Al-Risala · December 2013

حدیث صحبتِ رسول

Al-Risala, December 2013, pp. 39–42

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث کیا ہے، وہ گویا صحبتِ رسول کی مستند رپورٹ ہے۔ حدیث کی کتابوں میں جو روایتیں جمع کی گئی ہیں، اُن کی نوعیت یہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے ساتھ آپ کی صحبت میں بیٹھتے تھے۔ وہ نہایت غور کے ساتھ آپ کی باتیں سنتے تھے۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے سے پہلے لوگوں کے حافظے نہایت قوی ہوتے تھے۔ چناں چہ رسول اللہ کی کہی ہوئی باتیں لوگوں کو پوری طرح یاد ہو جاتی تھیں۔ بعد کو ان باتوں کو باقاعدہ طور پر لکھا جانے لگا۔ اس طرح حدیث کی وہ کتابیں تیار ہوئیں جواب ہمارے کتب خانوں میں پائی جاتی ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ اقوال ہمیشہ فطری اسلوب میں ہوتے تھے۔ آج اگر کوئی شخص ان اقوالِ رسول کو توجہ کے ساتھ پڑھے، وہ ذہنی طور پر اپنے آپ کو اُس ماحول میں پہنچادے، جب کہ یہ باتیں کہی جارہی تھیں، تو پڑھنے والے کو اپنی شعوری بیداری کی بنا پر ایسا محسوس ہوگا جیسے وہ پیغمبر کی صحبت میں پہنچ گیا ہے اور براہِ راست طور پر آپ کی باتوں کو سن رہا ہے۔ اس طرح احادیث نے گویا کہ پیغمبر کی صحبت کو ابدی بنادیا ہے۔ اس کی ایک مثال مشہور حدیث جبریل ہے۔ جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم میں اس کو باب بیان الایمان کے تحت دیکھا جاسکتا ہے۔ آپ یکسو ہو کر اور استحضار کے ساتھ اس حدیث کو پڑھیں تو حدیث کا متن آپ کو اس طرح اپنی طرف کھینچ لے گا کہ آپ محسوس کریں گے کہ آپ بھی مدینہ کی اُس مجلس میں ہیں جہاں پیغمبر اور جبریل کے درمیان یہ مکالمہ ہوا— تقریباً یہی معاملہ تمام دوسری حدیثوں کا بھی ہے۔ حدیث پیغمبرانہ معرفت احادیث کا جو مجموعہ مختلف کتابوں کی صورت میں مرتب ہوا ہے، وہ سادہ طور پر صرف پیغمبر کے اقوال کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ وہ پیغمبر کی شخصیت کا مکمل تعارف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی انسان کا کلام اُس انسان کا تعارف ہوتا ہے۔ یہ بات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے بارے میں مزید اضافے کے ساتھ درست ہے۔ مثال کے طور پر یہاں ایک روایت کا مطالعہ کیجئے: أمرني ربي بتسع: خشية الله

فی السر والعلانية، وكلمة العدل في الغضب والرضا، والقصد في الفقر والغنا، وأن أصل من قطعني، وأعطی من حرمني، وأعفوا عن من ظلمني، وأن يكون صمتي فكراً، ونطقي ذكراً، ونظري عبرة (جامع الأصول، رقم الحديث: 9317) یعنی میرے رب نے مجھے 9 باتوں کا حکم دیا ہے: کھلے اور چھپے ہر حال میں، میں خدا سے ڈرتا رہوں۔ غصے میں ہوں یا خوشی میں، ہمیشہ انصاف کی بات کہوں۔ محتاجی اور امیری دونوں حالتوں میں، میں اعتدال پر قائم رہوں۔ جو مجھ سے کٹے، میں اُس سے جُڑوں۔ جو مجھے محروم کرے، میں اْس کو دوں۔ جو مجھ پر ظلم کرے، میں اس کو معاف میری خاموشی غور وفکر کی خاموشی ہو۔ میرا بولنا یاد الہی کا بولنا ہو۔ میرا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو۔ اس حدیث کو بار بار پڑھیے۔ اس پر گہرائی کے ساتھ غور کیجئے۔ اگر آپ سنجیدگی کے ساتھ ایسا کریں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ پیغمبر کو دیکھے بغیر دیکھ رہے ہیں۔ آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے کہ پیغمبر کی شخصیت آپ کے سامنے مستحضر ہوگئی ہو۔ آپ محسوس کریں گے کہ آپ پیغمبر کے ذوق (taste) کو دریافت کر رہے ہیں۔ آپ پیغمبر کی ترجیحات (priorities) سے باخبر ہو رہے ہیں۔ آپ کو نظر آ رہا ہوگا کہ پیغمبر کے ذہن میں کس قسم کا تھاٹ پر اسس (thought process) چلتا رہتا تھا۔ اخلاقی قدریں (moral values) کیا تھیں جن کے مطابق، وہ انسانوں کے ساتھ معاملہ کرتا تھا۔ پیغمبر کے دن اور رات کن کیفیات میں بسر ہوتے تھے، وغیرہ۔

غرض یہ کہ آپ اس روایت اور دوسری روایتوں میں غور کر کے پیغمبر کی اعلی ربانی شخصیت کی پوری تصویر دیکھ سکتے ہیں، حتی کہ آپ کا شعور مکمل طور پر بیدار ہو تو آپ کی یہ دریافت تقریباً اتنی ہی زیادہ حقیقی ہو سکتی ہے، جتنا کہ پیغمبر کے، ہم عصر اہل ایمان کی دریافت ہو سکتی تھی۔ حدیث نقطہ آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کامل معنوں میں ایک عملی انسان تھے۔ آپ نے زیر و (zero) سے اپنے مشن کا آغاز کیا اور پھر اس کو کمال کے درجے تک پہنچایا۔ اس اعتبار سے، آپ کی زندگی میں اس مشکل مسئلے کا ایک کامیاب نمونہ ملتا ہے کہ اپنے عمل کا آغاز کہاں سے کیا جائے۔ آپ کی حدیثیں آپ کی

اسی عملی زندگی کا ریکارڈ ہیں۔ آپ کی حدیثوں کے مطالعے سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کسی عمل کادرست نقطہ آغاز (right starting point) کیا ہے۔

اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے مشن کا ایک جز یہ تھا کہ کعبہ کی عمارت کو بتوں سے پاک کیا جائے، جہاں اُس وقت تقریباً 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ کعبہ میں آپ وہاں نماز پڑھتے تھے۔ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے۔ لیکن مکی دور کے 13 سال تک آپ نے کبھی ان بتوں سے تعرض نہیں کیا، حتیٰ کہ کعبہ میں ان کی موجودگی پر احتجاج بھی نہیں کیا، حالاں کہ آپ کے مشن میں یہ شامل تھا کہ کعبہ سے بتوں کا خاتمہ کیا جائے، جیسا کہ آپ نے فتح مکہ کے بعد کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے، وہ یہ کہ کسی عمل کا نقطہ آغاز کیا۔ کسی عمل کا نقطہ آغاز یہ ہے کہ بالواسطہ طور پر پر امن دعوت کی شکل میں اپنے عمل کا آغاز کیا جائے ۔ جہاں تک عملی اقدام کا تعلق ہے، وہ صرف اس وقت کیا جائے جب کہ وہ پوری طرح ممکن ہو چکا ہو، جب وہ وقت آجائے کہ کوئی نیا مسئلہ پیدا کیے بغیر اس کو تکمیلی سطح تک پہنچایا جائے ۔ حدیث دلیل نبوت حدیث کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبر ہونے کی ایک محکم دلیل ہے، یعنی کلام اپنے آپ میں یہ گواہی دیتا ہے کہ متکلم کوئی عام انسان نہ تھا، بلکہ وہ اللہ رب العالمین کا حدیث کے ذخیرے میں اس طرح کی بہت سی روایتیں ہیں۔ یہاں اس سلسلے میں صرف ایک حدیث کا ذکر کیا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارے میں فرمایا: أنا سيد ولد آدم، ولا فخر، ولواء الحمد بيدي يوم القيامة، ولا فخر (سنن ابن ماجه، رقم الحديث: 4308) یعنی میں اولادِ آدم کا سردار ہوں، اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔ اور قیامت کے دن حمد کا علم میرے ہاتھ میں ہوگا اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قوال آپ کی فضیلت کے بارے میں نہیں ہے۔ وہ دراصل ایک تاریخی واقعہ کی پیشین گوئی ہے۔ اس میں ایک ایسے واقعے کا ذکر ہے جو اسی دنیا میں پیش آئے گا۔

قیامت میں جو کچھ ہوگا، وہ صرف یہ کہ قیامت میں ہر چیز سے التباس کا پردہ اٹھ جائے گا۔ اس لیے قیامت میں ہر ایک بلا اشتباہ اُس واقعے کو جان لے گا جو موجودہ دنیا میں ایک تاریخ کے طور پر پیش آیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ساتویں صدی کے ربع اول میں کہی تھی۔ وقت کے حالات میں بظاہر اس کا ادنیٰ امکان نہیں تھا کہ آپ کسی وقت پوری نسل انسانی میں نمایاں ترین شخص کی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔

یہ بات صرف اللہ رب العالمین کے علم میں تھی کہ وہ خاتم النبیین کو ایک ایسی تاریخی شخصیت (historical figure) کا درجہ دینے والا ہے جو تمام نسل انسانی میں ممتاز ترین درجہ ہے۔ لیے تھا کہ لوگوں کے لیے آپ کو پہچاننا ممکن ہوجائے۔ 'سید ولد آدم' کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ استثنائی طور پر تاریخ کا عظیم ترین انسان:

Printed page