اسوۂ حسنہ
Al-Risala, December 2013, pp. 22–24
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الاحزاب میں یہ آیت آئی ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ اس آیت میں اُسوہ کے معنی ماڈل (model) کے ہیں۔ قرآن کی اس آیت سے حدیث کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حدیث، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ریکارڈ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کا نقشہ حیات (life style) کیا تھا۔ حدیث یا نقشہ حیات کے ریکارڈ کا کام اس لیے ممکن ہوسکا کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ قابل لحاظ تعداد میں ایک مضبوط ٹیم جمع ہوگئی۔ انھوں نے پیغمبر کے شب و روز کو دیکھا اور اس کو بعد کی نسلوں تک محفوظ طور پر پہنچایا۔ اصحاب رسول کی
یہ ٹیم اگر موجود نہ ہوتی تو پیغمبر اور بعد کی نسلوں کے درمیان ایک بعد (gap) پیدا ہو جاتا اور بعد کے لوگوں کے لیے یہ معلوم کرنا ممکن نہ ہوتا کہ پیغمبر اسلام کا نقشہ حیات کیا تھا۔ حدیث سادہ طور پر صرف احکام کو معلوم کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ حدیث کا ذخیرہ ہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا نقشہ حیات کیا تھا۔ اسی کا نام ماڈل ہے۔ الگ کرنے کے بعد یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہتا کہ پیغمبر اسلام کا ماڈل کیا تھا۔ دین کی صرف آئیڈیالوجی معلوم ہوتی ہے، قرآن سے دین کا ماڈل معلوم کرنا ممکن نہیں۔ ماڈل کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ ماڈل کے بغیر اسلام کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرنا ممکن سیرت رسول کا ماڈل اگر موجود نہ ہو تو صرف قرآن کافی نہیں ہوسکتا۔ ماڈل کے بغیر قرآن صرف ایک مجرد نظریہ (abstract ideology) بن جائے گا۔ لوگ اس کو پڑھیں گے ،لیکن قرآن کے مطابق، اپنی عملی زندگی کی تشکیل ناممکن ہو جائے گی۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے۔ قرآن میں بار بار یہ آیا ہے کہ اللہ کا ذکر کثیر لیکن قرآن سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ذکر کثیر (اللہ کو زیادہ یاد کرنا) کی عملی صورت کیا کچھ لوگوں نے اس کو گنتی کے معنی میں لیا اور اس کا نصاب بنایا، یعنی اتنے ہزار بار اللہ اللہ کرنا یا اتنے لاکھ بار اللہ اللہ کرنا۔ لیکن ذکر کثیر کا یہ مطلب نہیں۔ ذکر کثیر کا حقیقی مطلب حسب ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ عائشہ کہتی ہیں کہ: كان النبي صلي الله عليه وسلم يذكر الله على كل أحيانه - اس روایت میں'حین، کا لفظ موقع (occasion) کے معنی میں ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر موقع کو یا ہر تجربہ اور ہر مشاہدہ کو پوائنٹ آف ریفرنس(point of reference) بنا کر اس کے حوالے سے اللہ کو یاد کرتے تھے۔ مثلاً چڑیا کو ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھ کر اللہ کے تخلیقی کمال کو یاد کرنا، وغیرہ۔ پیغمبر کے فرائض پیغمبر کے فرائض کو قرآن میں چار مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کی یہ آیت
معمولی لفظی فرق کے ساتھ چار مرتبہ آئی ہے۔ وہ آیت یہ ہے: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (62:2) یعنی وہی اللہ ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول انھیں میں سے اٹھایا۔ یہ رسول اُن کو اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے، اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے، اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں پیغمبر کے چار کام بتائے گئے ہیں ۔ تلاوت آیات، تعلیم کتاب، تزکیہ، تعلیم حکمت ۔ خدا کا نبی ہونے کی حیثیت سے پیغمبر کی جو ذمے داریاں ہیں، اُن سب کو ان چار عنوانات کے تحت بیان کر دیا گیا ہے۔ ان کا مطالعہ کر کے پیغمبر کے پورے مشن کو سمجھا جا سکتا ہے۔ پیغمبر کا پہلا کام تلاوت آیات ہے، یعنی وحی کے ذریعے ملے ہوئے کلام الہی کو بے کم و کاست لوگوں تک پہنچانا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام پوری طرح انجام دیا اور آج وہ قرآن کی صورت میں ایک محفوظ کتاب کے طور پر ہمارے پاس موجود ہے۔
پیغمبر کا دوسرا کام تعلیم کتاب ہے۔ تعلیم کتاب سے مراد تفسیر کتاب ہے، یعنی قرآن کی آیتوں کی شرح کرنا۔ اس شرح کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، یہ کہ آیت کے مفہوم کی نظری وضاحت۔ دوسرے، یہ کہ آیت میں جو تعلیم دی گئی ہے، اس پر عمل کر کے اس کا مستند عملی نمونہ قائم کرنا۔ پیغمبر کا تیسرا کام تزکیہ ہے۔ تزکیہ سے مراد دینی بنیاد پر افراد کی شخصیت کی یہ کام پیغمبر نے روز مرہ کی صحبت کے ذریعے انجام دیا۔ پیغمبر نے تزکیہ کے اصول بھی بتائے اور واقعات کے حوالے سے اس کے مختلف پہلوؤں کو واضح کیا۔ حدیث رسول یا سنت رسول اسی پیغمبرانہ عمل کا ریکارڈ ہے۔
پیغمبر کا چوتھا کام حکمت کی تعلیم ہے۔ حکمت سے مراد بصیرت (wisdom) ہے۔ بھی پیغمبر نے روزمرہ کی صحبتوں کے درمیان انجام دیا۔ پیغمبر نے لوگوں کو بتایا کہ دینی زندگی یا دعوتی عمل کو انجام دینے کے لیے بصیرت کا تقاضا کیا ہے، وہ کون سی حکمت ہے جس کو اختیار کر کے ایک مومن اپنے فرائض کو کامیابی کے ساتھ انجام دے سکتا ہے۔