Al-Risala · December 2013

انکار حدیث کا مسئلہ

Al-Risala, December 2013, pp. 25–30

By Maulana Wahiduddin Khan

امت کی بعد کی نسلوں میں فطری طور پر بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک قانونِ فطرت ہے، اس میں کوئی اس معاملے میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ امت کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ پیدا ہوا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بگاڑ کے وقت اصلاح کا صحیح اسلوب اختیار کیا گیا یا غلط اسلوب۔ بگاڑ کے وقت جو مصلحین یا مجددین اٹھتے ہیں، وہ اگر غلط اسلوب اختیار کریں تو خواہ اُن کی نیت درست ہو، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ بگاڑ میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ انکار حدیث کا ظاہر ہ اسی غلطی کا ایک نتیجہ ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے امتِ مسلمہ کو جس دین پر چھوڑا تھا، وہ امت کی پہلی نسل اور دوسری نسل (صحابہ اور تابعین) کے زمانے میں بڑی حد تک اپنی ابتدائی حالت پر باقی رہا۔ کی تیسری نسل میں واضح طور پر بگاڑ آ گیا۔ اصل دین سے انحراف کی صورتیں نمایاں طور پر دکھائی دینے اُس وقت مصلحین اور مجددین کو فطری طور پر تشویش پیدا ہوئی۔ وہ کوشش کرنے لگے کہ امت کو دوبارہ اُس دین پر قائم کریں جو پیغمبر اسلام نے اپنے قول و عمل کے ذریعہ پیش فرمایا تھا۔ اب اصلاح کے لیے ممکن طور پر دو اسلوب تھے۔ ایک، روایتی اسلوب اور دوسرا، عقلی روایتی اسلوب کا مطلب یہ تھا کہ لوگوں کے اعتقادی مسلمہ کی بنیاد پر انھیں اصلاح کے لیے آمادہ کیا جائے ۔ دوسرا اسلوب یہ تھا کہ لوگوں کو ان کے عقلی مسلمہ کی بنیاد پر اصلاح کے لیے آمادہ کیا جائے ۔ پہلے اسلوب کو مبنی بر روایت (tradition-based) اسلوب کہہ سکتے ہیں۔ اسلوب کو مبنی بر عقل (reason-based) اسلوب کہا جا سکتا ہے۔

اس معاملے میں مبنی بر عقل اسلوب ہی درست اسلوب تھا۔ یہ وہی اسلوب تھا جس کو قرآن میں بار بار اختیار کیا گیا ہے۔ قرآن بار بار انسان کی عقل کو خطاب کرتا ہے۔ عقل کو خطاب کرنے کا مطلب ہے انسان کے اپنے مسلمہ پر اس کے ذہن کو ایڈریس کرنا۔ یہ اسلوب مؤثر بھی ہے اور اس کے ذریعے کوئی نئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔ یہی وہ اسلوب تھا جس کے ذریعے سے اصحابِ رسول کا گروہ وجود میں آیا، یعنی امت کی پہلی نسل ۔

لیکن قدیم دور کے مصلحین، خاص طور پر عباسی دور کے مصلحین نے یہ غلطی کی کہ انھوں نے عقلی اسلوب کو اختیار نہیں کیا، بلکہ روایتی اسلوب کو بڑے پیمانے پر اختیار کر لیا۔ غالباً اس لیے کہ اُس وقت بگاڑ کے باوجود پیغمبر کو امت کے اندر ایک مسلمہ شخصیت کی حیثیت حاصل ہو چکی تھی۔ اور یہ امید کی جاسکتی تھی کہ پیغمبر کے حوالے سے جو بات کہی جائے گی، وہ امت کے افراد کے لیے لازمی طور پر قابلِ قبول ہوگی۔ یہ سوچ اصولاً درست تھی، لیکن عملی طورپر ابتدا ہی میں اس کے دو گروہ بن گئے۔ ایک، محدثین کا گروہ ۔ اور دوسرا واضعینِ حدیث کا گروہ۔ محدثین نے بجاطور پر یہ کیا کہ انھوں نے علمِ حدیث کی بنیاد رکھی۔ انھوں نے حدیثِ رسول سے استفادہ کرنے کے لیے پختہ علمی اصول وضع کیے۔ انھوں نے غیر معمولی محنت کے ذریعے صحیح احادیث کے مجموعے تیار کئے۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ امت کے افراد، پیغمبر کے مستند اقوال اور اعمال کو جانیں اور اس پر عمل کریں۔ مگر اسی کے ساتھ مصلحین کا ایک اور گروہ پیدا ہوا، جس کو واضعینِ حدیث کا گروہ کہا جاتا ہے۔ لوگ اُس غلطی کا شکار ہوئے جس کا مظاہرہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہو چکا تھا۔ اس ظاہرے کو حضرت انس بن مالک کی ایک روایت میں کأنہم تقالّوها (صحيح البخاري، رقم الحدیث: 5063) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی کچھ لوگوں نے عبادت کے معاملے میں پیغمبر اسلام کی سنت کو کم سمجھا اور بطور خود اس پر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مزاج کو ایک لفظ میں کم تر اندازہ کرنا (to underestimate) کہا جا سکتا ہے۔

اسی غلط مزاج کی بنا پر عباسی دور کے مصلحین نے ترغیب اور تشویق کے لیے حدیثیں وضع کرنا اس کے بعد صوفیانے بھی اسی اسلوب کو اختیار کر لیا۔ انھوں نے تزکیہ کے لیے بطورِ خود نئے نئے طریقے وضع کئے۔ یہ اسلوب اتنا زیادہ پھیلا کہ بعد کو علما اور واعظین اور مبلغین کی اکثریت نے اپنی تقریر اور تحریر میں اس کو اختیار کر لیا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ اگر واضعِ حدیث بن گئے تو دوسرے لوگ ناقلِ موضوعات۔

اس روایت میں ”تقالّوها“ کا لفظ بہت اہم ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی چیز کو کم سمجھنا، اس کا

کم تر اندازہ (underestimation) کرنا۔ اصولی طور پر یہی مزاج ہے جو ہر قسم کی بدعات کا اصل اپنے ذہن (mindset) کی بنا پر ایک آدمی قرآن اور حدیث کی تعلیم کو کم سمجھتا ہے اور بظاہر اچھی نیت سے اُس میں اضافہ کرتا ہے۔ مگر دین کے معاملے میں اِس قسم کا اضافہ یقینی طور پر باطل کوئی بھی عذر اس کو جائز ٹھہرانے کے لیے کافی نہیں۔

حدیث کے الفاظ میں یہ سرتاسر جھوٹ (کذب) ہے۔ اس سلسلے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: من كذب علي فليتبوأ مقعده من النار (صحيح البخاري، رقم الحديث: 107) یعنی جس نے میرے اوپر جھوٹ کہا، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: من يقل علي مالم أقل، فليتبوأ مقعده من النار (صحیح البخاري، رقم الحديث: 109) یعنی جس نے میری طرف منسوب کرتے ہوئے وہ کہا جو میں نے نہیں کہا ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ اس قسم کی روایتیں جو احادیث کی کتابوں میں آئی ہیں، وہ اپنے مفہوم میں نہایت واضح ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے صرف وہی بات کہی جاسکتی ہے جو آپ نے خود فرمایا ہو۔ کوئی ایسی بات جو آپ نے نہ کہی ہو، اس کو آپ کی طرف منسوب کرکے کہنا، یقینی طور پر ایک فعل حرام کی حیثیت رکھتا ہے۔

بہت سے مصلحین اور صوفیا اور علما جنھوں نے بطور خود شریعت میں اضافے کئے ہیں اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے، وہ اس کے جواز میں کہتے ہیں کہ یہ کذب نہیں۔ اس لیے کہ یہ رسول اللہ کی تائید میں ہے، نہ کہ آپ کی مخالفت میں (أنه كذب له، لا عليه)، یعنی دینی امور میں اِس قسم کا اضافہ، اضافہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد ترغیب و تشویق ہے۔ مگر اس قسم کا کوئی بھی عذر اس معاملے میں قابل قبول نہیں۔ دین میں اس قسم کا اضافہ، خواہ وہ عمداً ہو یا سہواً، وہ عذر کے ساتھ ہو یا عذر کے بغیر، بظاہر وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ہر حال میں وہ فعل حرام کی حیثیت رکھتا ہے۔ کوئی شخص اپنی رائے کے طور پر کچھ بھی کہنے کا حق رکھتا ہے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے منسوب کرکے

کچھ کہنا، بلاشبہ حرام ہے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی سخت پکڑ ہوگی۔ حدیثوں میں اختلاف کا مسئلہ ایک شخص جب حدیث کا تفصیلی مطالعہ کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ حدیثوں میں کافی اختلاف ہے جو عام طور پر قرآن میں نظر نہیں آتا۔ یہ دیکھ کر وہ الجھن میں پڑ جاتا ہے اور حدیث کی صحت کا انکار کر دیتا مگر یہ کم فہمی کی بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن میں اسلام کے بنیادی اصول بتائے گئے ہیں جو ہمیشہ یکساں رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں حدیث اس بات کا ریکارڈ ہے کہ ان غیر متغیر اصولوں کو روزانہ کے بدلتے ہوئے حالات میں کس طرح منطبق کیا گیا۔ عملی زندگی چوں کہ ہمیشہ ایک حال پر نہیں رہتی، اس لیے فطری طور پر انطباق میں فرق ہو جاتا ہے۔ حدیثوں میں جو بظاہر اختلاف نظر آتا ہے، وہ دراصل اسی فطری فرق کی بنا پر پیدا ہوا ہے۔ وہ حکم کا اختلاف نہیں، بلکہ انطباق کا اختلاف ہے۔ مثال کے طور پر ہدیہ (gift) کے مسئلے کو لیجئے۔ ایک طرف بہت سی روایتیں ہیں جن میں ہدیہ اور تحفہ کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے برعکس روایتیں بھی ہیں۔ (باب ما جاء فی المہاجرة) میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے کو ہدیہ دو، اس سے باہمی محبت پیدا ہوگی اور عداوت جاتی رہے گی: تہاد و تحابوا وتذهب الشحناء (موطأ الإمام مالك، رقم الحديث: 1651)۔

یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ ہدیہ اور تحفہ کے لین دین سے آپس میں انسیت اور محبت بڑھتی ہے۔ اسی طرح ہدیہ اور تحفہ نہ دینے سے دوری پیدا ہوتی ہے۔ اور اگر کوئی ہدیہ دے اور اس کو قبول نہ کیا جائے تو اس کا برعکس اثر ہوگا، آپس میں نفرتیں بڑھیں گی، باہمی تعلقات میں کھنچاؤ اور تناؤ کی حالت پیدا ہو جائے گی۔ اس طرح کی کیفیت دیر تک باقی رہے تو ایسے ماحول میں کوئی تعمیری کام کرنا سرے سے ناممکن ہو جائے گا۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدايا کے تبادلے کی تلقین بھی کی اور خود بھی اس پر عمل فرمایا۔ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی ہدیہ دیا جاتا تو آپ خوشی کے ساتھ اس کو قبول فرماتے تھے: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل الهدية.

(فتح الباری بشرح صحيح البخاري: 249/5)

اب جہاں تک اہل اسلام سے ہدیہ قبول کرنے کا تعلق ہے، اس میں احادیث میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا، لیکن غیر مسلموں کے سلسلے میں روایت میں اختلاف ہے۔ کچھ روایتیں بتاتی ہیں کہ کسی غیر مسلم نے ہدیہ پیش کیا تو آپ نے شوق کے ساتھ اس کو قبول فرمايا۔ دوسری طرف ایسی بھی روایتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا: إني لا أقبل هدية مشرك. (فتح الباری: 5/273)

سنن أبي داؤد (باب في الإمام يقبل هدایا المشركين) میں ایک واقعہ نقل کیا گیا اس میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عظیم فدک (غیر مسلم حکمران) کا ہدیہ قبول پھر عین اسی باب میں دوسری روایت ہے کہ ایک غیر مسلم نے ہدیہ پیش کیا تو آپ نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ (سنن أبي داؤد، رقم الحدیث: 3055)

یہاں واضح طور پر ایک ہی معاملے میں دو مختلف مسلک اختیار کیا گیا۔ مگر یہ کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ ایک سادہ فطری حقیقت ہے۔ اس فرق کا سبب نفس حکم کا فرق نہیں ہے، بلکہ حالات کا فرق ہے اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ حالات کی رعایت ہمیشہ ایک حکم کے انطباق میں فرق پیدا کر دیتی ہے۔ اس معاملے کی وضاحت کے لئے یہاں دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔

1- روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار حاکموں اور سرداروں سے ہدیہ قبول فرمایا۔ مثلاً تبوک کی مہم (رجب 9 ہجری) میں آپ نے تیس ہزار اصحاب کے ساتھ سفر اس مہم کے ذیل میں جو واقعات پیش آئے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس علاقے کے مقام ایلہ کا حاکم یوحنا بن روبہ آپ کی خدمت میں آیا۔ اس نے آپ کو ایک سفید خچر کا ہدیہ پیش کیا، جو واضح طور پر اس بات کی علامت تھی وہ آپ کے ساتھ اچھے تعلق قائم کرنا چاہتا ہے۔ چناں چہ آپ نے خوشی کے ساتھ اس کا ہدیہ قبول فرمایا۔ اس کے بعد معتدل فضا میں اس سے بات ہوئی۔ اس نے آپ سے صلح کر لی اور جزیہ دینے پر راضی ہو گیا۔ (فتح الباری: 405/3)۔

یہ واقعہ واضح طور پر تالیف قلب کا واقعہ ہے۔ ایک حاکم جس سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے، اگر اس کا ہدیہ قبول نہ کیا جائے تو تلخی پیدا ہوگی اور بہتر تعلقات قائم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، اس کا ہدیہ قبول کرنا اور اپنی طرف سے اس کو ہدیہ پیش کرنا قربت اور انس کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے غیر مسلم حاکموں سے ان کا تحفہ قبول فرمایا۔ حکمرانوں سے ہدیہ قبول کرنے کے متعدد واقعات حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ اب دوسری نوعیت کی مثال لیجیے ۔ سنن ابی داؤد (رقم الحدیث: 3057) اور بعض دوسری کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک مشرک عیاض بن حمار المجاشعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی۔ آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا: فإني نهيت عن زبد المشركين (مجھے مشرکوں کا عطیہ لینے سے منع کیا گیا ہے۔ ) فتح الباری 273/5۔

واقعات بتاتے ہیں کہ یہ انکار حقیقتاً کوئی انکار نہ تھا، بلکہ وہ شفقت کا ایک معاملہ تھا۔ زبان میں ہم اس کو ایک قسم کا ترغیبی انکار کہہ سکتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ عیاض بن حمار آپ کی تحریک توحید سے متاثر تھے اور ذاتی طور پر آپ کے عقیدت مند بن چکے تھے۔ مگر ابھی تک انھوں نے اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا۔ آپ نے مذکورہ الفاظ میں ہدیہ کا انکار کر کے اُن کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ اس کا مفید اثر ہوا اور جلد ہی انھوں نے با قاعدہ اسلام قبول کر لیا۔ چناں چہ اب اُن کو اسلام کی تاریخ میں عیاض بن حمار المجاشعی رضی اللہ عنہ لکھا جاتا ہے۔

Printed page