کسی کی انا کو مت چھیڑیے
Al-Risala, November 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر آدمی کی ایک انا ہوتی ہے۔ کوئی آدمی اُسی وقت تک معتدل (normal) رہتا ہے جب تک اس کی انا سوئی ہوئی ہو۔ جیسے ہی آپ اس کی انا کو چھیڑیں ، اس کا اعتدال ختم ہو جائے گا۔ اسی حقیقت کا اظہار ایک انگریزی مثل میں اس طرح کیا گیا ہے۔ ہر گز کسی کو فارگرانٹیڈ نہ لو: Never take someone for granted. ہر عورت اور مرد پیدائشی طور پر انا کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ انا (ego) ہر انسان کی شخصیت کا لازمی حصہ ہے، حتیٰ کہ ایسے افراد جو بظاہر متواضع (modest) دکھائی دیتے ہوں، وہ بھی اتنا ہی زیادہ انا کی نفسیات لیے ہوئے ہوتے ہیں جتنا کہ بظاہر غیر متواضع انسان۔ دونوں کے درمیان فرق صرف یہ ہے کہ پہلا شخص اُس وقت انانیت (egoism) کا کیس بنتا ہے جب کہ اس کی انا پر ضرب لگادی جائے، جب کہ دوسری قسم کا انسان ہر وقت کبر (arrogance) کی تصویر بنارہتا ہے۔ ایسی حالت میں سماج کے اندر عافیت کی زندگی گزارنے کا ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ آپ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں بے حد محتاط رہیں اور کبھی کوئی ایسی بات اپنی زبان سے نہ نکالیں جس سے دوسرے کی انا پر ضرب پڑتی ہو۔
یہ ایک عملی حقیقت ہے کہ آدمی سماج کے اندر سب سے لڑکر نہیں رہ سکتا۔ ایسی حالت میں سماج کے اندر با عافیت زندگی گزارنے کی ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے ۔ دوسروں کے جذبات کی رعایت کرتے ہوئے اس سے معاملہ کرنا۔
اس معاملے میں آدمی کے پاس صرف دو میں سے ایک کا اختیار (choice) ہے، یا تو دوسروں سے لڑکراپنی زندگی کو غیر ضروری طور پر مشکل بنالینا، یا اپنے کو بے مسئلہ انسان (no-problem person) بنا کر دوسروں کے شر سے اپنے آپ کو بچالینا۔ جو آدمی اپنے آپ کو بے مسئلہ بنالے، وہ اس سے بچ جاتا ہے کہ دوسرے انسان اس کے لیے مسئلہ (problem) بنیں۔
سوال و جواب مسلمانوں کے زوال اور انحطاط کا بنیادی سبب کیا ہے؟ اس زوال وانحطاط کا منبع کہاں ہے۔ اصلاح احوال کی ہر کوشش کیوں ناکام ہوگئی۔ اور یہ سوال کہ اس زوال وانحطاط کے منبع کو بند کرنے کی تدبیر کیا ہونی چاہئے۔ کیا اس کا سب سے بنیادی سبب ہمارے بیچ کئی لاکھ حدیث ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے دوسوسال بعد مرتب کی گئی ہے یا کوئی دوسری وجہ ہے، براہ کرم (سید ثاقب علی ہاشمی، پٹنہ، بہار)
1- امت مسلمہ کا زوال کسی پر اسرار سبب کی بنا پر نہیں ہے۔ یہ ایک عام فطری قانون کی بنا پر ہے اور وہ وہی ہے جس کو ابن خلدون (وفات: 1406) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: للأقوام أعمار، كما للأفراد أعمار۔ جن گروہ کا کوئی نظریہ (ideology) نہ ہو، جس کا مقصد صرف کھانا کمانا ہو، اُس کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ عام حالات میں زوال کا شکار نہ ہو، لیکن ایسا گروہ جو ایک نظریہ یا آئیڈیالوجی کی بنیاد پر بنے، اُس کے لیے ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کی بعد کی نسلوں میں نظریاتی ضعف آجاتا ہے۔ نظریاتی گروہ کے بجائے صرف ایک قومی گروہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اِسی حالت کا نام زوال ہے۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال ہوا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اسلام بطور نظریہ یا اسپرٹ باقی نہیں رہا، اب وہ صرف ایک کلچر کے طور پر باقی ہے، جیسا کہ زوال یافتہ قوموں کے درمیان ہمیشہ ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ایک کلچرل گروپ کی حیثیت سے زندہ ہیں، نہ کہ ایک نظریاتی گروپ کی حیثیت سے۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی اصلاحی تحریکیں اٹھیں، مگر وہ سب کی سب اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ اس ناکامی کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اس مفروضے کے ساتھ اپنا کام شروع کیا کہ یہاں ایک ’’خیر امت‘‘ موجود ہے اور اس کو
زندہ کرنے کے لیے صرف یہ کرنا ہے کہ اس کے اندر جوش و ولولہ پیدا کر دیا جائے۔ اقبال کا یہ شعر اسی ذہن کی نمائندگی کرتا ہے:
نوارا تلخ تر می زن چو ذوق نغمه کم یابی حدی را تیز ترمی خواں چو محمل را گراں بینی احیاء امت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خیر امت نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک زوال یافتہ امت (degenerated community) اس اعتراف کے بعد آپ کو صحیح نقطہ آغاز مل جائے گا، یعنی لوگوں کے اندر سب سے پہلے ایمانی شعور پیدا کرنا۔ مزید یہ کہ اصلاح امت کا کام اصلاح افراد سے شروع ہوگا، اس طرح نہیں کہ مسلمانوں کی بھیڑ جمع کر کے اسٹیج سے اُن کے سامنے پرجوش تقریر کی جائے۔ یہ بھی صحیح آغاز نہیں کہ اسلام کے نام سے بڑے بڑے ادارے یا مسلم حکومتیں قائم کی جائیں۔ اس قسم کی کوششوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے دیمک زدہ لکڑی پر کوئی عمارت کھڑی کرنا۔ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
بعض جماعتوں نے اصلاحِ ایمان کے نام سے تحریکیں چلائیں، لیکن اصل نشانے کے اعتبار سے وہ بھی ناکام ہو گئیں۔ اس ناکامی کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے فضائل کی کہانیاں سنا کر امت کو بیدار یہ ایسا ہی تھا جیسے امانی (2:78) کی بنیاد پر کسی قوم کو اٹھایا جائے۔ مگر فضائل کی کہانیوں یا امانی کی داستانوں کے ذریعے کسی زوال یافتہ قوم کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ زوال یافتہ امت کو دوبارہ زندہ کرنے کا صحیح طریقہ وہ ہے جو کہ مبنی بر افراد ہو، نہ کہ مبنی بر قوم۔ اس طریقے کو قرآن میں بتا دیا گیا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے آپ قرآن کی سورہ الحدید کی آیت 17 کا مطالعہ کیجئے ۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’قیادت نامہ‘‘، صفحہ: 183-180)۔ حدیث کی بنیاد پر مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے، نہ اُس کا کوئی تعلق زوال امت سے ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ’’تجدید دین‘‘، صفحہ 38-21) حقیقت یہ ہے کہ اختلاف ایک امر فطری ہے، وہ ہمیشہ ہوگا، اختلافِ خالق کے تخلیقی منصوبے کا لازمی حصہ ہے۔
اختلاف کو ختم کرنا کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ اختلاف کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ برداشت کی عدم زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہوا ہے کہ وہ اختلاف کو ڈسکشن کا موضوع نہیں بناتے، اختلاف پیش آتے ہی وہ برہم ہوجاتے ہیں، یہ برہمی اتنی زیادہ بڑھتی ہے کہ ٹکراؤ اور جنگ کی نوبت آ جاتی ہے۔ اگر آپ کو مسلمانوں کی اصلاح کرنا ہے تو اختلاف کے خاتمے کی ناممکن الحصول کوشش نہ کیجئے، بلکہ اُن کے اندر برداشت اور تحمل کی صفت پیدا کیجئے ۔ بعد آپ دیکھیں گے کہ اختلاف ان کے لیے رحمت بن گیا ہے۔ اختلاف کو اگر ڈسکشن (discussion) کا موضوع بنایا جائے تو اس سے ذہنی ارتقا ہوتا ہے اور اگر اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو اختلاف تو ختم نہ ہوگا، البتہ قوم برباد ہو کر رہ جائے گی۔ میں ماہ نامہ الرسالہ کا ایک عرصہ دراز سے مستقل خریدار اور قاری ہوں۔ آپ کی تحریر کردہ بہت سی کتابیں میں نے پڑھی ہیں۔ زکوۃ کے مصارف میں ”فی سبیل اللہ“ کی مد میں ”تملیک“ کے ذریعہ زکوۃ اور فطرہ وغیرہ کی رقم کا استعمال ایک عام بات ہوگئی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ دور میں آپ جیسا عالم دین ہی غیر جانبداری کے ساتھ ایک تحقیقی مقالہ یا کتاب اس موضوع پر تحریر کر سکتا ہے جس میں تملیک کی تعریف ، شرعی حیثیت ، ابتدا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور تابعین کے دور میں تملیک کی موجودگی اور اس پر عمل آوری جیسے سوالات کا تشفی بخش جواب تحریر ہو اور غیر جانبدارانہ تجزیہ بھی ہو۔ (اقبال حسین، اجین، مدھیہ پردیش) زکات کے موضوع پر کافی لکھا گیا ہے۔ اس سلسلے میں میں آپ کو تین کتابیں پڑھنے کا مشورہ دوں گا— زکات کا اجتماعی نظام (مولانا ابوالکلام آزاد)، فقہ الزکات (ڈاکٹر یوسف القرضاوی)، مسئلہ تملیک کی شرعی حیثیت (مولانا شہاب الدین ندوی)۔
زکات کے معاملے میں ”لامِ تملیک“ کی بحث صرف ایک فنی بحث ہے، اس کی بنیاد قرآن اور حدیث کے کسی واضح حکم پر مبنی نہیں ہے۔ جن علما نے لامِ تملیک کا مسئلہ وضع کیا ہے، وہ اُن کا صرف ذاتی استنباط ہے اور استنباط کے معاملے میں ہمیشہ اختلاف کی گنجائش رہتی ہے۔ آپ کو یہ حق ہے کہ آپ چاہیں تو اس استنباط کو مانیں، یا اگر آپ کے پاس کوئی دلیل شرعی موجود ہو تو آپ جائز طور پر یہ حق رکھتے ہیں کہ آپ اس استنباط کو نہ مانیں۔
خود ماہ نامہ الرسالہ میں اِس موضوع (زکات کا مسئلہ) پر ایک مضمون چھپ چکا ہے۔ کو بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں (ماہ نامہ الرسالہ، جنوری 1997ء، صفحہ: 18-14)۔ عرض ہے کہ میں نے جولائی 2013 کا الرساله ملاحظہ کیا۔ ہمیشہ کی طرح معنی خیز اور علمی باتوں سے مزین ہے اور ہمیشہ کی طرح کچھ نہ کچھ اختلافی باتیں ذہن میں کھٹک پیدا کرنے والی ہیں۔ نے تبلیغی جماعت کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ تحریک لوگوں کو نماز پر کھڑا کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی اور بعد کو اس میں غلو اور تعصب آگیا (صفحہ: 15)۔ پہلی بات تو یہ کہ آپ نے اس کا تعارف غلط پیش کیا ہے۔ مولانا الیاس کے بقول، وہ اس تحریک سے یہ چاہتے تھے کہ امت اُسی سطح پر آجائے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چھوڑ کر گئے تھے۔ یہ آپ کے قول کے برخلاف، ایک ہمہ گیر عنوان ہے جو اُسی فکر و منہج کے ساتھ اب تک چلا آتا ہے اور انشاء اللہ چلتا رہے گا۔ کچھ لوگوں کے ذاتی کردار کو کسی تحریک پر تبصرہ کی شکل میں پیش نہیں کیا جاسکتا، ٹھیک اُسی طرح جیسے کوئی مسلمانوں کے اعمال سے اسلام پر تبصرہ کرے۔ میں ایک سال کی جماعت سے حال ہی میں لوٹا ہوں، میں نے اس شجر کی کچھ شاخوں کو تو باغی ضرور پایا ہے، لیکن جڑیں معمولی تغیر کے ساتھ اب بھی مضبوط ہیں، اور اگر آپ کی نظر میں کوئی چیز غلط ہے تو اس کی وضاحت کریں۔ (عبد الحسیب، کیرانہ، یوپی) تبلیغی جماعت کے بارے میں الرساله میں جو بات میں نے لکھی ہے، وہ کوئی ذاتی رائے نہیں ہے۔
مولانا انعام الحسن کاندھلوی (وفات: 2006) جو تبلیغ میں تیسرے ”حضرت جی“ کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ مبینہ طور پر کہتے تھے کہ تبلیغی تحریک ایک مسجد وار تحریک ہے۔ مولانا انعام الحسن کاندھلوی کا یہ بیان کوئی مخفی بیان نہیں ہے، تبلیغ کے سبھی لوگ اس سے واقف ہیں۔
دوسری بات یہ کہ میں خود جماعت میں گیا ہوں۔ میں نے اپنے ذاتی تجربے میں یہی پایا ہے کہ ہر بار مسجد میں ایک ہی قسم کی باتیں کہی جاتی ہیں۔ ایک ہی قسم کی کتاب پڑھ کر ہمیشہ سنائی جاتی ہے اور تقریر میں ہمیشہ تقریباً ایک ہی قسم کی باتیں کہی جاتی ہیں۔ میں نے الرسالہ میں جو کچھ لکھا ہے، وہ ایک واقعہ ہے، وہ کوئی ذاتی تبصرہ نہیں۔
غلو کی بات جو میں نے لکھی ہے، وہ ایک عام مشاہدے کی بات ہے۔ مجھ سے بہت سے لوگوں نے یہ بات کہی کہ تبلیغی جماعت میں غلو کا مزاج آ گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں، وہ اس کے مخالف نہیں۔ غلو کیا چیز ہے۔ غلو دراصل جمود (stagnation) کا نام ہے اور یہ ظاہر ہ ہر تحریک میں بعد کو پیدا ہو جاتا ہے۔ تبلیغی جماعت اس معاملے میں کوئی مستثنیٰ جماعت نہیں۔ آپ نے مولانا الیاس کاندھلوی (وفات: 1944) کے جس ملفوظ کا ذکر کیا ہے، وہ ملفوظ بجائے خود درست ہو سکتا ہے، لیکن تحریکیں کسی ملفوظ پر نہیں چلتیں، تحریکوں کے ارتقا کے اپنے اسباب وعوامل (factors) ہوتے ہیں۔ یہی اسباب وعوامل ہیں جو تحریکوں کے حال اور مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں، نہ کہ کوئی ملفوظ۔