حفاظت قرآن، حفاظت حدیث
Al-Risala, December 2013, pp. 6–10
By Maulana Wahiduddin Khan
حفاظت قرآن کا طریقہ جو دور نبوت میں اختیار کیا گیا، وہ یہ تھا کہ جب قرآن کا کوئی حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتا تو آپ اس کو بول کر لکھوا دیتے۔ اس کام کے لیے صحابہ میں کئی لوگ مقرر تھے جن کو
کتاب کہا جاتا ہے۔ لکھنے کا یہ کام املا(dictation) کے ذریعے ہوتا تھا۔
اُس زمانے میں کاغذ بہت کم یاب تھا، اس لیے لوگ مختلف چیزوں پر لکھ لیا کرتے تھے۔ جھلّی پر یا لکڑی پر یا پتھر کے ٹکڑوں پر، وغیرہ۔ اس طرح وحی اور کتابت دونوں کا سلسلہ مسلسل طور پر صحابہ میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ تھے جنھوں نے پورے قرآن کو حفظ کر لیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اُس وقت ہزاروں لوگوں کے حافظے میں قرآن محفوظ تھا۔ اسی کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں متفرق چیزوں پر قرآن لکھا ہوا بھی پایا جاتا تھا۔ اول دن سے ایسا ہوا کہ قرآن عبادت کے طور پر ہر مسجد اور ہر گھر میں مسلسل طور پر پڑھا جانے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کے مشورے سے یہ طے ہوا کہ قرآن کو ایک جلد کی صورت میں لکھ کر تیار کر دیا جائے۔ خلیفہ اول ابوبکر بن ابی قحافہ نے اس مقصد کے لیے مشہور کاتب وحی زید بن ثابت الانصاری (وفات: 665ء) کو مقرر کیا۔ وہ روزانہ مدینہ کی مسجد نبوی میں بیٹھ جاتے اور لوگوں سے کہتے کہ جس کے پاس جو لکھا ہوا قرآن ہے، وہ اس کو لے آئے۔ چناں چہ مسجد نبوی میں مکتوب اجزا کا ایک ڈھیر اکٹھا زید بن ثابت خود پورے قرآن کے حافظ تھے، لیکن انھوں نے احتیاط کا اصول اختیار کرتے ہوئے یہ کیا کہ صحابہ سے قرآن کے مختلف اجزا سنتے اور اس کی تصدیق مکتوبات سے کرتے۔
اس طرح انھوں نے اس معاملے میں وہ طریقہ اختیار کیا جس کو ڈاکٹر موریس بکائی (وفات: 1998) نے ڈبل چیکنگ سسٹم (double checking system) کہا ہے، یعنی یادداشت کی مطابقت لکھے ہوئے سے کرنا اور لکھے ہوئے کو یادداشت سے جانچنا۔ اس طریقے کو اختیار کرتے ہوئے انھوں نے پورا قرآن مرتب کیا، یہ قرآن غالباً قدیم طرز کے کاغذ پر لکھا گیا تھا، جس کو قرطاس (papyrus) کہا جاتا تھا۔ کتابت کی تکمیل کے بعد ان اوراق کی جلد بنائی گئی۔ یہ جلد چوکور (square) کی صورت میں تھی، اس لیے اس کا نام ربعہ رکھا گیا، یعنی چوکور سائز کی کتاب۔ اس ربعہ کو ایک مستند نسخہ کے طور پر زوجہ رسول حفصہ بنت عمر کے گھر رکھوا دیا گیا۔ اس ربعہ کی تیاری کے لیے قرآن کے جو متفرق اجزا اکٹھا کیے گئے تھے، اُن کا ایک ڈھیر مسجد نبوی میں موجود تھا۔ صحابہ کے مشورے سے
اس پورے ڈھیر کو اس کے مالکان کو واپس نہیں کیا گیا، بلکہ اُن سب کو جلا کر ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان کا زمانہ آیا۔ اُس وقت بہت سے صحابہ نے بطور خود لکھ کر پورے قرآن کا مجموعہ تیار کر لیا تھا۔ یہ مجموعے بھی غالباً قدیم کاغذ پر لکھے گئے تھے۔ لیکن ان مجموعوں میں کئی قسم کے فرق پائے جاتے تھے۔ اس بنا پر، قرأتِ قرآن کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا کوئی شخص ایک انداز سے قرآن کو پڑھتا، اور کوئی شخص دوسرے انداز سے۔ خلیفہ سوم نے اُس وقت ایسا کیا کہ خلیفہ اول کے زمانے میں قرآن کا جو مستند نسخہ حضرت حفصہ کے گھر پر رکھا گیا تھا، اُس کو منگوایا اور کتابت کے ماہرین کی مدد سے اس کی بہت سی نقلیں تیار کروائیں۔ قرآن کے یہ نسخے بھی غالباً قدیم طرز کے کاغذ پر لکھے گئے تھے۔ پھر خلیفہ سوم نے قرآن کے ان مجلد نسخوں کو مسلم ممالک کے مختلف مرکزی شہروں میں بھیج دیا، جہاں اُن کو شہر کی جامع مسجدوں میں رکھ دیا گیا۔ لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ اب جو شخص قرآن کی نقل تیار کرے، وہ اسی مستند نسخے سے قرآن کی نقل تیار کرےـ حضرت عثمان نے جب قرآن کے یہ مستند نسخے تیار کرائے تو اُس وقت دوبارہ یہ حالت تھی کہ بہت سے لوگوں کے پاس قرآن کے ایسے نسخے تھے جس کو انھوں نے بطور خود تیار کیا تھا۔ ان نسخوں میں فرق پایا جاتا تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے خلیفہ سوم نے یہ کیا کہ انھوں نے تمام غیر سرکاری نسخوں کو اکٹھا کروایا اور پھر اُن کو صحابہ کی موجودگی میں جلا کر ختم کر دیا۔ اس طرح قرآن کے نسخے عہدِ صحابہ میں دو بار جلائے گئے۔ پہلی بار، خلیفہ اول کے زمانے میں قرآن کے متفرق اجزا جلائے گئے تھے۔ دوسری بار، خلیفہ سوم کے زمانے میں قرآن کی جلدیں صحابہ کے اتفاق رائے سے جلائی گئیں۔ معاملے کی تفصیل کتابوں میں موجود ہے۔ مثلاً ملاحظہ ہو: تفسیر الجامع لأحكام القرآن للقرطبي کا دیباچہ (خطبة الكتاب)۔
اسلام کے دورِ اول میں خود صحابہ کے زمانے میں ایسا کیوں ہوا کہ قرآن کے اجزا، یا اس کے نسخے جلا کر ختم کر دئے گئے۔ اس کا ایک معلوم سبب تھا۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں کتابت کا جو طریقہ رائج تھا، اُس میں نقطہ اور اعراب (pronouncement) نہیں ہوا کرتا تھا۔ جو اہلِ زبان تھے، وہ تو
ایسی عبارت کو نقطہ اور اعراب کے بغیر صحیح طور پر پڑھ لیتے تھے، جس طرح ایک شخص جس کی مادری زبان اردو ہو، وہ اردو کی موجودہ کتابوں کو درست طور پر پڑھ لے گا جن میں اعراب موجود نہیں ہوتا۔ اسلام جب تک اہل عرب تک محدود تھا، اُس وقت تک اس قسم کی تحریر کو پڑھنے میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آتا تھا۔ لیکن جب اسلام عرب کے باہر مختلف ملکوں میں پھیلا تو یہ مسئلہ شدت کے ساتھ پیدا اُس وقت قرآن کے جو نسخے ہوتے تھے، وہ نقطہ اور اعراب کے بغیر ہوتے تھے۔ غیر عرب لوگ حروف شناسی کے ذریعے عبارت کو پڑھنا سیکھ لیتے تھے، لیکن تلفظ کے معاملے میں وہ شدید غلطیاں اس غلطی کا ایک سبب یہ تھا کہ عرب کے مختلف قبائل عربی حروف کا تلفظ مختلف انداز سے مثلاً عرب کا قبیلہ قیس ’ک‘ کی آواز کو ’ش‘ کی صورت میں نکالتا تھا۔ چناں چہ وہ قرآن کی آیت: جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا (19:24) کو اس طرح پڑھنے لگا: جَعَلَ رَبُّشِ تَحْتَشِ سَرِيًّا۔ اسی طرح قبیلہ تمیم ’س‘ کی آواز کو ’ت‘ کی صورت میں ادا کرتا تھا۔ مثلاً وہ قرآن کی آیت: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ کو قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاتِ کی صورت میں پڑھتا تھا۔ نقطہ اور اعراب کا مسئلہ اور بھی زیادہ سنگین تھا۔ کیوں کہ غیر منقوط اور غیر معرب الفاظ کو مختلف صورتوں میں پڑھا جا سکتا تھا، نقطہ اور اعراب کے بغیر اس کا تعین سخت مشکل تھا۔ مثال کے طور پر قرآن کی پہلی سورہ میں مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ کی آیت ہے۔ اس آیت میں مَالِك کا لفظ اگر نقطہ اور اعراب کے بغیر ہو تو اس کو کم از کم پانچ صورتوں میں پڑھا جا سکتا ہے۔ مثلاً: مَلِكْ، مِلْكْ، مُلْكْ، مُلُكْ، مَلِكُ۔ خلافتِ راشدہ کے آخری زمانے تک یہ حال تھا کہ لوگوں نے قرآن کے نسخے لکھ کر بڑی تعداد میں تیار کر لئے تھے، لیکن یہ تمام نسخے نقطہ اور اعراب کے بغیر تھے۔ چناں چہ لوگوں کے درمیان قرآن کی قرأت میں بہت زیادہ اختلافات پیدا ہوگئے، یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے شخص کی تکفیر اور تفسیق یہ مسئلہ بے حد سنگین صورت اختیار کر گیا، حتیٰ کہ امت کا اتحاد خطرے میں پڑ گیا۔ اموی خلیفہ عبد المالک بن مروان (وفات: 705ء) نے اپنے گورنر حجاج بن یوسف الثقفی (وفات: 714ء) کو حکم دیا کہ وہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرے۔ حجاج نے علما اور ماہرین کے
مشورے سے یہ طے کیا کہ قرآن کی آیتوں کو نقطہ اور اعراب کے ساتھ لکھا جائے۔ موجودہ زمانے میں جو قرآن ہر جگہ پایا جاتا ہے، وہ حجاج کے زمانے کے اسی منقوط اور معرب قرآن کی نقل ہے۔ اس کے بعد ایک اور مسئلہ باقی تھا، وہ اسلوب کتابت کا مسئلہ تھا۔ قدیم کتابت میں وہ حسن موجود نہ تھا جو آج کے نسخوں میں نظر آتا ہے۔ مختلف ماہرین نے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔ آخر کار مشہور خطاط ابو علی محمد بن علی بن مقلہ (وفات: 940ء) نے وہ خوب صورت خط ایجاد کیا جس کے مطابق، بعد کو قرآن لکھا جانے لگا۔ موجودہ قرآنی خط ابن مقلہ کے اسی خط کی مزید ترقی یافتہ شکل ہے۔ قدیم عربی خط کو خط کوفی کہا جاتا ہے اور ابن مقلہ کے خط کو خط نسخ۔
اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو ابتدائی زمانے میں قرآن کے ساتھ پیش آئیں۔ ان کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ خود قرآن کے ساتھ بھی تقریباً اسی قسم کے معاملات پیش آئے ہیں جو حدیث کے ساتھ پیش آئے ہیں۔ اہل قرآن، حدیث کی جن باتوں کو لے کر حدیث کو مشتبہ ثابت کرتے ہیں، اُسی طرح مستشرقین (orientalists) قرآن کے بارے میں ایسا کرتے ہیں کہ وہ ابتدائی زمانے میں پیش آنے والی باتوں کو لے کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن ایک مشتبہ کتاب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں، کسی آدمی کے لیے دو میں سے ایک کا آپشن ہے۔ وہ یا تو قرآن اور حدیث دونوں کے استناد کو مانے، یا دونوں کے استناد کا انکار کر دے۔ کیوں کہ جن باتوں کو لے کر وہ حدیث کا انکار کرے گا، تقریباً وہی باتیں قرآن کے لیے بھی موجود ہوں گی۔