لسُ
Al-Risala, December 2013, pp. 1–3
By Maulana Wahiduddin Khan
بسم الله الرحمن الرحيم جاری کرده 1976 اردو اور انگریزی میں شائع ہونے والا اسلامی مرکز کا ترجمان صدر اسلامی مرکز 1, Nizamuddin West Market New Delhi-110 013 Mob. 8588822679, 8588822680 Tel. 011-46521511, 41827083, Single copy ₹15 One year ₹150 Two years ₹ 300 Three years ₹ 450 By Registered Mail:
One year ₹400 Two years ₹ 800 Three years ₹1200 Abroad by Air Mail. One year $20 Printed and published by Saniyasnain Khan on behalf of Al-Markazul Islami, New Delhi. Printed at Nice Printing Press, 7/10, Parwana Road, Khureji Khas, Delhi-110 051 حدیث رسول ایک مطالعه سیرت رسول کا ایک علمی اور تاریخی مطالعه مولانا وحید الدین خاں مولانا وحیدالدین خاں
حدیثِ رسول ایک مطالعہ قرآن اور حدیث خالص علمی اعتبار سے، قرآن اور حدیث میں کوئی فرق نہیں۔ جس پیغمبر کی زبان سے حدیث کے الفاظ نکلے ہیں، قرآن کا کلام بھی یقینی طور پر اُسی پیغمبر کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔ گویا کہ عام حدیث اگر صرف حدیث ہے تو قرآن کی حیثیت حدیث قدسی کی ہے۔ حدیث کے معاملے میں اگر راوی یہ کہتا ہے کہ: سمعت عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، تو قرآن کے معاملے میں پیغمبر یہ کہتا ہے کہ: سمعت عن جبريل۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن سے ہمارا تعلق براہِ راست نہیں ہے، بلکہ ہمارے اور قرآن کے درمیان ایک پیغمبر کا واسطہ موجود ہے۔ اگر پیغمبر کو درمیان سے ہٹا دیا جائے تو قرآن ہمارے لیے صرف لائبریری کی ایک کتاب کے مانند ہو جائے گا، وہ خدا کی طرف سے اتارا ہوا کلام نہ رہے گا۔ بعد قرآن کے حق میں وہ تاریخی اعتباریت (historical credibility) ہی باقی نہ رہے گی جس کی بنیاد پر ہم قرآن کو خدا کا ایک معتبر کلام مانتے ہیں۔
کسی کا یہ کہنا کہ میں قرآن کو مانتا ہوں، مگر میں حدیث کو نہیں مانتا، یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ بظاہر قرآن کو مانتے ہوئے قرآن کا انکار کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن راویوں کے ذریعے ہم کو حدیث رسول پہنچی ہے، اُنھیں راویوں کے ذریعے ہم کو قرآن بھی ملا ہے۔ آج جو قرآن ہمارے ہاتھ میں ہے، وہ براہِ راست ہم پر نہیں اترا۔ وہ ٹھیک اِسی سلسلۂ روایت کے ذریعے ہم کو ملا ہے جس سلسلۂ روایت کے ذریعے احادیث رسول ہم تک پہنچی ہیں۔ ایسی حالت میں ایک کو ماننا اور دوسرے کو نہ ماننا، خالص غیر منطقی اور غیر علمی بات ہے۔ ایسے موقف کے لیے حقیقی طور پر کوئی جواز موجود نہیں۔ حدیث، ایک اعتبار سے، قرآن کے انطباق (application) کو بتاتی ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں ہے کہ تم اللہ کا ذکر کثیر (33:41) کرو۔ اس آیت کا عملی انطباق ہم کو حدیث کے ذریعے
معلوم ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ: کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم يذكر الله على كل أحيانه (صحیح البخاري، رقم الحدیث: 597)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ہر موقع (occasion) کو اللہ کی یاد کے لیے پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بناتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل مستند طور پر بتاتا ہے کہ قرآن کی اصولی تعلیم کا عملی انطباق کیا ہے۔ کتاب اور سنت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے آخری زمانے میں صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: تركت فيكم أمرين، لن تضلوا ما تمسكتم بهما کتاب الله وسنة رسوله (موطأ، رقم :
1619) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خطاب صحابہ کے واسطے سے، تمام امت سے ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں۔ تم ہرگز گم راہ نہیں ہو گے، جب تک تم ان دونوں چیزوں کو پکڑے رہو گے۔ یہ دو چیزیں ہیں ــــ اللہ کی کتاب، اور اُس کے رسول کی سنت۔
قرآن اور سنت دونوں یکساں طور پر ہدایت الہی کا ماخذ ہیں۔ آج قرآن ایک چھپی ہوئی کتاب کی صورت میں ہر ایک کے پاس موجود ہے، لیکن ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن، کلام الہی کی حیثیت سے اترا تو وہ کتاب کی صورت میں نہیں اترا تھا، بلکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہوا تھا۔ معاصر اہل ایمان نے جس طرح حدیث کو پیغمبر کی زبان سے سنا، اُسی طرح انھوں نے قرآن کو بھی پیغمبر کی زبان سے سنا۔ پیغمبر کے بتانے سے سننے والوں نے یہ جانا کہ قرآن، اللہ کا کلام ہے۔ گویا کہ عام حدیث اگر حدیث رسول ہے تو قرآن کی حیثیت حدیث قدسی کی ہے۔