Al-Risala · November 2013

اسلام کا انقلابی رول

Al-Risala, November 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

مورخ ابن کثیر نے اپنی مشہور کتاب البدایة والنهایة میں ابن اسحاق کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے۔ اس روایت میں ایک واقعے کا ذکر ہے جو نبوت کے دسویں سال مکہ میں پیش وہ واقعہ یہ ہے کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب اپنی آخر عمر میں جب بیمار ہوئے اور اُن کا مرض بڑھ گیا تو قبیلہ قریش کے لوگوں نے آپس میں کہا کہ حمزہ اور عمر نے اسلام قبول کر لیا اور محمد کا امر (دین) پورے قبیلہ قریش میں پھیل گیا۔ آؤ ہم ابو طالب کے پاس چلیں۔ وہ ہم سے عہد لے لیں اپنے بھتیجے کے بارے میں اور بھتیجے سے عہد لے لیں ہمارے بارے میں۔ کیوں کہ خدا کی قسم، ہم اس سے مامون نہیں ہیں کہ وہ ہمارے امر (دین) پر غالب آجائے۔ چناں چہ قریش کے سردار ابوطالب کے پاس آئے اور اُن سے بات کی۔ یہ تھے_ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، امیہ بن خلف، ابوسفیان بن حرب، وغیرہ۔ انھوں نے کہا کہ اے ابوطالب، آپ کا ہمارے نزدیک جو درجہ ہے، وہ آپ کو معلوم ہے۔ آپ پر جو وقت آچکا ہے، وہ آپ خود دیکھ رہے ہیں۔ آپ کے بارے میں ہمیں تشویش ہے۔ ہمارے اور آپ کے بھتیجے کے درمیان جو معاملہ ہے، اُس سے آپ باخبر ہیں۔ آپ ان کو بلائیے_ اُن سے ہمارے بارے میں عہد لے لیجیے اور ہم سے ان کے بارے میں عہد لے لیجیے، تاکہ وہ ہم سے باز رہیں اور ہم اُن سے باز رہیں، تا کہ وہ ہمارے دین سے تعرض نہ کریں اور ہم ان کے دین سے تعرض نہ پھر ابوطالب نے رسول اللہ کو بلایا اور آپ ان کے پاس آئے۔ ابوطالب نے آپ سے کہا کہ اے میرے بھتیجے، یہ تمھاری قوم کے بڑے لوگ ہیں۔ یہ تمھارے پاس جمع ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہوجائے۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”یاعم، كلمة واحدة تعطونها تملكون بها العرب وتدين لكم بها العجم (البدایة والنهایة 3/123) یعنی اے میرے چچا، میں اُن سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کو اگر وہ دے دیں تو وہ عرب کے مالک بن جائیں گے اور عجم تمھارے تابع ہو جائیں گے۔

اس کے بعد آپ نے بتایا کہ وہ کلمہ یہ ہے کہ تم کہو کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور تم چھوڑ دو انھیں چیزوں کو جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو (تقولون لا إله إلا الله وتخلعون ما تعبدون من دونه) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول میں ایک تاریخی بات کو مخاطبین کی مانوس زبان میں کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مشن کوئی محدود مشن نہیں ہے۔ یہ خالق کی ایک عظیم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک دور کو ختم کرکے دوسرے دور کو لانے کا منصوبہ ہے۔ اُس کا ساتھ دو تو یہ تمھارے لیے سرفرازی کا باعث ہوگا۔ اس مشن کا ساتھ دے کر تم ایک نئے دور تاریخ کے نقیب (harbinger) بن سکتے ہو۔

توحید کے مشن کے ذریعے بعد کی تاریخ میں یہ انقلابی دور آیا۔ اُس نے انسانی تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔ مگر عجیب بات ہے کہ مسلم علما اور مورخین نے اس واقعے کو صرف امت مسلمہ کے ایک سیاسی فخر (political glory) کے طور پر لیا۔ وہ اس انقلاب کے وسیع تر پہلوؤں کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ لیکن سیکولر مورخین نے اس پہلو کو دریافت کیا اور کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا۔ اُن میں سے ایک فرانس کا مورخ ہنری پرین (وفات: 1935) ہے۔ ہنری پرین نے اس حقیقت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے— اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا۔ تاریخ کا روایتی ڈھانچہ توڑ دیا گیا: Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. اس تاریخی واقعے کی اصل اہمیت اس اعتبار سے نہیں تھی کہ اس کے نتیجے میں ایک مسلم ایمپائر وجود میں آئے۔ اس واقعے کی اصل اہمیت یہ تھی کہ اُس نے انسانی تاریخ کے سفر کو صحیح رخ کی طرف موڑ دیا، اس نے انسانی تاریخ کو خدائی منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو زمین پر بسایا اور اس کو ہر طرح کی آزادی دی۔ تخلیق کا مقصد یہ نہیں تھا کہ انسان موجودہ دنیا میں آئیڈیل حکومت بنائے یا آئیڈیل سماج قائم انسان کی آزادی کی بنا پر دنیا میں وہی ہونا تھا جس کو فرشتوں نے فساد (2:30) سے

تعبیر کیا تھا۔ تخلیق کے اعتبار سے، فساد کا لفظ کوئی منفی لفظ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین میں مختلف قسم کے ناموافق حالات پیدا ہوں، تاکہ انسان کے لیے مسلسل طور پر چیلنج کی صورت حال باقی چیلنج کی یہ صورت حال عین مقصود تخلیق ہے، کیوں کہ اسی صورت حال کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ افراد کے لیے امتحان کا ماحول جاری رہے اور مطلوب افراد کا انتخاب ممکن ہو سکے۔ قرآن کی سورہ الانعام میں انسان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى قرآن کے ان الفاظ کا لفظی ترجمہ شاہ عبد القادر دہلوی نے اس طرح کیا ہے اور آئے تم ہمارے پاس ایک ایک۔ شاہ عبد القادر دہلوی کا یہ ترجمہ قرآن کی مذکورہ آیت کا نہایت صحیح ترجمہ ہے۔ ’فرادى‘ کا لفظ ’فرد‘ کی جمع ہے، یعنی افراد۔ قرآن کی یہ آیت خدا کے تخلیقی منصوبے کے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اللہ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس کو زمین پر بسایا۔ اس آبادکاری کا مقصد یہ نہیں تھا کہ انسان دنیا میں بہتر سماجی نظام بنائے۔ بہتر سماجی نظام کی جگہ صرف جنت ہے۔ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، موجودہ دنیا اقامت نظام کے لیے نہیں ہے، بلکہ انتخاب افراد کے لیے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی آزادی کی بنا پر اس دنیا میں کسی معیاری نظام کا بننا ممکن ہی نہیں۔ پوری تاریخ میں تقریباً تمام ذہن مسلم اور غیر مسلم دونوں، ایک ہی مشترک غلطی میں مبتلا انھوں نے بہتر سماجی نظام قائم کرنے کو اپنی جدوجہد کا نشانہ بنایا۔ مگر بلا استثنا سب کے سب اس مقصد میں ناکام رہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اس قسم کا نشانہ عملی طور پر ممکن ہی نہ تھا، کیوں کہ وہ منصوبہ خداوندی کے خلاف تھا۔

خالق نے اپنے منصوبے کے مطابق، دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ ہمیشہ دار الکبد‘ بنی اس طرح یہ ممکن ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر قسم کے حالات پیدا ہوں۔ لوگوں کو بار بار نقصان (2:155) کا تجربہ ہو۔ طرح طرح کے حادثات پیش آئیں۔ انسان اور شیطان کی طرف سے آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر لوگوں کے درمیان کشمکش جاری رہے۔ یہ ناموافق حالات عین مطلوب ہیں۔ کیوں کہ اسی صورت حال کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہر انسان کے بارے میں یہ دیکھا جائے کہ

مختلف حالات کے درمیان اس نے کیسا رسپانس دیا۔ اُس نے حالات کو اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے استعمال کیا یا منفی ردعمل میں اپنا وقت ضائع کر دیا۔

امتحانی صورتِ حال کے اس نتیجے کا تعلق افراد سے ہے۔ ہر فرد الگ الگ حالت امتحان میں ہے۔ ہر فرد الگ الگ اپنا ریکارڈ تیار کر رہا ہے۔ ہر فرد الگ الگ یہ بتا رہا ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے یا نرہیں- اسلامی انقلاب کا مقصد رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے جو انقلاب آیا اور آخر کار اس کے نتیجے میں دنیا کا نقشہ بدل گیا، وہ اسی لیے تھا کہ مذکورہ قسم کی حالت دنیا میں غیر منقطع طور پر جاری رہے۔ اسلامی انقلاب کا مقصد نہ کوئی ایمپائر قائم کرنا تھا اور نہ کوئی بہتر سیاسی یا سماجی نظام۔ اس انقلاب کا واحد مقصد یہ تھا کہ فرد کے لیے اپنی شخصیت کی تعمیر کے مواقع لامحدود طور پر کھل جائیں۔ جو فرد یہ چاہے کہ اس کو حقیقت اعلیٰ کو دریافت کرنا ہے، اْس کو اپنی شخصیت کو جنتی شخصیت کے طور پر ڈیولپ کرنا ہے، اْسی کے ساتھ اُس کو دعوت الی الخیر (3:104) کے مشن کو اپنی زندگی کا مشن بنانا ہے، جو فرد یا افراد ایسا چاہیں، اْن کے لیے ہر قسم کے مواقع پوری طرح کھلے ہیں۔

اسلامی انقلاب کا مقصد اصلا یہی تھا۔ اسلامی انقلاب کا مقصد یہ تھا کہ زمین پر عالمی مواقع کی ایک دنیا (world of universal opportunities) وجود میں آئے۔ اِس قسم کی ایک دنیا صرف لمبے عمل کے ذریعے بن سکتی تھی۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد تاریخ میں جو پراسس جاری ہوا تھا، وہ تقریباً ہزار سال تک اپنا کام کرتا رہا، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔

عجیب بات ہے کہ اسلامی انقلاب کی اِس نوعیت کو نہ مسلم مفکرین نے سمجھا اور نہ غیر مسلم مفکرین نے۔ دونوں کے لیے اس کا مشترک سبب یہ تھا کہ وہ تاریخ کا مطالعہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کی روشنی میں نہ کر سکے۔ وہ خود اپنے خود ساختہ ذہن کے تحت تاریخ کا مطالعہ کرتے رہے۔ اِس بنا پر دونوں گروہوں کا حال

یہ ہوا کہ وہ اُس خدائی حکمت (divine wisdom) سے بے خبر رہے جو انسانی تاریخ کے درمیان مسلسل طور پر اور مؤثر طور پر جاری رہی۔

Printed page