Al-Risala · December 2013

غلط تقابل

Al-Risala, December 2013, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے قرآن کافی ہے، ہم کو حدیث کی ضرورت نہیں، وہ دراصل ایک غلط تقابل (wrong comparision) کا شکار ہیں۔ جب وہ قرآن کا نام لیتے ہیں تو اُن کے ذہن میں وہ قرآن ہوتا ہے جو آج چھپا ہوا مجلد صورت میں اُن کے سامنے موجود ہے۔ اس کے برعکس، جب وہ حدیث کا ذکر کرتے ہیں تو اُس وقت اُن کے ذہن میں ابتدائی دور کی وہ تاریخ ہوتی ہے، جب کہ حدیث کا ذخیرہ منتشر صورت میں تھا اور اُس کو مدوّن صورت میں جمع کیا گیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ کرتے ہیں کہ آج کے مطبوعہ قرآن کا تقابل، ماضی کے اُس ذخیرہ حدیث سے کرتے ہیں، جب کہ حدیثیں منتشر طور پر غیر مطبوعہ صورت میں موجود تھیں۔ حالاں کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ دونوں کا تقابل قبل از تدوین حالت اور بعد از تدوین حالت سے کیا جائے، یعنی مطبوعہ قرآن کا تقابل، مطبوعہ حدیث سے کیا جائے اور اسی طرح غیر مطبوعہ قرآن کا تقابل، غیرہ مطبوعہ حدیث سے۔ تاریخ کے مطابق ، قرآن اور حدیث دونوں ہی پر دو مختلف دور گزرے ہیں، یعنی قبل از تدوین دور، اور بعد از تدوین دور۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ قبل از تدوین قرآن کا تقابل، قبل از تدوین حدیث سے کیا جائے، اور بعد از تدوین قرآن کا تقابل بعد از تدوین قرآن سے کیا جائے۔ مگر عملاً ایسا جو لوگ اس طرح کے خیالات سے متاثر ہوتے ہیں، اُن کے ساتھ عملاً یہی ہوتا ہے کہ وہ حدیث کا انکار کرنے والوں کا لٹریچر پڑھتے ہیں اور اس سے متاثر ہوجاتے ہیں، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے مطالعے کی تکمیل کے لیے قرآن کی ابتدائی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ اگر ایسے لوگ دوطرفہ مطالعہ کریں تو وہ محسوس کریں گے کہ جس بنیاد پر وہ حدیث کے استناد کو رد کر رہے ہیں، اگر وہ بنیاد

علمی طور پر درست ہے تو اسی بنیاد پر اُنھیں قرآن کے استناد کو بھی رد کرنا پڑے گا ۔ اُنھیں یا تو دونوں کو لینا ہے، یا دونوں کو رد کرنا ہے۔ مگر وہ اس معاملے میں تیسرا انتخاب (third option) لیے ہوئے ہیں، اور اس طرح کے معاملے میں کبھی تیسرا انتخاب درست نہیں ہوتا۔

Printed page