قولی تواتر، عملی تواتر
Al-Risala, December 2013, pp. 16–20
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت شدہ سنت کے دو حصے ہیں— قولی تواتر، اور عملی تواتر۔ قولی تواتر سے مراد پیغمبر اسلام کی سنت کا وہ حصہ ہے جو لفظی روایت کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔ لفظی روایت میں چوں کہ راویوں کا نسل در نسل تسلسل پایا جاتا ہے، اس لیے اس کو قولی تواتر کا درجہ دیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں، سنت کا جو حصہ عمل سے تعلق رکھتا ہے، وہ بھی راویوں کے مسلسل عمل کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، اس لیے اُس کو عملی تواتر کہا جاتا ہے۔
قولی تواتر کو جاننے کا ذریعہ کیا ہے، یہ ذریعہ حدیث کی کتابیں ہیں۔ محدثین جو کہ زیادہ تر تابعین کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے، انھوں نے یہ کیا کہ جو روایتیں صحابہ اور تابعین کے ذریعے
چلی آ رہی تھیں، اُن کو جمع کیا، پھر اُن کو چھانٹ کر مستند روایتوں اور غیر مستند روایتوں کو الگ کیا اور پھر مستند روایتوں کو راویوں کے نام کی تصریح کے ساتھ حدیث کی کتابوں میں قلم بند کر دیا۔ حدیث کی یہ کتابیں پہلے ہاتھ سے لکھے ہوئے قلمی نسخوں (manuscripts) کی صورت میں تھیں، اب وہ چھپ کر عمومی طور پر ہر ایک کے لیے قابل حصول ہو گئی ہیں۔
عملی تواتر کو جاننے کا ذریعہ کیا ہے، عملی تواتر کو جاننے کے دو ذرائع ہیں—حدیث کی کتابیں، اور اسلامی ادارے (Islamic institutions)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا کہ ایک طرف آپ نے قولی طور پر نماز کا حکم بتایا اور دوسری طرف، آپ نے فرمایا: صَلُّوا كَما رَأَيْتُمُونِي أصلي (صحيح الجامع للألباني، رقم الحديث: 893) یعنی جس طرح تم نے مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اُسی طرح تم نماز پڑھو۔ اِسی طرح آپ نے قولی طور پر حج کا حکم بتایا اور اسی کے ساتھ آپ نے فرمایا: خُذُوا عَنِّي مناسککم (مسند أحمد، رقم الحديث: 3548) یعنی جس طرح تم نے مجھ کو حج کرتے ہوئے دیکھا، اُسی طرح تم حج ادا کرو۔
دین کو جاننے کا یہ دو طرفہ طریقہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پایا جاتا تھا، وہی دو طرفہ طریقہ بعد کو بھی مسلسل طور پر جاری رہا، یعنی احکام دین کو قولی اعتبار سے، حدیث کی کتابوں کے ذریعہ جاننا، اور احکام دین کے عملی پہلو کو قائم شدہ اداروں (established institutions) کے ذریعے جاننا۔ مثلاً نماز کا قولی حکم حدیث میں تواتر کی صورت میں موجود ہے، اور اس کی عملی صورت مساجد میں قائم شدہ نماز با جماعت کی صورت میں۔ اس طرح مسجد کا ادارہ نماز کے عملی تواتر کو بتانے کا ذریعہ اسی طرح رمضان کے مہینے میں روزے کا حکم حدیث میں تواتر کی صورت میں موجود ہے۔ امت کا اجتماعی طور پر روزہ رکھنا، روزے کے حق میں عملی تواتر کا درجہ رکھتا ہے۔ اسی طرح حج کا حکم قولی طور پر حدیث میں موجود ہے اور ہر سال ذی الحجہ کے مہینے میں لاکھوں مسلمان مکہ میں جمع ہو کر مناسک حج ادا کرتے ہیں۔ یہ حج کے عملی تواتر کو جاننے کا ذریعہ ہے، وغیرہ۔ واضح ہو کہ جہاں تک اثبات حکم کا تعلق ہے، اس کا اصل ذریعہ قول ہے، یعنی کوئی چیز جب تک
قول کے ذریعے ثابت نہ ہو، اس کو حکم شرعی کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ کوئی حکم جب قول کے ذریعے ثابت ہو جائے تو اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اس کی عملی صورت کیا ہے۔ دینی احکام کے معاملے میں عملی تواتر کی حیثیت یہی ہے۔ اس معاملے میں برعکس صورت اختیار نہیں کی جاسکتی، یعنی پہلے عمل کو حکم شرعی کا درجہ دیا جائے اور پھر اس کے بعد اس کی تائید کے لیے قول تلاش کیا جائے۔ قرآن اور سنت متواترہ قرآن اور سنت متواترہ کی حیثیت کیا ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی (وفات: 1997) نے اپنی تفسیر تدبر قرآن کے مقدمے میں بجاطور پر لکھا ہے کہ: ”قرآن مجید اور شریعت کی اصطلاحات (صلوة، زکوة، صوم، حج، عمرہ، قربانی، مسجد حرام، صفا، مروہ، سعی، طواف، وغیرہ) کا مفہوم بیان کرنے کا حق صرف صاحب وحی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو ہے۔ آپ جس طرح اس کتاب کے لانے والے تھے، اسی طرح آپ اس کے معلم اور مبین بھی تھے۔ اور یہ تعلیم و تبیین آپ کے فریضۂ رسالت ہی کا ایک حصہ تھی۔ سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ یہ بات قطعیت کے ساتھ کس طرح معلوم ہو کہ فلاں اصطلاح کا یہ مطلب خود آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔ سو جہاں تک معروف دینی اصطلاحات کا تعلق ہے، یہ سوال کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اس قسم کی ساری اصطلاحات کا حقیقی مفہوم بالکل عملی شکل میں سنت متواترہ کے اندر محفوظ کر دیا گیا ہے۔ اور یہ سنت متواترہ بعینہ اُنہی قطعی ذرائع سے ثابت ہے جن سے قرآن مجید ثابت ہے۔ اُمّت کے جس تواتر نے قرآن کریم کو ہم تک منتقل کیا ہے، اُسی تواتر نے دین کی تمام اصطلاحات کا عملی مفہوم بھی ہم تک منتقل کیا ہے۔ اگر فرق ہے تو صرف یہ فرق ہے کہ ایک چیز قولی تواتر سے منتقل ہوئی ہے اور دوسری چیز عملی تواتر سے۔ اس وجہ سے اگر قرآن مجید کو ماننا ہم پر واجب ہے تو ان ساری اصطلاحات کی اُس عملی صورت کو ماننا بھی واجب ہے جو سلف سے خلف تک بالتواتر منتقل ہوئی ہے۔ ان کی صورت میں اگر کوئی جزئی قسم کا اختلاف ہے تو اس اختلاف کی دین میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔
پانچ وقت کی نمازیں سب جانتے ہیں اور مانتے ہیں اور اُسی قطعیت کے ساتھ جانتے اور مانتے ہیں جس قطعیت کے ساتھ وہ قرآن کو جانتے اور مانتے ہیں۔ رہا بعض جزئی امور میں کوئی فرق تو یہ فرق کوئی اہمیت رکھنے والی شے نہیں ہے۔ اس طرح کے معاملات میں دلائل کی روشنی میں جس پہلو پر بھی جس کا اطمینان ہو، اس کو اختیار کر سکتا ہے۔ منکرین حدیث کی یہ جسارت کہ وہ صوم و صلوٰۃ، حج وزکوٰۃ اور عمرہ و قربانی کا مفہوم بھی اپنے جی سے بیان کرتے ہیں اور امت کے تواتر نے ان کی جو شکل ہم تک منتقل کی ہے، اس میں اپنی ہوائے نفس کے مطابق، ترمیم و تغیر کرنا چاہتے ہیں، صریحاً خود قرآن مجید کے انکار کے مترادف اس لیے کہ جس تواتر نے ہم تک قرآن کو منتقل کیا ہے، اُسی تواتر نے ان اصطلاحات کی عملی صورتوں کو بھی ہم تک منتقل کیا ہے۔ اگر وہ ان کو نہیں مانتے تو پھر خود قرآن کو ماننے کے لیے بھی کوئی وجہ باقی نہیں رہ جاتی۔
اصطلاحات کے معاملے میں تنہا لغت پر اعتماد بالکل ایک غلط چیز ہے۔ صوم و صلوٰۃ کا لغت میں جو مفہوم بھی ہو، لیکن دین میں ان کا وہی مفہوم معتبر ہوگا جو شارع نے واضح فرمایا ہے۔ اصطلاحات کے بارے میں مولا نا فراہی اپنے مقدمہ تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’اُسی طرح تمام اصطلاحات شرعیہ مثلاً نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، مسجد حرام، صفا، مروہ اور مناسک حج وغیرہ اور ان سے جو اعمال متعلق ہیں، تواتر و توارث کے ساتھ سلف سے لے کر خلف تک سب محفوظ رہے۔ اس میں جو معمولی جزئی اختلافات ہیں، وہ بالکل نا قابلِ لحاظ ہیں ... جو نماز مطلوب ہے، وہ وہی نماز ہے جو مسلمان پڑھتے ہیں۔ ہر چند کہ اس کی صورت و ہیئت میں بعض جزئی جو لوگ اس قسم کی چیزوں میں زیادہ کھوج کرید کرتے ہیں، وہ اُس دین قیم کے مزاج سے بالکل ہی نا آشنا ہیں جس کی تعلیم قرآن مجید نے دی ہے..... پس جب ایسے اصطلاحی الفاظ کا معاملہ پیش آئے، جن کی پوری حد و تصویر قرآن میں نہ بیان ہوئی ہو، تو صحیح راہ یہ ہے کہ جتنے حصے پر تمام امت متفق ہے، اتنے پر قناعت کرو...... ورنہ خود بھی شک میں پڑو گے
اور دوسروں کے اعمال کو بھی غلط ٹھہراؤ گے اور تمھارے درمیان کوئی ایسی چیز نہ ہوگی جو اس جھگڑے کا فیصلہ کر سکے۔