جنگ کی دو قسمیں
Al-Risala, November 2013, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ پیش آئی، اس کی نوعیت کیا تھی، وہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) یعنی تم اُن سے قتال کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب، اللہ کے لیے ہو جائے۔
اس آیت میں’فتنہ‘ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔ میں اُس وقت کے سیاسی فلسفہ (political philosophy) کی بنا پر، ساری دنیا میں مذہبی جبر کا کلچر قائم تھا۔ اس کلچر نے قدیم زمانے میں پرامن دعوت (peaceful Dawah) کو عملاً ناممکن بنا یہ تصور، خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھا، کیوں کہ خدا نے اپنے تخلیقی پلان کے تحت، ہر انسان کو فکر اور اظہارِ خیال کی کامل آزادی عطا کی ہے۔
مذہبی جبر پر مبنی مذکورہ سیاسی فلسفہ خدا کی دی ہوئی آزادی کو منسوخ کرنے کے ہم معنی تھا۔ کو مطلوب تھا کہ مذہبی جبر کا یہ مصنوعی نظام ختم ہو اور مذہبی آزادی کا فطری نظام قائم ہو جائے۔
لیے اللہ تعالی نے رسول اور اصحاب رسول کو یہ حکم دیا کہ ہر قیمت پر اس مصنوعی نظام کو ختم کرو، خواہ اس کے لیے تم کو جنگ کرناپڑے۔ رسول اور اصحاب رسول نے اس حکم خداوندی کی تعمیل کی، یہاں تک کہ اس جبری نظام کا خاتمہ ہو گیا۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے عبداللہ بن عمر کی ایک روایت کا مطالعہ مفید ہوگا۔ عبداللہ بن عمر (وفات: 73 ہجری) کے زمانے میں وہ جنگ پیش آئی جس کے قائد ایک طرف، عبداللہ بن زبیر تھے اور دوسری طرف، اموی حاکم حجاج بن یوسف الثقفی۔ یہ واقعہ تاریخ میں ’’فتنہ عبداللہ بن زبیر‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔
عبداللہ بن عمر اس جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ دو مسلمان اُن کے پاس آئے اور اُن کو عار دلاتے ہوئے کہا کہ آپ اس جنگ میں شریک نہیں ہیں، حالاں کہ اللہ تعالی نے قرآن میں حکم دیا ہے کہ : وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (8:29)۔ عبداللہ بن عمر نے کہا: قاتلنا حتى لم تكن فتنة، و كان الدين لله - وأنتم تريدون أن تقاتلوا حتى تكون فتنة، ويكون الدين لغير اللہ (صحیح البخاري، رقم الحديث: 4513) یعنی ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو گیا، اور دین اللہ کے لیے ہو گیا۔ اور تم چاہتے ہو کہ جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ دوبارہ واپس آجائے اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے۔
عبداللہ بن عمر کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر تھا۔ ہم نے لڑ کر اس مذہبی جبر کو ختم کر دیا۔ اب فطرت کے نظام کے مطابق، مذہب کے معاملے میں انسان کو آزادی حاصل ہوگئی، جب کہ تم لوگ اپنے سیاسی مفاد کے لیے جنگ کر رہے ہو اور اس طرح دوبارہ ایک نئے قسم کا فتنہ برپا کر رہے ہو۔