Al-Risala · November 2013

موجودہ مسلمانوں کی ناکامی

Al-Risala, November 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کے ظہور کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سیاسی اقتدار عطا کیا۔ یہ سیاسی اقتدار ساتویں صدی عیسوی سے لے کر اٹھارھویں صدی تک کسی نہ کسی طور پر جاری رہا۔ اس اقتدار کا مقصد حکومت یا عیش و عشرت نہیں تھا۔ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ مسلمان بے خوف ہو کر فطرت (nature) کی تحقیق کریں اور فطرت میں چھپے ہوئے امکانات کو دریافت کرکے وہ مواصلاتی وسائل تیار کریں جن کے ذریعے سے دعوت الی اللہ کے کام کو عالمی طور پر انجام دیا جا سکے۔

اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے ایسے اشارے کردئے تھے جو مسلمانوں کے لیے اپنے رول کو سمجھنے کے لیے کافی ہو سکتے تھے، مگر مسلمان اشارے کی زبان کو سمجھ نہ سکے۔ مثلاً قرآن میں کثرت سے ایسی آیتیں ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ زمین اور آسمان کی تمام چیزیں تمھارے لیے مسخر کر دی گئی اس کا مطلب یہ تھا کہ کائنات کی تخلیق اس طرح ہوئی ہے کہ انسان اُس میں غور و فکر کرکے اس کے اندر چھپے ہوئے موافق امکانات کو دریافت کرے اور اُن کو اپنے حق میں استعمال کرے۔ جس کو آج مواصلاتی ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے، وہ سب اس کے اندر شامل ہے۔

دوسرا اہم اشارہ وہ ہے جو اسراء کے واقعے کی صورت میں پیش آیا۔ مکی دور کے آخر میں یہ واقعہ ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصی انتظام کے تحت ایک رات کے اندر مسجد حرام (مکہ) سے مسجد اقصی (یروشلم) لے جایا گیا اور پھر واپس اپنے مقام پر پہنچا دیا گیا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن کی سورہ الاسراء (17) میں کیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ مکہ اور یروشلم کے درمیان تقریباً 1250 کلومیٹر کا فاصلہ ہے، یعنی رٹرن جرنی (return journey) کے اعتبار سے 2500 کلومیٹر کا فاصلہ۔ قرآن کی جس سورہ میں اس واقعے کا ذکر ہے، اس میں مقصد سفر کو ان الفاظ میں

بیان کیا گیا ہے: لنریہ من آیاتنا (17:1) یعنی تا کہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ So that We might show him some of Our signs. اس آیت میں جس نشانی کا ذکر ہے، اس سے مراد خود سفر ہے، نہ کہ یروشلم میں واقع کوئی چیز۔ اللہ تعالی نے اپنے آخری پیغمبر کے ذریعے جو کتاب ہدایت (قرآن) بھیجی، وہ اس لیے تھی تا کہ وہ کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچے۔ یہ عالمی پیغام رسانی کیوں کر ممکن ہوگی، اس کے بارے میں اشاراتی طور پر بتایا گیا کہ عالم فطرت (nature) میں اللہ نے بالقوہ طور پر تیز رفتار ترسیل (rapid communication) کے امکانات رکھ دئے ہیں جن کو دریافت کرکے واقعہ بناؤ اور اُن کو تمام اہل عالم تک پیغام خداوندی (قرآن) کو پہنچانے کے لیے استعمال کرو۔ استبدال قوم کا اصول امت مسلمہ کو اللہ تعالی نے لمبی مدت تک یہ موقع دیا کہ وہ فطرت کے اس امکان کو واقعہ بنائے اور قرآن کے سلسلے میں اپنی عالمی ذمے داری کو پورا کرے، لیکن امت مسلمہ کے رہنما اور قائدین اس راز کو نہ سمجھ سکے۔ وہ دوسرے میدانوں میں سرگرم رہے، لیکن دعوت الی اللہ کے عالمی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جو عمل مطلوب تھا، اُس عمل کو انجام دینے میں وہ پوری طرح ناکام رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالی کی وہ سنت ظاہر ہوئی جس کو قرآن میں استبدال قوم (47:38) کہا گیا ہے، یعنی ایک خدائی مطلوب کو انجام دینے میں اگر ایک گروہ نا کام ہو جائے تو اس کی جگہ دوسرے گروہ کو لے آنا۔ موجودہ زمانے میں جن مغربی قوموں نے دورِ مواصلات (age of communication) پیدا کیا ہے، وہ اسی استبدال قوم کی توسیعی صورت ہے۔ تائید بذریعہ سیکولر اقوام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی پیشین گوئیاں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اُن میں سے ایک پیشین گوئی کے الفاظ یہ ہیں: ان الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحيح البخاري، رقم الحدیث (3062) یعنی اللہ یقیناً اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔

اس حدیث میں ’فاجر‘ سے مراد سیکولر ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب امت مسلمہ دعوتِ دین کے عالمی ذرائع کو دريافت کرنے میں ناکام ہو جائے گی تو اُس وقت اللہ تعالیٰ سیکولر لوگوں کو کھڑا کرے گا جو اس کام کو انجام دیں، یعنی جب دینی محرک (religious incentive) اس کام کو انجام دینے میں ناکام ہو جائے گا تو اللہ کچھ لوگوں کو دنیوی محرک (secular incentive) کے ذریعہ وہ فطرت میں تحقیق و جستجو کے ذریعے فطرت میں چھپے ہوئے امکانات کو واقعہ بنائیں گے۔ یہ اُن لوگوں کی طرف سے امت مسلمہ کے لیے ایک سپورٹنگ رول ہوگا۔

موجودہ زمانے میں، خاص طور پر انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں، اہل مغرب نے سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں جو دریافتیں کی ہیں، وہ سب اسی نوعیت کی ہیں۔ ان دریافتوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے دعوتی مشن کو انجام دینے کے لیے ایک خارجی سپورٹ کا انتظام کیا ہے۔ ملی رہنماؤں کی ناکامی اہل مغرب نے تائید کا جو کام انجام دیا، اِس کے پیچھے کوئی دینی جذبہ نہیں تھا۔ یہ کام انھوں نے اپنے مادی اور قومی جذبے کے تحت کیا۔ یہ بالکل فطری تھا۔ اس قسم کے ذاتی محرک کے بغیر وہ خارجی سپورٹ فراہم کرنے کا کام انجام نہیں دے سکتے تھے۔ مزید یہ کہ جب انھوں نے اتنا بڑا تاریخی کام انجام دیا تو یہ بھی فطری تھا کہ اُن کو عالمی دبدبہ حاصل ہو جائے۔ کسی بڑے رول کے ساتھ دبدبہ اس طرح جڑا ہوا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے ذریعے اُن کو نہ صرف مادی فائدے حاصل ہوئے، بلکہ اُن کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سیاسی غلبہ بھی حاصل ہو گیا۔ یہ اُن کے سپورٹنگ رول کی قیمت تھی۔ اس قیمت کے بغیر وہ اپنا سپورٹنگ رول انجام نہیں دے سکتے تھے۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنے میں عاجز رہے۔ وہ اس حکمت (wisdom) کا ثبوت نہ دے سکے جس کو ان الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے کہ متعلق حصے کو لینا اور غیر تعلق حصے کو چھوڑ دینا۔ مغربی قومیں جب جدید طاقتوں کے ساتھ ایشیا اور افریقہ میں داخل ہوئیں تو اس داخلے کے

دو پہلو تھے ایک، یہ کہ ان مغربی قوموں نے فطری طور پر اُس وقت کی مسلم دنیا میں سیاسی غلبہ حاصل کر لیا۔ اس واقعے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ یہ قومیں اُس عظیم نعمت کو لے کر آئی تھیں جو خود اسلام کا عین مطلوب تھا، جس کا ہزار سال سے تاریخ کو انتظار تھا، یعنی جدید مواصلات مگر موجودہ زمانے کے مسلم رہنمابر وقت اُس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے جو اُس وقت اُن سے مطلوب تھی، یعنی سیاسی مسئلے کو عملی طور پر نظر انداز کرنا اور کمیونیکیشن کے جدید ذرائع کو بھر پور طور پر دعوت کے لیے استعمال کرنا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تمام مسائل اِسی دانش مندی کے فقدان کا نتیجہ ہیں۔

ایک عرب شیخ عبد الرحمن الحبنکہ نے اپنی ایک کتاب میں بتایا ہے کہ اس وقت امت مسلمہ کے تمام مسائل کا اصل سبب تین اثر د ہے ہیں۔ مصنف کے نز د یک ، یہ تین اثر د ہے یا یہ تین بڑے سانپ یہ ہیں استعمار (colonialism)، استشر اق (orientalism) مسیحی مبلغین یہ کسی ایک مصنف کی بات نہیں، یہی موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہنماؤں کی سوچ ہے۔ اسی غلط سوچ کا یہ نتیجہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان پچھلے 200 سال کے ان مفروضہ ’’افاعی‘‘ سے لڑنے اور ان کو ختم کرنے میں مشغول ہیں، لیکن عملی نتیجہ مکمل طور پر بر عکس صورت میں ظاہر ہوا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں ’’افاعی‘‘ اپنی حقیقت کے اعتبار سے افاعی نہ تھے، بلکہ مذکورہ حدیث رسول کے مطابق، وہ مؤیدینِ اسلام (supporters of Islam) کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوششوں سے موجودہ زمانے میں وہ چیز وجود میں آئی جس کو جدید مواصلات کہا جدید مواصلات کو انھوں نے اپنے مقصد کے لیے ڈیولپ کیا تھا، لیکن جدید مواصلات، عالمی مواصلات ہیں، اُن پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔ اگر مسلم علما اور رہنما صرف یہ کرتے کہ وہ ان مفروضہ افاعی کے خلاف ٹکراؤ کا محاذ نہ کھولتے اور پُرامن طریق کار اختیار کرتے تو بلا شبہ وہ جدید مواصلات کو کامل طور پر اپنے حق میں استعمال کر سکتے تھے اور اسلام کی عالمی دعوت کے اُس منصوبے کو پورا کر سکتے تھے،

جس کا تاریخ کو ہزار سال سے انتظار ہے۔

Printed page