قانونِ شریعت کا نفاذ
Al-Risala, November 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے میں مختلف مسلم ملکوں میں قانونِ شریعت کے نفاذ کی تحریکیں چلائی گئیں۔ مثلاً افغانستان، ایران، سوڈان اور پاکستان وغیرہ۔ ہر جگہ تقریباً ایک ہی قسم کی صورتِ حال نظر آتی ہر جگہ کے مسلمان دو گروہوں میں بٹ گئے— حاکم اور محکوم۔ ان دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں زبردست نقصان پیش آیا۔ ان ملکوں میں شریعت کا قانون تو نافذ نہ ہو سکا، البتہ نفرت اور جبر اور تشدد کا ماحول ہر جگہ قائم ہو گیا۔ اسلامی قانون کے نفاذ کی تحریک اس طرح الٹا نتیجہ پیدا کرنے کا سبب (counter productive) کیوں بن گئی۔ اس کا راز یہ ہے کہ ہر جگہ نفاذ شریعت کا نعرہ تو دیا گیا، لیکن نفاذ شریعت کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی نہیں کی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، پیغمبر کی حیثیت سے دنیا میں 23 سال رہے۔ آپ کے مشن کا ایک پہلو یہ تھا کہ آپ عرب میں اسلامی شریعت کو نافذ کریں اور بالفعل آپ نے کامیابی کے ساتھ ایسا کیا۔ لیکن اُس زمانے کے عرب سماج میں ہم یہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان، نفاذ شریعت کے نام پر دو گروہ بن کر آپس میں لڑ رہے ہوں، جیسا کہ موجودہ زمانے میں مسلم ملکوں میں پیش آیا۔
اس سوال کا جواب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ عائشہ کی ایک روایت سے معلوم ہوتا وہ کہتی ہیں کہ قرآن میں پہلے وہ سورتیں اتریں جن کو مفصل کہا جاتا ہے، یعنی وہ سورتیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر ہے، یہاں تک کہ جب لوگ رجوع ہو کر اسلام پر آگئے، اُس وقت حلال اور حرام والے احکام اترے (حتی إذا ثاب الناس إلى الإسلام، نزل الحلال والحرام) اگر شروع میں یہ اترتا کہ شراب نہ پیو، تو وہ ضرور یہ کہتے کہ ہم تو شراب کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ اور اگر شروع میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو، تو وہ ضرور یہ کہتے کہ ہم تو کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے (صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، باب تالیف القرآن)۔
اس روایت میں ثاب کا لفظ آیا ہے۔ ثاب یثوب کے معنی ہیں: حالت اصلی کی طرف لوٹنا۔ مشہور عالم لغت راغب الاصفہانی (وفات: 1108ء) نے اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: رجوع الشیٔ إلى حالته الأولى التي كان عليها (المفردات، صفحہ 83) یعنی کسی چیز کا اپنی اُس سابقہ حالت کی طرف لوٹنا جس پر وہ پہلے قائم تھی۔
اِسی بات کو اگر لفظ بدل کر بیان کیا جائے، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کا مطلب ہے ــــ حالتِ فطری کی طرف واپسی۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، ہر انسان صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر ماحول کے اثر سے وہ دھیرے دھیرے اپنی اصل فطرت سے ہٹ جاتا ہے۔ اسی کا نام بگاڑ ہے۔ صحیح معاشرہ قائم کرنے کا عمل، اسی بگاڑ کو درست کرنے سے شروع ہوتا ہے، یعنی فطرت سے انحراف کی حالت کو ختم کرنا اور دوبارہ لوگوں کو ان کی حالتِ فطری پر قائم کرنا۔ ایک لفظ میں اس عمل کو ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کہا جا سکتا ہے۔
حضرت عائشہ کی مذکورہ روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ ــــ انسان کی ڈی کنڈیشنگ کرکے اُس کو حالتِ فطری کی طرف واپس لاؤ۔ جب ایسا ہوگا تو اس کے بعد انسان کے اندر احکام کو قبول کرنے کی استعداد پیدا ہو جائے گی، اور نفاذِ شریعت کا کام بہ سہولت انجام پا سکے گا۔ گویا کہ پیغمبر اسلام کے طریقے کے مطابق، کسی سوسائٹی میں نفاذِ شریعت کے عمل کا آغاز، فکری تطہیر سے ہوتا ہے، نہ کہ قانون کے عملی نفاذ سے۔
موجودہ زمانے میں 57 مسلم ملک ہیں۔ ہر مسلم ملک میں مسلم رہنماؤں نے شریعت کے نفاذ کی تحریک چلائی، مگر لمبی جدوجہد کے باوجود کسی بھی ملک میں یہ تحریکیں اپنے مطلوب مقصد میں کامیاب ہر ملک میں ان تحریکوں نے صرف تشدد اور جبر کی روایتیں قائم کیں۔ اس اعتبار سے مسلم ملکوں کو دو گروپ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک قسم کے ملک وہ ہیں، جہاں حکم راں اور عوام کے درمیان پُرتشدد مقابلہ جاری ہے۔ دوسری قسم کے مسلم ملک وہ ہیں جہاں جبر کا نظام قائم ہو گیا ہے۔ یہ وہ ملک ہیں جہاں حکم راں طبقے نے نفاذ شریعت کی تحریکوں کو
مقہور کر لیا اور جبر کے زور پر اپنی حکم رانی قائم کرلی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں حالتیں، اسلامی نقطہ نظر سے غیر مطلوب حالتیں ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ سنت کے مطابق، مسلم ملکوں میں کام کرنے کا صحیح طریقہ یہ تھا کہ مسلم رہنما اپنے کام کا آغاز غیر سیاسی میدان میں کرتے۔ وہ پرامن تعلیم و تربیت کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور ان کے کردار کو بدلتے۔
اس تعمیری عمل کے دوران وہ ملک کے سیاسی نظام کے معاملے میں اسٹیٹس کو ازم (statusquoism) کا طریقہ اختیار کرتے۔ وہ یہ پالیسی اختیار کرتے کہ سیاست اور حکومت کے معاملے کو جمہوری عمل (democratic process) کے حوالے کردیتے۔ سیاست کے معاملے میں وہ لوگوں کو موقع دیتے کہ پرامن الیکشن کے ذریعے وہ جس کو چاہیں منتخب کریں اور پھر یہ منتخب لوگ ملک کا سیاسی نظام چلائیں۔ مسلم رہنما اگر اس دو طرفہ حکمت کو اختیار کرتے، تو یقینی طور پر ایسا ہوتا کہ بتدریج ملک کے حالات بدل جاتے ۔ ان ملکوں میں پہلے ذہن اور کردار کے اعتبار سے انقلاب آتا، اور پھر دھیرے دھیرے سیاست اور حکومت کے میدان میں بھی انقلاب آجاتا۔ مگر حکمتِ نبوی کو اختیار نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم رہنما جو کچھ حاصل کرنا چاہتے تھے، اُس کو تو وہ حاصل نہ کر سکے، البتہ انھوں نے مسلم سماج کے اندر بہت سے نئے نقصانات کا اضافہ کردیا۔
حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں مسلمانوں کو شدت کے ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے کہ حکم رانوں میں بگاڑ کے وقت اُن کا رویہ کیا ہونا چاہیے ۔ ان روایتوں میں شدت کے ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنے حکم رانوں میں تم خواہ کتنا ہی بگاڑ دیکھو، تم ہرگز اُن سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار مت کرو۔ اگر تم ضروری سمجھو، تو صرف تنہائی میں نصیحت پر اکتفا کرو، عملی ٹکراؤ یا حکم رانوں کو بدلنے کی تحریکیں ہرگز نہ چلاؤ۔
عدم ٹکراؤ کی اس پالیسی کا مطلب سرینڈر کرنا نہیں ہے۔ یہ دراصل یہ بتانے کے لیے ہے کہ سیاسی بگاڑ کے حالات میں تمھارے عمل کا نقطہ آغاز کیا ہونا چاہیے۔ ایسے حالات میں تمھارے عمل کا نقطہ آغاز یہ ہونا چاہیے کہ تم انتہائی حد تک پرامن رہتے ہوئے، غیر سیاسی دائرہ کار میں لوگوں کو
ایجوکیٹ (educate) کرنے کی کوشش کرتے رہو۔ یہ کوشش مسلسل جاری رکھو، یہاں تک کہ حالات اس حد تک بدل جائیں کہ پرامن طور پر تبدیلی ممکن ہو جائے۔
اسلام کی پالیسی ہر معاملے میں نتیجہ خیز عمل (result oriented action) کے اصول پر عمل کا مثبت نتیجہ نکلے تو عمل کرو، اور اگر مثبت نتیجہ نکلنے والا نہ ہو، تو سیاست سے مکمل طور پر الگ رہتے ہوئے پرامن اصلاح کا طریقہ اختیار کرو، اس طریقے کو اختیار کرنے سے ہمیشہ امن قائم ہوتا ہے، اور اس طریقے کے خلاف عمل کا نتیجہ ہمیشہ تشدد کی صورت میں نکلتا ہے۔