حسبنا کتاب الله
Al-Risala, December 2013, pp. 3–4
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہدایت کے لیے قرآن کافی ہے، ہدایت کے لیے ہم کو حدیث کی ضرورت یہ ایک نیا ظاہر ہے جو موجودہ زمانے میں پیدا ہوا ہے۔ اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ میں اس سے پہلے کبھی یہ ذہن موجود نہ تھا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں ساتویں صدی عیسوی میں خوارج کے نام سے جو فرقہ ظاہر ہوا، وہ یہی ذہن رکھتا تھا۔ علی اور معاویہ کے درمیان جو نزاع پیدا ہوئی، اس کے تصفیہ کے لیے خوارج نے قرآن کا
حوالہ دیا تھا۔ انھوں نے قرآن کو نیزے پر اٹھایا اور یہ نعرہ بلند کیا: حسبنا کتاب اللہ۔ قدیم زمانے کے خوارج آج کل کی اصطلاح میں ’’اہل قرآن‘‘ نہ تھے۔ انھوں نے حسبنا کتاب اللہ کا نعرہ حدیث کے مقابلے میں نہیں دیا تھا، وہ صرف اس معنی میں تھا کہ قرآن کی آیت: حَكَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَھْلِھَا(4:35) (4:35) کے مطابق ، اس معاملے کو تحکیم کے اصول کے مطابق حل کیا جائے، یعنی ایک حکم (arbitrator) علی بن ابی طالب کے گروہ سے لیا جائے اور دوسرا حکم معاویہ بن ابی سفنیان کے گروہ سے لیا جائے ۔ اور یہ دونوں حکم باہمی گفت و شنید سے جو فیصلہ دیں، اس کو دونوں گروہ مان لیں۔ چناں چہ تاریخ بتاتی ہے کہ ابو موسیٰ اشعری اور عمروبن العاص حکم کے طور پر مقرر کئے گئے اور اس کے مطابق فیصلے کا اعلان کیا گیا۔