Al-Risala · December 2013

حدیث وحی غیر متلو

Al-Risala, December 2013, pp. 46–2

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن وحی متلو ہے اور حدیث وحی غیر متلو، یعنی قرآن خدا کا مبنی بر وحی کلام (revealed word of God) ہے اور حدیث خدا کا مبنی بر الہام کلام (inspired word of God) قرآن اگر حدیث قدسی ہے تو حدیث، حدیثِ رسول۔ قرآن اگر لفظی قرآن ہے تو حدیث گو یا معنوی قرآن اور حدیث دونوں کا اصل منبع (source) ایک ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے کسی پیچیدہ فنی بحث کی ضرورت نہیں، قرآن اور حدیث کا سادہ مطالعہ ہی اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کافی اگر آپ عربی زبان جانتے ہیں اور آپ کے اندر متاثر ذہن (preoccupied mind) نہیں ہے تو آپ کا کامن سنس (common sense) ہی اس معاملے کو سمجھنے کے لیے کافی ہو جائے گا۔ آپ محسوس کریں گے کہ قرآن اور حدیث کے اسلوب میں واضح فرق موجود ہے۔ اشتراک کے باوجود صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا متکلم اور ہے اور حدیث کا متکلم اور۔ اسلوب کے اس فرق کے باوجود جہاں تک معنی کی بات ہے، معنی کے اعتبار سے، دونوں کے

اور کامل مشابہت اور مطابقت اتنی صاف معلوم ہوتی ہے کہ جو معنی یہ حش ق قرآن کا سراغ معنی تھا، اندر کامل مشابہت پائی جاتی ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو معنوی سرچشمہ قرآن کا ہے، وہی معنوی سرچشمہ حدیث کا بھی ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں ایک روایت کا مطالعہ کیجئے: وعلی العاقل مالم يكن مغلوباً على عقله أن تكون له ساعات: ساعة يناجي فيها ربه، وساعة يحاسب فيها نفسه، وساعة يتفكر فيها في صنع الله، و ساعة يخلو فيها لحاجته من المطعم والمشرب - (صحیح ابن حبان، رقم الحدیث: 361) یعنی عقل مند شخص کے لیے لازم ہے کہ اُس پر کچھ لمحات گزریں ۔ ایسا لمحہ جب کہ وہ اپنے رب سے باتیں کرے، ایسا لمحہ جب کہ وہ اپنی ذات کا محاسبہ کرے، ایسا لمحہ جب کہ وہ خدا کی تخلیق میں غور کر رہا ہو اور ایسا لمحہ جب کہ وہ کھانے اور پینے کی ضرورتوں کے لیے وقت نکالے۔

اس حدیث رسول کا مطالعہ کیجئے۔ اس حدیث کا ربانی مزاج اور اس کا الہامی اسلوب اپنی روح کے اعتبار سے، اُس دین کی نمائندگی کر رہا ہے جو دین قرآن میں پایا جاتا ہے۔ بارے میں سوچ رہے ہیں۔ رہی اس میں پیار محبت

Printed page