قرآن اور حدیث کا معاملہ
Al-Risala, December 2013, pp. 10–12
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن اور حدیث کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، وہ براہ راست طور پر پوری انسانیت سے جڑا اس کے بغیر خالق کے تخلیقی پلان کو سمجھنا ممکن ہی نہیں۔ ایک لفظ میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن تخلیقی منصوبے کا خدائی بیان (divine statement of the creation plan) ہے اور سنت ربانی حیات کا زندہ مظاہرہ (living demonstration of divine life) - قرآن اور حدیث کو اس سے کم سمجھنا، قرآن اور حدیث کی بھی تصغیر ہے اور نعوذ باللہ، خدا کی تصغیر بھی۔
اللہ تعالیٰ نے جب انسان (آدم) کو پیدا کیا تو آغاز ہی میں اس کو جنت میں بسا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان اول سے کہا: تم اور تمھاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور اس میں سے کھاؤ فراغت کے ساتھ جہاں سے چاہو۔ اور اس درخت کے قریب مت جانا، ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو آغاز ہی میں اُس کو جنت میں بسا گویا کہ ابتدائی طور پر جنت، انسان کو عمومی بنیاد (general basis) پر دی گئی تھی، یعنی سارے عورت اور مرد جنت میں قیام کریں اور خدا کی حمد کرتے ہوئے اُسی سے انجوائے (enjoy) کریں۔ لیکن انسان مطلوب معیار پر پورا نہیں اترا، اس لیے اس کو جنت سے نکال کر موجودہ زمین پر بسا دیا گیا اور خدا کا یہ فیصلہ ہوا کہ اب جنت، انسان کو انتخابی بنیاد (selective basis) پر دی جائے گی، یعنی صرف اُن لوگوں کو جو قول و عمل سے اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کریں۔
انسان کے بارے میں اس تخلیقی نظام کو بتانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ ایک طرف اُس کو قرآن کی شکل میں ایک مستند ہدایت نامہ دے دیا، اور دوسری طرف، سنت رسول کی شکل میں اس کے لیے ایک عملی نمونے کا انتظام فرما دیا۔ خدا کے منصوبے کو سمجھنے کے لیے دونوں چیزیں یکساں طور پر ضروری ہیں، کیوں کہ قرآن میں صرف بنیادی چیزوں کا ذکر ہے۔ اور جہاں تک تفصیلی باتوں کا تعلق ہے، وہ صرف سنت رسول میں پائی جاتی ہے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے۔ قرآن کی سورہ البلد میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو مشقت (toil) میں پیدا کیا (90:4)۔ قرآن کی اس آیت میں ایک عالمی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو اس دنیا میں کہیں نہ کہیں مصیبت (suffering) کا تجربہ پیش آتا ہے۔ اس واقعے کو لے کر پوری تاریخ میں تمام لوگ منفی سوچ کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ زندگی میں یہ مصیبتیں کیوں پیش آتی ہیں، حتی کہ بہت سے لوگ اس واقعے کو خدا کے وجود کے خلاف سب سے بڑی دلیل سمجھتے ہیں۔ حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی مصیبت (suffering) اپنے اندر ایک عظیم مثبت پہلو یہ مصیبت دراصل زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا معاملہ ہے۔
زندگی کی مصیبت قابل شکر ہے، نہ کہ قابل شکایت۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک حدیث کا مطالعہ کیجئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن الله إذا أحب قوماً ابتلاهم (سنن الترمذي، رقم الحديث: 2396) یعنی اللہ جن لوگوں سے محبت کرتا ہے، اُن کو آزمائش (مصیبت) میں ڈال دیتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مصیبت کا معاملہ جو انسان کے ساتھ پیش آتا ہے، وہ اُس کے لیے خدا کی رحمت ہوتا ہے، وہ اس کا تزکیہ کر کے اس کو جنت کا مستحق بناتا ہے، مصیبت آدمی کی سرکشی کو ختم کرتی ہے، مصیبت آدمی کے اندر گہری فکر پیدا کرتی ہے، مصیبت آدمی کو کٹ ٹو سائز (cut to size) بناتی ہے، مصیبت آدمی کے اندر احتیاط کا مزاج پیدا کرتی ہے، مصیبت آدمی کے اندر احتساب (introspection) کی کیفیت کو جگاتی ہے، مصیبت آدمی کے اندر خدا کی یاد پیدا کرتی ہے، مصیبت آدمی کو فرشتوں کا ہمنشیں بناتی ہے، وغیرہ۔
اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جو ہم کو حدیث سے معلوم ہوتی ہیں۔ حدیث کا فائدہ صرف یہ نہیں ہے کہ اُس سے پانچ وقت کی نماز کا علم حاصل ہوتا ہے، یا کچھ شرعی احکام معلوم ہوتے ہیں۔ فائدہ اس سے بہت زیادہ ہے۔ حدیث آدمی کی معرفت کو بڑھاتی ہے، حدیث آدمی کے لیے تزکیہ کا ذریعہ بنتی ہے، حدیث آدمی کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہے، حدیث کسی آدمی کو قرآن فہمی کے قابل بناتی ہے، حدیث آدمی کے لیے ربانی تربیت کا ذریعہ ہے، وغیرہ۔