Al-Risala · December 2013

حدیث کی تدوین

Al-Risala, December 2013, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اُس وقت حدیثیں زیادہ تر صحابہ کے حافظے میں وہ مختلف مقامات پر ان کا چرچا کرتے رہے۔ اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز (وفات: 720ء) کو یہ خیال ہوا کہ جس طرح قرآن کی تدوین ہوئی ہے، اسی طرح حدیث کی بھی تدوین کر دی جائے ۔ اس سلسلے میں صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: انظر ما كان من حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم فاكتبه، فإني خفت دروس العلم وذهاب العلماء (صحيح البخاري، رقم الحديث: (97) یعنی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک تابعی عالم ابو بکر بن حزم کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھیلی ہوئی احادیث کو جمع کرو اور ان کو قید تحریر میں لاؤ۔ کیوں کہ مجھے ڈر ہے کہ علم مٹ جائے اور علما باقی نہ رہیں۔ اسی طرح خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے اُس زمانے کے ایک مشہور تابعی عالم محمد بن شہاب الزہری (وفات: 124 ہجری) کو حدیث جمع کرنے کا حکم دیا۔ اسی طرح انھوں نے اسلامی ملکوں کے دوسرے حکام کو بھی ذخائر حدیث کے جمع و تدوین کا تاکیدی حکم بطور فرمان بھیجا۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز، اسلامی ریاست کے تحت، احادیث کو مدون کرنا چاہتے تھے، لیکن جلد ہی خلیفہ کی وفات ہوگئی اور یہ کام اُس وقت انجام نہ اس کے بعد عباسی خلافت کا زمانہ آیا ۔ اُس وقت علماءِ اسلام کی ایک بڑی جماعت نے بطور خود اس کام کو انجام دیا، جن کو محدثین کہا جاتا ہے۔

Printed page