Al-Risala · November 2013

ایک دور کا خاتمہ، دوسرے دور کا آغاز

Al-Risala, November 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ نے انسان کو اس دنیا میں امتحان (test) کے لیے رکھا ہے۔ امتحان کی اس مصلحت کی بنا پر اللہ نے انسان کو کامل آزادی دی ہے۔ اس کو اس دنیا میں فریڈم آف چوائس (freedom of choice)

یہ آزادی اگر باقی نہ رہے تو اللہ کا تخلیقی پلان درہم برہم ہو جائے گا۔ اسی مصنوعی صورت حال کو قرآن میں فتنه کہا گیا ہے، اور فتنه کی اسی صورت حال کو ختم کرنے کے لیے رسول اور اصحاب رسول کو جنگ کا حکم دیا گیا۔

اس معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں مذہب پر مبنی قومیت (nationality based on religion) کا اصول رایج تھا۔ اس اصول کی بنا پر مذہب، اسٹیٹ کا معاملہ قرار پا گیا تھا۔ اسٹیٹ کا مذہب، اسٹیٹ سے وفاداری کی علامت بن گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں اسٹیٹ سے مختلف عقیدہ رکھنا، اسٹیٹ سے بغاوت کے ہم معنی بن گیا تھا۔ یہی وہ صورت حال ہے جس نے قدیم زمانے میں مذہبی جبر (religious persecution) کا نظام قائم کر رکھا تھا۔

ساتویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں جو انقلاب آیا، اُس نے اسٹیٹ کے تحت قائم شدہ مذہبی جبر کا خاتمہ کر دیا۔ مذہبی جبر کے خاتمے کے بعد تاریخ میں ایک نئے سیاسی نظریے کا آغاز ہوا۔ کے بعد جو پر اس شروع ہوا، اس کی تکمیل انیسویں صدی میں یورپ میں ہوئی۔ اب مبنی بر مذہب قومیت آخری طور پر متروک قرار پائی۔ اس کے بعد قومیت کا وہ نظام بنا جس کو وطن پر مبنی قومیت (nationality based on homeland) کہا جاتا ہے۔

یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ انسان کے اندر اپنے وطن سے محبت کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ عملی معاملہ ہے، نہ کہ کوئی اعتقادی معاملہ۔ قدیم زمانے میں مبنی بر مذہب قومیت نے اس معاملے کو مذہبی عقیدے کا درجہ دے رکھا تھا۔ اس لحاظ سے، مبنی بر مذہب قومیت کا نظریہ ایک فطری تصور تھا۔ ایسی حالت میں ضرورت تھی کہ اس تعلق کو فطری بنیاد پر قائم کیا جائے۔ موجودہ زمانے میں مبنی بروطن قومیت کے نظریے نے یہی کام انجام دیا ہے۔ اب تمام دنیا میں اس اصول کو مان لیا گیا ہے کہ قومیت کا تعلق وطن سے ہے، نہ کہ مذہبی عقیدے سے۔ یہی نظام، فطرت کے مطابق ہے، اور اسلام دین فطرت ہونے کی حیثیت سے اسی نظریے کی تائید کرتا ہے۔

قومیت ایک سیاسی نظریہ ہے، اور مذہب ایک غیر سیاسی عقیدہ۔ قدیم ریاستی نظریے کے تحت مذہبی جبر کا تصور پیدا ہوا۔ اس تصور نے دین توحید اور اس کی دعوت کے لیے غیر ضروری مسئلہ پیدا کر دیا تھا۔ موجودہ زمانے میں وطن پر مبنی قومیت کے نظریے نے یہ ایک درست کام انجام دیا ہے کہ اس نے قومیت کی بنیاد مذہب کے بجائے وطن پر قائم کر دی ہے۔ یہ تبدیلی عین اسلام کے مطابق ہے۔ اس نے موجودہ زمانے میں پر امن دعوتی عمل کے لیے لامحدود دروازے کھول دئے ہیں۔ قدیم زمانے میں اسلام اور اُس وقت کی حکومتوں کے درمیان جو جنگ پیش آئی، وہ ایک ناگزیر ضرورت کے تحت پیش آئی۔ کیوں کہ اہل اسلام جب توحید کی دعوت دیتے تھے تو اُس زمانے کے مبنی بر مذہب قومیت نظریے کی بنا پر اہل اقتدار یہ سمجھتے تھے کہ توحید کی دعوت، ریاست سے بغاو ت کے ہم معنی ہے۔ اس بنا پر وہ داعیان توحید کو اپنا حریف (rival) سمجھ لیتے تھے، جس کا نتیجہ جنگ ہوتا یہ جنگ قدیم نظام کی طرف سے جارحانہ طور پر ہوتی تھی اور اہل توحید کی طرف سے اس کی حیثیت ناگزیر دفاع کے ہم معنی تھی۔

موجودہ زمانے میں وطن پر مبنی سیاسی تصور نے مذہب اور سیاست کے درمیان ٹکراؤ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب مذہبی جبر (religious persecution) کا قدیم نظام باقی نہیں رہا اور داعیان توحید کو یہ موقع مل گیا کہ وہ ریاست سے ٹکراؤ کا خطرہ مول لئے بغیر اپنے پرامن دعوتی عمل کو بلا رکاوٹ جاری رکھ سکیں ۔

سہارن پور (یُوپی) میں مولانا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں، قرآن مجید کے ترجمے، دعوتی لٹریچر اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں: Dr. M. Aslam Khan (Principal)

Printed page