حفاظتِ حدیث کا اہتمام
Al-Risala, December 2013, pp. 12–14
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر عباسی دور تک کا جو زمانہ ہے، اس کی تاریخ مکمل طور پر موجود ہے۔ اس سلسلے میں عربی کتابوں کے مطالعے سے پورے معاملے کو سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ مطالعہ بتاتا ہے کہ دورِ اول کے اہل ایمان نے حفاظتِ حدیث کا بھی وہی اہتمام کیا جو انھوں نے حفاظتِ قرآن کے سلسلے میں کیا تھا۔ اس اعتبار سے، دونوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔ بارے میں ایسا کیا گیا کہ ایک طرف ان کو لکھا جاتا رہا اور دوسری طرف اُن کو حافظے میں محفوظ کر لیا گیا۔
یہ سلسلہ نسل درنسل جاری رہا، یہاں تک کہ انیسویں صدی عیسوی میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ آیا اور قرآن اور حدیث دونوں کے ذخیرے کو طباعت کے ذریعے آخری طور پر محفوظ کر دیا گیا۔
اس سلسلے میں یہ صرف ایک غلط فہمی ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت کی تھی کہ قرآن کو لکھا جائے اور حدیث کو نہ لکھا جائے ۔ تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ دورِ اوّل کے علما اور محدثین نے صحابہ کے درمیان بکھری ہوئی حدیثوں کو غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے اکٹھا کیا۔ رجال حدیث اور متون حدیث کی تحقیق کے لیے نئے علوم وضع کیے ۔ کامل چھان بین (scrutiny) کے بعد انھوں نے مستند احادیث کے مجموعے تیار کیے اور غیر مستند روایتوں کو الگ کر دیا۔ مسند امام احمد بن حنبل جس کو حدیث کا انسائیکلو پیڈیا سمجھا جاتا ہے، اُس میں تیس ہزار روایتیں موجود ہیں۔ بقیہ روایتوں کو ملا کر احادیث رسول کی تعداد تقریباً پچاس ہزار ہو جاتی ہے۔ پچھلے ادوار میں یہ حدیثیں کتابوں کی شکل میں ہوتی تھیں۔ اب کمپیوٹر کے دور میں حدیثوں کے اس ذخیرے کو انٹرنیٹ پر ڈال دیا گیا ہے۔ احادیث کی تنقیح کا یہ کام ہزار سال سے جاری تھا۔ ہر دور میں علما تاریخی معلومات کی روشنی میں دوبارہ احادیث کے مجموعے کا جائزہ لیتے رہے، شخصی طور پر بھی اور ادارے کے طور پر بھی۔ موجودہ زمانے میں مشہور عرب محدث شیخ محمد ناصر الدین الالبانی (وفات: 1999) نے پورے ذخیرۂ حدیث کا ازسر نو جائزہ لیا اور لمبے مطالعہ اور تحقیق کے بعد 21 ضخیم مجلدات تیار کیے۔ خالص علمی تحقیق کے بعد مستند روایتوں کو غیر مستند روایتوں سے الگ کر دیا اور دونوں کو جدید طباعتی معیار پر شائع کر دیا۔ اس مجموعے کی 7 جلدیں مستند احادیث پر مشتمل ہیں اور اُن کا نام یہ ہے: سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها ۔ اس مجموعے کی 14 جلدیں غیر مستند روایتوں پر مشتمل ہیں اور اُن کا نام یہ ہے: سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة. یہ پورا مجموعہ انٹرنیٹ (www.waqfeya.com) پر موجود ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حفاظت اور تدوین کے اعتبار سے، علما امت نے قرآن اور حدیث دونوں کے لیے یکساں طور پر کام کیا ہے، حتیٰ کہ دور طباعت سے پہلے حدیث کے حفاظ بھی اُسی طرح ہوتے تھے
جس طرح قرآن کے حفاظ ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے، دونوں کے درمیان اصلاً جو واحد فرق ہے، وہ یہ کہ قرآن کے غیر مستند ذخیرے کو جلا کر ختم کر دیا گیا اور صرف مستند مجموعہ کو باقی رکھا گیا۔ حدیث کے معاملے میں یہ ہوا کہ ان کی تنقیح کا کام تو پوری طرح کیا گیا، لیکن غیر مستند روایتوں کو کتابوں میں باقی رکھا گیا، اُن کو جلا کر ختم نہیں کیا گیا۔
لیکن اِس فرق کی بنا پر دونوں کے درمیان کوئی حقیقی فرق واضح نہیں ہوتا۔ کیوں کہ جو چیز علمی معیار پر غیر مستند ثابت ہو جائے، وہ اہل علم کے لیے عملاً بھی غیر مستند ثابت ہو جاتی ہے، خواہ وہ کتابوں میں لکھی ہوئی موجود ہو یا موجود نہ ہو۔ علوم کی تاریخ میں اس نوعیت کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ طور پر شمسی نظام (solar system) کو لیجئے ۔ کو پرنکس (Nicolaus Copernicus) اور گلیلیو (Galileo Galilei) کی تحقیقات کے بعد آفتاب مرکزی ماڈل (heliocentric model) کو ایک مسلمہ کے طور پر مان لیا گیا ہے، جب کہ اس سے پہلے اس معاملے میں لمبی مدت تک زمین مرکزی ماڈل (geocentric model) کو درست تسلیم کیا جاتا تھا۔
اگر آپ لائبریری اور میوزیم کا جائزہ لیں تو آپ پائیں گے کہ زمین مرکزی ماڈل کی بنیاد پر تیار کیا جانے والا لٹریچر اب بھی ہر جگہ موجود ہے، اس کو جلا کر ختم نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود آج کی دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں کرتا کہ وہ قدیم لٹریچر کو لے کر زمین مرکزی ماڈل کی صحت کا دعویٰ کرے۔ چاہئے کہ اسی اصول کو وہ حدیث کے معاملے میں بھی اختیار کریں۔ مستند حدیثوں کے علاوہ، وہ دوسری روایتوں کو غیر معتبر مان کر رد کردیں۔ وہ ان غیر معتبر روایتوں کی تحریری موجودگی کو اُسی طرح عذر نہ بنائیں جس طرح وہ زمین مرکزی ماڈل کی تحریری موجودگی کو عذر نہیں بناتے۔