سوال و جواب
Al-Risala, November 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
1980 کے شروع کا کوئی مہینہ ہوگا جب میں نے الرسالہ اور مولانا صاحب کی بعض تصانیف دیکھی تھیں ۔ پہلے میں نے الرسالہ کی ایک کاپی اٹھائی اور اس کے اوراق الٹ پلٹ کر کے دیکھا تو اس میں اس وقت چند آیتوں کا ترجمہ اور تفسیر تھی جو میں نے پڑھی اور کافی پسند آئی، پھر میں نے وہ الرسالہ خرید لیا اور اس وقت سے لے کر آج تک الرسالہ خریدتا آ رہا ہوں اور بغور پڑھتا آ رہا ہوں۔ ہاتھ میں آنے کے بعد جب تک اس کو پڑھ کر مکمل نہ کرلوں، چین نہیں ملتا۔ الرسالہ کے ساتھ ساتھ
مولانا صاحب کی دیگر تصانیف میں سے %70 کتابیں بھی منگا کر پڑھ چکا ہوں ۔ اس وقت مطالعہ میں جو کتاب چل رہی ہے ، وہ ہے ’’کتاب معرفت‘‘ ۔ میری تعلیم بہت کم ہے ، لیکن الرسالہ کے مسلسل مطالعے سے جو میں نے اثرات قبول کئے ، وہ درج ذیل ہیں۔
سب سے پہلا الرساله پڑھ کر محسوس کیا کہ الرساله میرے احساس کی علمی پیاس بجھانے والا ایک ذریعہ ہے۔ الرسالہ کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے میں ہر دینی اجتماع میں شریک ہو کر دینی باتیں سنتا تھا ، مگر علمی ذوق تشنہ رہتا تھا۔ جب الرساله کے ساتھ ساتھ دیگر کتابیں بھی پڑھ لیں تو ایسا لگا کہ اب تلاش حق کا ذریعہ الرسالہ اور مولانا کی دیگر تصانیف ہیں۔ الرسالہ کا مطالعہ کرنے سے پہلے میرا ذہن بند تھا اور پھر محسوس ہوا کہ الرسالہ سے پہلے حق کی پکیڈنڈیوں پر چل رہا تھا اور اب شاہ راہ پر چلنے لگا ہوں۔ الرسالہ کا مطالعہ کرنے پہلے میرے ذہن کی یہ حالت تھی کہ میں اگر کسی موضوع پر غور کرتا تو کچھ سوچنے کے بعد میرا ذہن آگے سوچنے سے رک جاتا تھا۔ اور ایک طرح کی پریشانی محسوس ہوتی تھی۔ لیکن جب سے الرسالہ پڑھنا شروع کیا ، آہستہ آہستہ میرا ذہن کھلتا گیا اور کسی بھی بات پر غور کرنا آسان ہوتا گیا، یہاں تک کہ اب کوئی بھی بات یا مسئلہ آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے۔ میں نے صرف الرساله پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ میں نے آپ کی دیگر تصانیف کا بھی مطالعہ کیا۔ جیسے ’’الاسلام‘‘، ’’تجدید دین‘‘ وغیرہ۔ ہر ماہ کے الرسالہ کا انتظار رہتا ہے اور ملتے ہی پڑھنا شروع کر دیتا ہوں اور جب تک ختم نہ کرلوں ، چین نہیں ملتا۔ یہی حال باقی کتابوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔
الرسالہ کے مطالعہ سے دین اور دنیا کی اہم معلومات حاصل ہوتی رہتی ہیں۔ الرساله کو مسلسل پڑھتے رہنے سے خود ایسا احساس ہوتا ہے کہ آپ خود بھی ڈگری یافتہ ہو گئے ہیں۔ جن حضرات نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی ہو ، وہ مولانا کا لٹریچر پڑھیں۔ الرسالہ کے مطالعہ سے ذہن کا ارتقا ہوتا ہے۔ ذہن میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، اور ہم خود ہی غور فکر کرنے لگتے ہیں۔
الرسالہ کے مسلسل پڑھتے رہنے سے آدمی اپنی گفتگو میں مثبت انداز اختیار کرتا ہے۔
8- الرساله کے متواتر مطالعہ سے اپنے اندر کی جھجھک بھی دور ہو جاتی ہے۔ کسی مسئلہ پر چند صاحبان کے درمیان خود بھی کچھ بولنے کی ہمت پیدا ہو جاتی ہے۔
9- الرساله کے پڑھنے والوں کے اندر سنجیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔
10- الرساله پڑھنے والے حضرات لایعنی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور اپنے آپ خاموشی سے غور و فکر میں مشغول ہوتے ہیں الرساله کا مشن ہی یہ ہے کہ ہر مسلمان آخرت پسند بنے۔ 11- الرساله کے لگاتار پڑھنے سے سب سے بڑا فائدہ قرآن و حدیث کی تفسیر پڑھنے سے گو یا الرساله کے مطالعہ سے ہم تفسیر کا مطالعہ بھی جاری رکھے ہوتے ہیں۔ 12- الرساله کے مسلسل مطالعہ کے ذریعہ ہمارے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالوں کے جوابات بھی ملتے رہتے ہیں۔
13- الرساله کے مسلسل مطالعہ سے اپنی اردو کے ساتھ انگریزی بھی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ جن الفاظ کے معنی ہم ڈکشنری میں نہیں دیکھ سکتے، وہ الرساله میں مل جاتے ہیں۔ 14- ڈگری یافتہ حضرات کے لئے صرف ڈگری کافی نہیں ہوتی، ان کو چاہئے کہ وہ کسی عالم دین کے لٹریچر کا مطالعہ کریں۔ مطالعہ کے لئے مولانا صاحب کا لٹریچر بہترین لٹریچر ہے۔ ساتھ میں الرساله کا بھی مطالعہ جاری رکھیں۔
آخر میں مولانا صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے الرساله کے ذریعے اور اپنی تصانیف اور لٹریچر سے ہم کو ایک اچھا مسلمان اور ہندستان کے لئے ایک اچھا شہری بننے میں بہت مدد (سر فراز الدین، ٹیلر ماسٹر، بنگلور)
یہ تحریر اس بات کی ایک اچھی مثال ہے کہ دعوت کا نشانہ عمل متلاشی افراد (individual seekers) ہیں، نہ کہ بھیڑ ایکٹوزم (crowd activism)، یعنی متلاشی افراد کو لے کر اُن پر محنت کرنا، نہ کہ بھیڑ اکٹھا کر کے اُن کے سامنے تقریریں کرنا۔
یرحمہم اللہ، ان کا مقام ہو، وہ تو خیر اپنی جگہ تنسیخ ہر سماج میں ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جن کے اندر روح متجسس (spirit of inquiry) پائی جاتی ہے، جو افکار کے جنگل میں یہ جاننا چاہتے ہیں کہ سچائی کیا ہے۔ دعوت کا عمل ابتداء عمومی انداز میں شروع ہوتا ہے، لیکن اس عمل کا مقصد تجسس افراد کو دریافت کرنا ہے۔ جب داعی کو ایسے افراد مل جائیں تو اس کو چاہئے کہ وہ ایسے افراد پر اپنی ساری طاقت خرچ کرے۔
اس معاملے میں داعی کا مزاج چیونٹی جیسا مزاج ہوتا ہے۔ چیونٹی جب کسی ڈھیر کو پاتی ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتی کہ وہاں دوسری کیا کیا چیزیں موجود ہیں۔ وہ صرف شکر (sugar) کے دانوں کو دیکھتی ہے اور اپنی پوری توجہ شکر کے انھیں دانوں پر لگا دیتی ہے۔ یہی داعی کا طریقہ ہے۔ داعی کو چاہئے کہ وہ اسی چیونٹی کلچر کو اختیار کرے۔
اجتماعی حالات خواہ کتنے ہی زیادہ بگڑے ہوئے ہوں، لیکن ہر سماج میں متلاشی حق افراد ضرور موجود ہوتے ہیں۔ ایسے ہی افراد داعی کا اصل سرمایہ ہیں۔ یہ افراد تعلیم یافتہ بھی ہو سکتے ہیں اور غیر تعلیم یافتہ وہ سند اور ڈگری رکھنے والے بھی ہو سکتے ہیں اور سند اور ڈگری نہ رکھنے والے بھی۔ اس معاملے کی ایک اچھی مثال ہے۔
کر سکتے ہیں، بلکہ اس کا جواب دیا صدر اسلامی مرکز کے آڈیو اور ویڈیو لیکچرز کے لیے حسب ذیل ویب لنکس ملاحظہ ہوں:
Date of Posting 10th and 11th of advance month Published on the 1st of every month عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر اسلام کیا ہے عورت مقام انسانیت حرفِ ابد: قرآن
صنعتی انفجار کے زمانے میں معاشی محرومی کی شکایت کرنا ایسا ہی ہے جیسے بارش کے زمانے میں پانی نہ ملنے کی شکایت کرنا۔