Al-Risala · December 2013

حدیث تاریخی دستاویز

Al-Risala, December 2013, pp. 44–46

By Maulana Wahiduddin Khan

احادیث کی ایک اہم حیثیت یہ ہے کہ وہ اسلام اور شخصیات اسلام کے لیے ایک تاریخی دستاویز (historical document) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ احادیث ایک اعتبار سے، اسلام کے مسائل بتاتی ہیں اور دوسرے اعتبار سے، وہ اسلام کی مستند تاریخ ہیں۔ حدیث اور سیرت پر جو کتابیں تیار کی گئی ہیں، وہ گویا تاریخ اسلام کی جلدیں ہیں۔ احادیث کا یہی مجموعہ ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کو ایک مستند تاریخی بنیاد (historical base) حاصل ہوگئی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بہت سے پیغمبر آئے، لیکن ان تمام پیغمبروں کی شخصیت غیر تاریخی شخصیت بن کر رہ گئی، حتی کہ حضرت مسیح جو پیغمبر اسلام سے صرف 6 سو سال پہلے پیدا ہوئے، اُن کے بارے میں بھی معتبر تاریخی روایات موجود نہیں۔ چناں چہ برٹرنڈ رسل (وفات: 1970) نے لکھا ہے کہ — تاریخی طور پر یہ بات بالکل مشتبہ ہے کہ مسیح کا کبھی وجود بھی تھا: Historically, it is quite doubtful whether Christ ever existed at all. ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ کیوں ایسا ہے کہ پیغمبر اسلام کو ایک واحد استثنا کے طور پر تاریخی پیغمبر مانا جاتا ہے۔ پروفیسر فلپ کے ہٹی نے لکھا ہے کہ — محمد تاریخ کی مکمل روشنی میں پیدا ہوئے: Muhammad was born within the full light of history. ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیا (وفات: 1910) ایک بنگالی اسکالر تھے۔ انھوں نے تمام مذاہب اور مذہبی شخصیتوں کا مطالعہ کیا۔ اپنے اس مطالعے کے بعد انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ انھوں نے اپنے اس مطالعے کی تفصیل بتاتے ہوئے اپنی کتاب میں یہ الفاظ لکھے ہیں — اف، یہ کتنی بڑی راحت کی بات ہے کہ آدمی آخر کار حقیقی معنوں میں ایک ایسے تاریخی پیغمبر کو پالے جس پر وہ یقین کر سکے: Oh, what a relief to find after all a truly historical prophet to believe in.

جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو انبیا آئے، اُن میں سے کسی کو تاریخی شخصیت (historical figure) کا درجہ حاصل نہیں۔ خالص علمی اعتبار سے، پچھلے تمام انبیا اعتقادی انبیا ہیں، نہ کہ تاریخی انبیا۔ ایسی حالت میں کیوں کر ایسا ہوا کہ پیغمبرِ اسلام کو استثنائی طور پر تاریخی شخصیت کا درجہ حاصل ہو گیا۔ دوسری تمام شخصیتیں جن کو تاریخی شخصیت کہا جاتا ہے، اُن کو یہ درجہ صرف اس لیے حاصل ہوا کہ مدوّن تاریخ (recorded history) کی صورت میں تاریخ کا جو ذخیرہ تیار ہوا ہے، اس میں اُن کا تذکرہ موجود ہے۔ لیکن پیغمبرِ اسلام کو جو تاریخی حیثیت ملی، وہ اصلاً مدوّن تاریخ کے ریکارڈ کی بنا پر نہیں ملی۔ پھر اس استثنائی واقعے کا سبب کیا تھا۔

اس کا سبب وہ لٹریچر ہے جس کو حدیث لٹریچر کہا جاتا ہے۔ حدیث لٹریچر صرف شرعی احکام کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ وہ اُن تاریخی واقعات کا مجموعہ بھی ہے جو پیغمبرِ اسلام کی زندگی میں پیش آئے۔ پیغمبرِ اسلام واحد پیغمبر تھے جو اپنی 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی میں ایک وسیع ٹیم بنانے میں کامیاب ہوئے، جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔

یہ اصحابِ رسول یا پیغمبرِ اسلام کی ہم عصر ٹیم (contemporary team) آپ کی پوری زندگی میں آپ کے ساتھ رہی۔ انھوں نے آپ کے ساتھ دعوتِ الی اللہ کا کام کیا۔ وہ آپ کے ساتھ حج اور عبادت میں شریک ہوئے۔ سفر اور حضر میں وہ آپ کے ساتھ ہوتے تھے۔ صلح اور جنگ کے تمام مواقع پر وہ آپ کے ساتھ شریک رہے۔ انھوں نے آپ کی انفرادی زندگی کو بھی دیکھا اور آپ کی اجتماعی سرگرمیوں کا بھی مشاہدہ کیا۔ پیغمبرِ اسلام کی زندگی کے ان تمام پہلوؤں کو انھوں نے محفوظ کیا۔ حفاظتِ احادیث کا یہ سلسلہ اصحابِ رسول کے بعد بھی نسل در نسل جاری رہا، یہاں تک کہ حدیث کی وہ کتابیں تیار ہوگئیں جو اب ہر کتب خانے میں مطبوعہ شکل میں موجود ہیں۔

احادیثِ رسول کے ناقل جن کو رُواۃ (narrators) کہا جاتا ہے، وہ سادہ طور پر صرف ناقلِ حدیث نہ تھے، بلکہ اسی کے ساتھ وہ ناقلِ تاریخ بھی تھے۔ انھوں نے پیغمبرِ اسلام کی زندگی کی تمام سرگرمیوں کو نہایت صحت کے ساتھ محفوظ کر دیا۔ یہی وہ ریکارڈ ہے جس نے پیغمبرِ اسلام کو

خالص علمی اعتبار سے، ثابت شدہ طور پر تاریخی پیغمبر کا درجہ دے دیا۔

جیسا کہ معلوم ہے، اسلام کے دو مستند ماخذ ہیں — قرآن اور حدیث۔ جہاں تک اسلام کی بنیادی تعلیمات کا معاملہ ہے، وہ سب کی سب قرآن میں موجود ہیں۔ لیکن پیغمبر اسلام کی زندگی کا وہ حصہ جس کو تاریخ کہا جاتا ہے، اُس کا مستند ماخذ صرف احادیث کا ذخیرہ ہے۔ احادیث کو اگر حذف کر دیا جائے تو اسلام اور پیغمبر اسلام کی تاریخی بنیاد ختم ہو جائے گی۔ اس کے بعد اسلام اور پیغمبر اسلام کی حیثیت صرف ایک عقیدے کی ہوگی، نہ کہ تاریخ کی۔ مثال کے طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ اتنا اہم تھا کہ قرآن میں استثنائی طور پر اس کو فتح مبین (clear victory) کہا گیا ہے۔ لیکن اس واقعے کی تفصیلات قرآن میں مذکور اس واقعے کی تمام تفصیلات ہم کو حدیث اور سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتی ہیں۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کے دوسرے تمام واقعات کا ہے۔

Printed page