Al-Risala · December 2013

کتابت حدیث کا مسئلہ

Al-Risala, December 2013, pp. 14–16

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں، مسند احمد، صحیح مسلم، الدارمی میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تكتبوا عني، ومن كتب عني غير القرآن فليمحه، وحدثوا عني ولا حرج، ومن كذب علي، قال

ہمام: أحسبه قال متعمدآ، فليتبوأ مقعده من النار (صحيح مسلم، رقم الحديث:

5326) یعنی ابو سعید الخدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے نہ لکھو (قرآن کے سوا)، اور جس نے لکھا مجھ سے قرآن کے سوا، وہ اُس کو مٹا دے۔ اور میری باتوں (حدیثوں) کو بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ فرمایا کہ جس نے جان بوجھ کر جھوٹ باندھا، تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے ۔

امام نووی نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے : إنما نهى عن كتابة الحديث مع القرآن في صحيفة واحدة، لئلا يختلط فيشتبه على القاري في صحيفة واحدة (صحيح مسلم بشرح النووي، جلد 18، صفحہ (130) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابتِ حدیث سے منع فرمایا، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ایک ہی صحیفہ میں قرآن کے ساتھ حدیث کو لکھنے سے منع فرمایا، تاکہ دونوں مل نہ جائیں اور ایک صحیفہ میں ہونے کی وجہ سے قاری کو اشتباہ نہ پیش آئے۔

اس تشریح سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کتابتِ حدیث کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت مطلق معنوں میں نہ تھی ۔ وہ صرف اس معنی میں تھی کہ قرآن اور حدیث دونوں کو ایک ہی کاغذ یا ایک ہی صحیفہ میں ساتھ ساتھ نہ لکھو۔ کیوں کہ اس صورت میں یہ اندیشہ تھا کہ قاری کو اشتباہ پیش آجائے اور وہ قرآن اور حدیث دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہ دیکھ سکے۔ گویا کہ یہ ممانعت مشروط تھی، نہ کہ مطلق۔ یہ دراصل احتیاط کا ایک معاملہ تھا۔ کیوں کہ پچھلے اہل کتاب کے یہاں ایسا ہو چکا تھا کہ اُن کے علما اپنے پیغمبر کی بات کو وحی کے ساتھ ملا کر لکھ دیتے تھے۔ اس طرح اُن کے یہاں ایسا ہوا کہ خدا کا کلام اپنی اصل صورت میں محفوظ نہ رہا، بلکہ وہ انسانی کلام کے ساتھ مختلط ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ حکم دراصل اسی پس منظر میں تھا۔

چناں چہ صحابہ نے ایک ہی کاغذ یا ایک ہی صحیفہ پر قرآن اور حدیث دونوں کو ایک ساتھ لکھنا بند کر دیا ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کو وہ علاحدہ کاغذ یا صحیفہ میں بدستور لکھتے رہے۔

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ متعدد صحابہ نے الگ صحیفوں میں حدیثیں لکھ کر جمع کی تھیں۔ امام نووی نے اپنی شرح میں، صحابہ کے متعدد صحیفہ احادیث کا ذکر کیا ہے۔ یہ صحیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لکھے گئے تھے جو منتخب احادیث پر مشتمل تھے۔ ان میں سے ایک صحیفہ وہ ہے جو علی بن ابی طالب نے تیار کیا تھا۔ حضرت ابو ہریرہ کے حسب ذیل قول سے بھی یہ ثبوت ملتا ہے کہ رسول اللہ کے زمانے میں صحابہ حدیث کی کتابت کرتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص حدیث لکھتے تھے، جب کہ میں نہیں لکھتا تھا: أن عبد الله بن عمر و كان يكتب، ولا أكتب (شرح النووی، جلد 18 ، صفحه: 130)

اس معاملے میں ہمام بن منبہ (وفات: 749 کا حوالہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ منبہ ایک تابعی ہیں۔ انھوں نے صحابی رسول، حضرت ابو ہریرہ (وفات : 678ء) کی صحبت اختیار کی اور اُن سے حدیثیں لے کر صحیفہ کی صورت میں لکھتے رہے۔ امام احمد بن حنبل (وفات: 855ء) کی مسند (جلد 2، صفحات : 319- 212) میں یہ صحیفہ مکمل طور پر موجود ہے۔ صحیفہ ہمام بن منبہ مخطوطہ کی صورت میں بعض کتب خانوں میں موجود تھا۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ (وفات: 2002) نے اس کو ایڈٹ کر کے شائع کر دیا ہے۔ اس صحیفہ میں 140 روایتیں ہیں۔

Printed page