمت رفتہ (past glory) کو واپس لانا۔ یہ جد و جہد انیسویں صدی کے آغاز میں شروع ہوئی۔ اب وہ اکیسویں صدی میں پہنچ چکی ہے، لیکن نتیجہ (result) کے اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلم رہنماؤں کی کوشش نے صرف مسلمانوں کی تباہی میں اضافہ کیا، وہ کسی بھی درجے میں اپنے مطلوب نشانے کو پورا نہ کر سکے۔ دورِ جدید میں مسلمانوں کے لیے جو مسئلہ پیدا ہوا، اس کے مقابلے میں کامیاب منصوبہ بندی کے لیے پہلی ضرورت یہ تھی کہ مسئلے کی نوعیت کو دریافت کیا جائے۔ مگر اس دور کے مسلم رہنما اس پہلو سے مکمل طور پر بے خبر رہے۔ اپنے روایتی ذہنی کے مطابق، انھوں نے اس مسئلے کو دشمن کے حملے کے مقابلے میں، دفاع کا مسئلہ سمجھا، حالاں کہ وہ بدلے ہوئے حالات میں نئے اجتہاد کا مسئلہ تھا۔ نوعیت مسئلے کی دریافت میں مسلم رہنماؤں کی ناکامی نے اُن کی جوابی کارروائی کو مکمل طور پر ایک غیر متعلق کارروائی کا درجہ دے دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دو سوسال کی جان و مال کی عظیم قربانی کے باوجود نتیجہ (result) کے اعتبار سے، امت مسلمہ کو کچھ بھی حاصل نہ ہو سکا۔

دور جدید میں جو اجتہاد درکار تھا، وہ بنیادی طور پر وہی تھا جس کو فرقان (8:29) کہا گیا ہے، یعنی ایک معاملے کو دوسرے معاملے سے الگ کرنا۔ امت مسلمہ کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے۔ کام ہے جس کے بارے میں یہ مطلوب ہے کہ امت مسلمہ اس کو ہر حال میں جاری رکھے۔ اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو سیاسی اقتدار کہا جا سکتا ہے۔ دعوت الی اللہ، امت مسلمہ کا مشن ہے، اور سیاسی اقتدار،

امت مسلمہ کی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان جس بحران کا شکار ہو گئے تھے، اس کا واحد حل یہ تھا کہ مشن اور تاریخ کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے، مگر ہمارے رہنما بر وقت یہ کام نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امت مسلسل طور پر بحران کی حالت میں پڑی رہی۔ موجودہ زمانے میں بہت سے نئے امکانات پیدا ہوئے تھے۔ یہ امکانات یا مواقع اسلام کے مشن کے اعتبار سے بے حد مفید تھے۔ مگر مسلم رہنماؤں پر سیاسی ذہن کا اتنا غلبہ تھا کہ وہ ان غیر سیاسی مواقع کو دیکھ نہ سکے۔ وہ دوسری قوموں سے بے فائدہ سیاسی لڑائی لڑتے رہے اور جدید مواقع کو دعوتی مشن کے لیے استعمال کرنے میں ناکام رہے۔

اس معاملے کی ایک متوازی مثال یہ ہے کہ عین اسی زمانے میں مسیحی چرچ بھی عین اسی قسم کے بحران میں مبتلا ہوا۔ مسیحی چرچ جس کا مرکز روم تھا، وہ قدیم زمانے میں تقریباً پورے یورپ میں ایک بے تاج بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اُس زمانے میں پوپ (pope) یورپ کا پولیٹکل ماسٹر بنا ہوا تھا۔ اس زمانے میں یورپ کے سائنس دانوں نے طبیعی دنیا میں نئی حقیقتیں دریافت کیں۔ مسیحی طرز کے روایتی عقائد سے ٹکراتی تھیں۔ چناں چہ سائنس دانوں اور مسیحی چرچ کے درمیان شدید ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ اس تصادم کی تفصیل اس کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے:

History of the Conflict Between Religion and Science by William Draper اس مسئلے میں مسیحی چرچ نے حقیقت پسندانہ طریقہ اختیار کیا۔ وہ چرچ اور اسٹیٹ کی عملی علاحدگی پر راضی ہو گئے۔ مگر یہ علاحدگی سادہ طور پر مذہب اور سیاست کی علاحدگی کے ہم معنی نہ تھی، بلکہ وہ سیاسی محدودیت کے ہم معنی تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پوپ مسیحی ایمپائر کا رقبہ گھٹا کر اس پر راضی ہو گیا کہ اس کا دائرہ اختیار روم کے ایک چھوٹے رقبے تک محدود رہے، جس کو ویٹکن (Vatican) کہا جاتا ہے۔ ویٹیکن پورے معنوں میں ایک خود مختار ریاست ہے۔ اس کا اپنا آزادانہ نظام ہے۔ ہر ملک میں اس کے سفارت خانے قائم ہیں۔

ویٹیکن کی صورت میں ایک محدود مسیحی ریاست کا یہ قیام 1929 میں پیش آیا۔ یہ معاملہ مسیحی پوپ اور حکومت اٹلی کے درمیان ایک معاہدہ کے ذریعے انجام پایا۔ اس معاملے کو لیٹران معاملہ (Lateran Treaty) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے پر حکومت اٹلی کی طرف سے اُس وقت کے پریمیر (premier) مسولینی (Benito Mussolini) نے دستخط کئے تھے، اور مسیحی چرچ کی طرف سے کارڈینال گا سپیری (Cardinal Gasparri) نے اپنے دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے کے ذریعے مسیحی چرچ نے اپنی حیثیت کو بدستور برقرار رکھا۔ یہ بلاشبہ ایک دانش مندانہ تدبیر تھی جو اُسی قسم کے ایک تخلیقی فکر پر مبنی تھی جس کو اجتہاد کہا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے، موجودہ زمانے کے مسلم رہنما اس قسم کا اجتہاد نہ کر سکے۔ چناں چہ موجودہ زمانے میں انھوں نے صرف ناکامی کی تاریخ بنائی، وہ کامیابی کی تاریخ نہ بنا سکے۔ موجودہ زمانے میں اسی قسم کے فرقان کا ایک واقعہ سیکولر اعتبار سے پیش آیا۔ اس واقعے کا تعلق چین (China) سے ہے۔ چین میں 1919 سے کمیونسٹ پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ کمیونسٹ پارٹی نے اپنے نظریے کے مطابق، وہاں اسٹیٹ اکانمی (state economy) کا نظام قائم کر رکھا تھا۔ کے تحت چین کی اقتصادی ترقی رک گئی۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کا ایک رکن ڈینگ زیو پنگ (Deng Xiaoping) تھا۔

پہلے اس نے روس میں تعلیم پائی۔ اس کے بعد وہ مزید تعلیم کے لیے فرانس گیا۔ فرانس کے قیام کے دوران اُس نے دیکھا کہ فرانس میں اقتصادی ترقی ہو رہی ہے، لیکن چین اُس قسم کی ترقی سے محروم ہے۔ واپسی کے بعد ڈینگ زیو پنگ چین کی کمیونسٹ پارٹی کا چیر مین بن گیا۔ اس کے بعد اس نے ایک انقلابی کام اس نے چین میں سیاست اور اقتصادیات کے درمیان علاحدگی کا اصول رائج کیا۔ اس نے یہ کیا کہ سیاسی اقتدار پر کمیونسٹ پارٹی کا قبضہ باقی رکھتے ہوئے اقتصادیات کو مکمل طور پر آزاد کر دیا۔ مندانہ تدبیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ چین میں اقتصادی ترقی کا دروازہ کھل گیا۔ آج یہ حال ہے کہ امریکا کے بعد چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی اکانمی سمجھا جاتا ہے۔

Printed page