Al-Risala · December 2013

حدیث رسول: افادیت کے چند پہلو

Al-Risala, December 2013, pp. 30–34

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث کے لفظی معنی بات (word) کے ہیں۔ اصطلاحی طور پر حدیث سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر وہ بات ہے جو آپ نے کہا یا جس پر آپ نے عمل کیا یا جس کی آپ نے تصدیق کی۔ قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آیا ہے کہ: وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (68:4) یعنی بے شک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو۔ اس آیت میں 'عظیم' کا لفظ شخصی تعریف کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس کا

مطلب یہ ہے کہ دینِ خداوندی میں جس اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے، تم اُس اعلیٰ اخلاق کا عملی نمونہ ہو۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ کا اخلاق کیا تھا۔ جواب دیا کہ: کان خلقہ القرآن (الادب المفرد، رقم الحدیث: 308) یعنی آپ کا اخلاق حضرت عائشہ کا یہ قولِ حدیثِ رسول یا سنتِ رسول کی اصل حقیقت کو بتاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کا عملی انطباق تھے۔ قرآن اگر قرآن ہے تو رسول اللہ کی حیثیت انطباقی قرآن (applied Quran) کی ہے۔ یہ ویسا ہی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ایک ہے اسپرچوئلٹی اور دوسری چیز ہے اپلائڈ اسپرچوئلٹی (applied spirituality)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے جو کتابی مجموعے تیار کیے گئے ہیں، اُن کی تعداد تقریباً 50 تک پہنچتی ہے۔ یہ احادیث گویا رسول اللہ کی پوری زندگی کا تعارف ہیں۔ آج کل کی زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ احادیث کا مجموعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور عمل کا انسائیکلو پیڈیا ہے۔ ان احادیث میں جو مختلف مضامین آئے ہیں، اُن کا اشارہ قرآن میں موجود ہے۔ احادیث کے دس اہم پہلو 1- حدیثِ تبیینِ قرآن: قرآن، دینِ خداوندی کی بنیادی تعلیمات (basics) کا حدیث اس کی تفصیل ہے جو کہ خود مہبطِ قرآن کی زبان سے بیان کی گئی ہے۔ 2- حدیثِ اسوۂ رسول: خدا کی کتاب پر عمل کرنے والا سب سے پہلا شخص ہمیشہ خود پیغمبر حدیثِ پیغمبر کے اسی عمل کا ریکار ڈہے۔

3- حدیثِ پوائنٹ آف ریفرنس: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی واقعات سے بھری ہوئی زندگی تھی، اس لیے آپ کی زندگی میں حیاتِ انسانی کی رہنمائی کے لیے ہر قسم کے حوالے موجود ہیں۔ 4- حدیثِ معیارِ حق: حدیث بتاتی ہے کہ کسی معاملے میں فیصلے کا صحیح معیار (right criterion) کیا ہے، انفرادی معاملات میں بھی اور اجتماعی معاملات میں بھی۔ 5- حدیثِ صحبتِ رسول: بعد کے زمانے کے لوگوں کے لیے حدیث صحبتِ رسول

(companionship of the Prophet) کا بدل ہے۔ حدیث صحبت رسول کا تسلسل ہے۔ حدیث کے ذریعے ہر آدمی گویا اصحاب رسول جیسا تجربہ کر سکتا ہے۔

6- حدیث پیغمبرانہ معرفت: حدیث ایک اعتبار سے، پیغمبرانہ معرفت کا ریکارڈ ہے۔ اعتبار سے، حدیث کا ذخیرہ حصول معرفت کے لیے ایک بنیادی رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ 7- حدیث نقطه آغاز: حدیث کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے آدمی کو ہر معاملے میں درست نقطہ آغاز (right starting point) ملتا ہے۔ اس طرح اُس کے لیے ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو حقیقی معنوں میں نتیجہ خیز بنا سکے۔

8- حدیث دلیلِ نبوت: حدیث کا استثنائی اسلوب اور اس کی استثنائی معنویت اتنا زیادہ نمایاں ہے کہ اس کا مطالعہ قاری کے لیے نبوت کی دلیل بن جاتا ہے۔

9- حدیث تاریخی دستاویز: حدیث پیغمبر کی سرگرمیوں کا ریکارڈ ہے۔ اس اعتبار سے، حدیث پیغمبر کے حق میں تاریخی دستاویز (historical document) کی حیثیت رکھتی ہے۔ 10- حدیث وحی غیر متلو قرآن وحی متلو ہے اور حدیث وحی غیر متلو۔ اس اعتبار سے حدیث کا مطالعہ گویا قرآن کے مطالعے کی توسیع (extension) کے ہم معنی ہے۔ حدیث تبیین قرآن قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اس میں دین کی تمام بنیادی تعلیمات کو بتا دیا گیا ہے۔ تعلیمات کی تفصیل قرآن میں موجود نہیں۔ یہ تفصیل یا توجیہہ صحابہ (ہم عصر اہل ایمان) نے براہ راست طور پر رسول سے حاصل کی۔ اس کے بعد یہ تمام معلومات احادیث کی حیثیت سے جمع ہوئیں اور پھر کتب حدیث کی صورت میں مدون ہوگئیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں اس طرح بیان کی گئی ہے: ﴿وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (16:64) یعنی ہم نے تم پر کتاب صرف اس لیے اتاری ہے کہ تم اُن کو وہ چیز کھول کر سنا دو جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ اور وہ ہدایت اور رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں۔

قرآن کی اس آیت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث، قرآنی آیات کی تشریح و توضیح رسول کی حیثیت مہیطِ قرآن کی ہے۔ آپ نے قرآن کی جس آیت کی جو تشریح کی، وہی اصلاً اُس آیت کی مستند تشریح ہے۔ یہاں اس معاملے کی وضاحت کے لیے چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ سورہ العنکبوت میں یہ آیت آئی ہے: اُتْلُ مَا اُوْحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ وَلِذِكْرُ اللَّهِ اَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ (29:45) یعنی تم اس کتاب کو پڑھو جو تم پر وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کرو۔ بے شک نماز بے حیائی سے اور برے کاموں سے روکتی ہے، اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دینِ اسلام میں نماز ایک بے حد اہم عبادت ہے۔ لیکن اس عبادت کی عملی صورت کیا ہو، اس کو جاننے کے لیے ایک زندہ انسان کی ضرورت ہے۔ معیاری انسان ہم کو رسول کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: صلوا كما رأيتموني أصلي (السنن الكبرى للبيهقي، رقم الحديث: 3672) یعنی تم نماز اُس طرح پڑھو، جس طرح تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ صحابہ نے رسول کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور پھر اس کو احادیث کے ذریعے امت تک پہنچایا۔

قرآن کی ایک آیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے: كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاْسُجُدْ وَاقْتَرِبْ (96:19) یعنی ہرگز نہیں، اس کی بات نہ مان اور سجدہ کر اور قریب ہو جا۔ اس آیت میں سجدۂ قربت سے کیا مراد ہے، اس کا علم ایک حدیث سے ہوتا ہے۔ ایک مشہور حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: تعبد الله كأنك تراه (صحيح البخاري، رقم الحديث: 4499) یعنی اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ مذکورہ آیت اور حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ عابد کا شعور اتنا ترقی کرے کہ اس کو خدا کی موجودگی (presence of God) کا تجربہ یہ احساس اتنا شدید ہو کہ عابد کو یہ محسوس ہونے لگے گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ حج بھی ایک عبادت ہے۔ حجۃ الوداع کی روایات میں سے ایک روایت وہ ہے جس سے یہ

معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کی اصل حقیقت کیا ہے۔ اسامہ بن شریک ایک صحابی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ منیٰ میں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے۔ کوئی شخص کہتا کہ اے خدا کے رسول، میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی، کوئی کہتا کہ میں نے رمی جمار سے پہلے حلق کرا لیا، کسی نے کہا کہ میں نے پہلے قربانی کی اور اس کے بعد میں نے رمی کیا۔ اسی طرح لوگ مختلف قسم کے سوالات پوچھتے رہے۔ آپ اس قسم کے سوالات کے جواب میں فرماتے: افعل ولا حرج، افعل و لا حرج، لا حرج إلا علی رجل افترض عرض رجل مسلم، وهو ظالم، فذلك الذي حرج وهلك (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 329) یعنی کرلو، کوئی حرج نہیں۔ کر لو، کوئی حرج نہیں۔ بات تو یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کو بے عزت کرے۔ ایسا ہی شخص ظالم ہے۔ اُسی نے حرج والا کام کیا اور ہلاک ہوا۔

اس حدیث رسول سے ایک اہم بات معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ عبادت میں اصل اہمیت عبادت کی اسپرٹ کی ہے۔ جہاں تک عبادت کے فارم کا تعلق ہے، وہ عملاً ضروری ہے، لیکن اگر عبادت کے فارم میں بظاہر کوئی فرق واقع ہو جائے تو وہ اللہ کے نزدیک قابلِ قبول ہے، بشرطیکہ عبادت کی اسپرٹ میں فرق نہ ہوا ہو۔ گویا کہ عبادت میں عابد کا فوکس سب سے زیادہ عبادت کی اسپرٹ پر ہونا چاہئے، نہ کہ عبادت کے فارم پر۔

Printed page