Al-Risala · February 2013

اتمامِ نور

Al-Risala, February 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ التحریم کی ایک آیت میں اہل ایمان کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں: يَومَ لا يُخزى اللهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُم يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (66:8) یعنی جس دن خدا، پیغمبر کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ اُن کا نور اُن کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا۔ وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب، تو ہمارے لیے ہمارے نور کو کامل کردے اور ہماری مغفرت فرما۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

قرآن کی اس آیت میں نور سے مراد کوئی خارجی نور نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد خود صاحبِ ایمان کی منور شخصیت (radiant personality) ہے۔ اسی طرح اتمام نور سے مراد کوئی خارجی نوعیت کا اتمام نور نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسا واقعہ ہے جو خود صاحبِ ایمان کی اپنی شخصیت کے اندر پیش آئے گا۔ اُن کا نور ان کے دائیں اور ان کے آگے دوڑ رہا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی منور شخصیت اتنی زیادہ نمایاں ہوگی کہ وہ لوگوں کو دور سے دکھائی دے گی۔ سچا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کے عمل کا خارجی پہلو اس دنیا میں لوگوں کو نظر آجاتا ہے، لیکن اس کے عمل کا باطنی پہلو دکھائی نہیں سچے اہل ایمان کے عمل کا یہ چھپا ہوا پہلو آخرت میں عیا ناً ظاہر ہو جائے گا۔ اسی حقیقت کو قرآن میں، نور کے دوڑنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اتمامِ نور کا مطلب یہ ہے کہ خدا یا، جس طرح دنیا میں ہمارے عمل کا خارجی پہلو ظاہر ہوا تھا، اُسی طرح تو ہمارے عمل کے داخلی پہلو کو بھی ظاہر کردے۔ مثال کے طور پر قرآن میں اہل ایمان کے لیے آیا ہے کہ: الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ (23:60) - اس آیت میں جس مومنانہ کردار کا ذکر ہے، اُس میں دیکھنے والوں کو صرف یہ نظر آئے گا کہ اُس نے مال کا ایک حصہ کسی کو دیا، لیکن اس کے عمل کا دوسرا پہلو کہ اُس وقت اُس کا دل خوفِ خدا کی کس کیفیت سے بھرا ہوا تھا، اُس کو دنیا میں کسی دیکھنے والے نے نہیں دیکھا۔ میں یہ ہوگا کہ ایسا مومن اپنی شخصیت کے دونوں پہلوؤں کے ساتھ نمایاں ہو جائے گا۔

Printed page