Al-Risala · December 2013

قرآن اور حدیث کا تعلق

Al-Risala, December 2013, pp. 4–5

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک حقیقت ہے کہ دین اسلام کا مستند ماخذ قرآن بھی ہے اور حدیث (سنت) بھی۔ سے مراد وہ مجموعہ ہے جو وحی کی بنیاد پر مرتب ہوا اور جس کے اندر 114 سورتیں ہیں۔ فی تعریف (definition) کے مطابق ، تین چیزوں کا نام ہے — قول، عمل، اور تقریر۔ قول سے مراد وہ الفاظ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے مختلف مواقع پر ادا ہوئے ۔ عمل سے مراد وہ چیزیں ہیں جو آپ نے خود کر کے دکھایا۔ تقریر سے مراد وہ چیز ہے جو آپ کے سامنے کی گئی اور آپ نے براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کی تائید فرمائی۔ انھیں دونوں چیزوں (قرآن اور سنت) کے مجموعے کا نام دینِ اسلام ہے۔ یہ دونوں چیزیں یکساں طور پر اسلامی احکام کا ماخذ ہیں۔ تاہم دونوں میں ایک فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ اصولی طور پر قرآن میں دین کی اساسات بیان کی گئی ہے اور حدیث سے ہم کو دین کی تفصیلات کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اساسات اور تفصیلات کا یہ فرق بالکل فطری ہے۔ یہ فرق ہر جگہ موجود رہتا ہے، خواہ دینی علم کا معاملہ ہو، یا سیکولر علم کا معاملہ۔ کے طور پر سائنس کے دو شعبے مانے جاتے ہیں — خالص سائنس (pure science)، اور انطباقی سائنس (applied science) ۔ یہی معاملہ اسلام کا ہے ۔ اسلام میں بھی ایک

خالص اسلام (pure Islam) ہے، اور دوسرا انطباقی اسلام (applied Islam) ہے۔ اس تقسیم کو دین اور شریعت کے الفاظ میں بھی بیان کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کو سمجھنے کے لیے یا اُس پر عمل کرنے کے لیے اس کے دونوں پہلوؤں سے واقفیت یکساں طور پر ضروری ہے۔ اس سلسلے میں یہاں چند مثالیں درج کی جاتی ہیں، جن سے اس معاملے کی نوعیت کا اندازہ ہوگا۔

Printed page