ایک تاریخی حوالہ
Al-Risala, November 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
پروفیسر ٹی ڈبلو آرنلڈ (Thomas Walker Arnold) ایک ممتاز برٹش مستشرق وہ 1864 میں لندن میں پیدا ہوئے اور 1930 میں اُن کی وفات ہوئی۔ انھوں نے اپنے وسیع مطالعہ کی بنیاد پر اسلامی دعوت کے موضوع پر ایک کتاب لکھی تھی۔ یہ کتاب 508 صفحات پر مشتمل ہے۔ وہ پہلی بار 1896 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: The Preaching of Islam اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی سے لے کر بعد کے ہزار سال تک مختلف ملکوں میں اسلام کی دعوت کس طرح پھیلی۔ مثال کے طور پر افریقہ کے بارے میں انھوں نے ایک رپورٹ کے حوالے سے اپنی اس کتاب میں لکھا ہے کہ۔ اس وقت جس رفتار سے افریقہ میں اسلام پھیل رہا ہے، اس کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ نائجر دریا کے دونوں کناروں پر 1910 تک مشکل ہی سے کوئی گاؤں بچے گا جو اسلام کے حلقے میں نہ آگیا ہو:
A Christian missionary reports: “When I came out in 1898, there were few Muhammadans to be seen below Iddah. Now they are everywhere, excepting below Abo, and at the present rate of progress there will scarcely be a heathen village on the river (Niger) banks by 1910.” (p. 329)
پروفیسر آرنلڈ نے یہ بات مغربی افریقہ کے نائجر دریا کے دونوں طرف واقع بستیوں کے بارے میں لکھی ہے۔ واضح ہو کہ نائجر دریا تقریبا چار ہزار دوسو کومیٹر (180, 4) لمبا ہے۔ کے پانچ ملکوں کے درمیان بہتا ہے، یعنی - گائنا (Guinea)، مالی (Mali)، نائجر (Niger) بین (Benin)، نائیگیریا (Nigeria)۔ اسی مثال پر دوسرے ملکوں کے بارے میں قیاس کیا
اسلام کی دعوتی توسیع کا یہ عمل انیسویں صدی میں عین اُس وقت رک گیا، جب کہ پرنٹنگ پریس
اور جدید مواصلات کی آمد نے اسلامی دعوت کی عالمی توسیع کا امکان بڑے پیمانے پر کھول دیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انیسویں صدی میں جب یہ نئے امکانات کھلے تو عین اسی زمانے میں ایک ’’مسئلہ‘‘ بھی پیدا ہو گیا، وہ یہ کہ مغربی تہذیب اور مغربی استعمار (Western Colonialism) نے نئے طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے مسلم ملکوں میں اپنا دبدبہ قائم کر لیا۔ اُس وقت یہ ہوا کہ تمام دنیا کے مسلمان منفی ردعمل (negative reaction) میں مبتلا ہو گئے ۔ انھوں نے مغربی تہذیب اور مغربی استعمار کے خلاف لڑائی کا محاذ کھول دیا۔ کچھ لوگ تقریر اور تحریر کے ذریعے اس قومی مہم میں شریک ہو گئے، اور کچھ لوگوں نے بطور خود اس کو جہاد قرار دے کر اس کے خلاف مسلح جنگ چھیڑ دی ۔
یہ صورتِ حال عملاً آج بھی باقی ہے۔ دعوت کے مواقع برباد ہو رہے ہیں اور مسلمان انتہائی ناکام طور پر قومی اور سیاسی لڑائی میں مشغول ہیں۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے جب کہ ساری دنیا کے مسلمان ان تباہ کن سرگرمیوں کو مکمل طور پر ختم کر دیں اور پوری یکسوئی کے ساتھ دعوت الی اللہ کے کام میں مشغول ہو جائیں۔