Al-Risala · December 2013

حدیث اسوہ رسول

Al-Risala, December 2013, pp. 34–37

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ الاحزاب میں یہ آیت آئی ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (33:21) یعنی تمھارے لیے اللہ کے رسول (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے، اُس شخص کے لیے جو اللہ کا اور وہ آخرت کے دن کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔

قرآن کی یہ آیت غزوہ احزاب (5 ہجری) کے بعد اتری۔ اس اعتبار سے، اُس کا ایک انطباق وہ ہے جو اس غزوہ کے دوران ظاہر ہوا۔ لیکن اسی کے ساتھ اُس کا ایک وسیع تر انطباق بھی ہے۔

اس اعتبار سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اہل ایمان کے لیے اسوہ حسنہ کی حیثیت رکھتی غزوہ احزاب کے زمانے میں جو واقعات پیش آئے، اُن کی تفصیل حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ یہاں اس سلسلے کی صرف ایک روایت نقل کی جاتی ہے جو اپنے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے نہایت جامع ہے۔ اس میں پوری زندگی کے لیے رہنمائی ملتی ہے۔

غزوہ احزاب 5 ہجری میں پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ بارہ ہزار کا لشکر مکہ سے روانہ ہوا ہے اور مدینہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ آپ نے اس معاملے میں اپنے اصحاب سے مشورہ حضرت سلمان فارسی کے مشورے سے یہ طے ہوا کہ ٹکراؤ سے بچنے کے لیے یہ کیا جائے کہ مدینہ کے شمال مغربی حصے میں دو پہاڑوں کے درمیان ایک خندق (trench) کھود دی جائے۔ ایسا ہی کیا گیا۔ اہلِ مکہ کا لشکر جب مدینہ کی سرحد پر پہنچا تو خندق پر اُن کو اپنی پیش قدمی روکنی پڑی۔ یہ اہل عرب کے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ چناں چہ اس کو دیکھ کر لشکر کے سردار نے کہا: واللہ إن هذه لمكيدۃ ما كانت العرب تكيدها (السيرة النبوية لابن هشام: 182/4) یعنی خدا کی قسم، یہ ایک ایسی تدبیر ہے جیسی تدبیر سے اہل عرب اب تک ناواقف تھے۔

یہ خندق لشکر کی مزید پیش قدمی کے لیے رکاوٹ (buffer) بن گئی۔ تقریباً ایک مہینہ پڑاؤ ڈالنے کے بعد اہل مکہ واپس چلے گئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا یہ واقعہ صرف ایک وقتی واقعہ نہیں، اس واقعے میں انسانی زندگی کے لیے ایک جامع رہنمائی موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں جب ٹکراؤ کی صورت پیش آئے تو اُس وقت تم ٹکراؤ کا آپشن نہ لو، بلکہ یک طرفہ تدبیر کے ذریعے اپنے اور فریق ثانی کے درمیان ایک آڑ یا فاصل (buffer) قائم کر لو۔ اس طرح تم متشددانہ ٹکراؤ اور اس کے نقصان سے بچ جاؤ گے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں مختلف صورتوں میں اس طریقے کو اختیار مثلاً غزوہ حدیبیہ (6 ہجری) کے موقع پر آپ نے فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان کر اُن سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ (no-war pact) کر لیا۔ یہ بھی اپنے اور فریق ثانی کے درمیان

فاصل قائم کرنے کی ایک صورت تھی۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الصبر معول المؤمن (حلیة الأولیاء: 342/5) یعنی صبر مومن کی ڈھال ہے۔ اجتماعی زندگی میں صبر کا طریقہ اپنے اور فریق ثانی کے درمیان فاصل قائم کرنے کی ایک صورت ہے۔ نزاع کے موقع پر اپنے اور فریق ثانی کے درمیان فاصل (buffer) قائم کرنا ایک حکیمانہ تدبیر دوسرے لفظوں میں اس کو مہلت حاصل کرنے کی تدبیر (buying-time method) کہا جا سکتا ہے۔ اس تدبیر کے ذریعے آدمی کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی طاقت کو ٹکراؤ میں ضائع کرنے سے بچ جائے۔ وہ اس حاصل شدہ وقت کو موقع (opportunity) کے طور پر استعمال کرے۔ حدیث پوائنٹ آف ریفرنس پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی اور آپ کے اصحاب کی زندگی واقعات سے بھری ہوئی زندگی (eventful life) تھی۔ آپ کی زندگی میں اور آپ کے اصحاب کی زندگی میں ہر قسم کے واقعات پیش آئے اور پھر یہ واقعات حدیثوں کی صورت میں ریکارڈ ہو گئے۔ جو شخص رسول اور اصحاب رسول کی زندگی کا مطالعہ کرے گا، وہ حیرت انگیز طور پر پائے گا کہ اس کے اندر حقیقی واقعات موجود ہیں۔ اس بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کی زندگی کے حوالے سے ہر معاملے میں مستند رہنمائی حاصل کی جاسکے۔

اس معاملے کی ایک مثال وہ واقعہ ہے جو روایت میں اس طرح آیا ہے: و كانت قريش إنما تسمى رسول الله صلى الله عليه و سلم مذمما، ثم يسبونه ـ فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ألا تعجبون لما صرف الله عني من أذى قريش ـ يسبون و يهجون مذمما وأنا محمد (السيرة النبوية لابن هشام: 201/2) یعنی قریش (مکی دور میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومذمم (مذمت کیا ہوا) کے نام سے پکارتے تھے اور پھر آپ کو برا بھلا کہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے اصحاب سے) کہتے تھے کہ کیا تم کو اس پر تعجب نہیں ہے کہ اللہ نے مجھے قریش کی اذیت سے بچا لیا ہے۔ وہ مذمم کہہ کر میری ہجو کرتے ہیں، حالاں کہ میرا نام محمد ہے۔

اس واقعے سے زندگی کا ایک اہم اصول ملتا ہے، وہ یہ کہ جب کوئی شخص اشتعال کی بات کرے تو سننے والا خوب صورت جواب دے کر اس کو غیر مؤثر بنادے۔ یہ زندگی کی ایک حکمت ہے۔ اس حکمت کو دوسرے الفاظ میں ، اویسیور پلائی (evasive reply) کہا جاسکتا ہے۔

اس معاملے کی ایک اور مثال یہ ہے کہ ایک بار حضرت ابو بکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص وہاں آیا اور آکر وہ حضرت ابو بکر کو برا بھلا کہنے لگا۔ حضرت ابو بکر پہلی بار سن کر اس نے دوسری بار ان کو برا بھلا کہا تو اُس وقت بھی وہ چپ رہے۔ مگر جب اس نے تیسری بار ان کو برا بھلا کہا تو حضرت ابو بکر خاموش نہ رہ سکے اور جواب میں بول پڑے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ وہاں سے اٹھ گئے۔ حضرت ابو بکر نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول ، آپ کیوں اٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابو بکر، جب تک تم چپ تھے، خدا کا فرشتہ تمھاری طرف سے جواب دے رہا تھا، جب تم بول پڑے تو فرشتہ وہاں سے چلا گیا: إن الملك كان يرد عنك، فلما تكلمت، ذهب الملك، ووقع الشيطان، وكرهت أن أجلس (شرح السنة للبغوي، رقم الحديث: 3586)

اس واقعے میں فرشتے کا لفظ کسی پر اسرار معنی میں نہیں ہے۔ اس سے مراد عملاً وہی ہے جس کو قرآن میں النفس اللوامة (75:2) یعنی ضمیر (conscience) کہا گیا ہے۔ اس واقعے میں یہ عمومی تعلیم دی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص تم کو ناحق ستائے تو تم صرف یہ کرو کہ ردِ عمل کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے خاموش ہو جاؤ۔ تمھاری خاموشی کا یہ فائدہ ہوگا کہ مذکورہ شخص کا ضمیر جاگ اٹھے گا۔ تم خود اپنے مخالف کے اندر اپنا ایک حامی پیدا کر سکتے ہو۔

Printed page