پانچ فقہی اسکول
Al-Risala, February 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں میں اس وقت عملاً پانچ بڑے فقہی اسکول قائم ہیں ۔ مالکی اسکول، حنبلی اسکول، شافعی اسکول، حنفی اسکول ،جعفری اسکول۔ یہ تمام فقہی اسکول یہ مانتے ہیں کہ اُن کا دین ایک ہے، اور وہ اس کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ ایک مذہب پانچ مذہبوں میں بٹ گیا۔ اُن میں اتنے زیادہ اختلافات ہوئے کہ سخت قسم کی گروہ بندی اور باہمی ٹکراؤ تک نوبت آگئی۔
اس گروہ بندی کے معاملے کو سمجھنے کے لیے مشہور مالکی عالم یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبدالبر (وفات: 1071ء) کی کتاب ’جامع بیان العلم وفضلہ‘ ایک اچھے گائیڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب سے اور اس موضوع کی دوسری کتابوں سے اس معاملے کی جو حقیقت سامنے آتی ہے، اُس کو ہم یہاں مختصر طور پر درج کریں گے۔
دوسرے مذہبی نظاموں کی طرح، اسلام کی مذہبی تعلیمات کے دو حصے ہیں۔ (basics)، اور فروع (non-basics)۔ اس معاملے کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ اسلام کے دورِ اوّل (عہدِ رسالت، عہدِ صحابہ، عہدِ تابعین) میں یہ دونوں قسم کی چیزیں موجود تھیں، لیکن اُس زمانے میں یہ چیزیں گروہ بندی کا سبب نہیں بنیں۔ اختلافات کی بنیاد پر گروہ بندی کا واقعہ بعد کو عباسی دور میں پیش آیا۔
جیسا کہ معلوم ہے، عباسی دور میں اسلامی علوم کی تدوین ہوئی ۔ اس زمانے میں زیادہ بڑے پیمانے پر حدیثیں جمع کی گئیں۔ ان حدیثوں میں دوسری باتوں کے علاوہ، یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اصحاب رسول کس طرح نماز ادا کرتے تھے۔ ان روایتوں سے معلوم ہوا کہ نماز کا ایک حصہ وہ ہے جس میں صحابہ کے درمیان کوئی فرق یا اختلاف نہیں پایا جاتا تھا۔ مثلاً ہر صحابی کے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ اُنھوں نے فجر کی نماز دو رکعت پڑھی، ظہر اور عصر کی نماز اُنھوں نے چار رکعت پڑھی، مغرب کی نماز اُنھوں نے تین رکعت پڑھی، اور پھر عشا کی نماز اُنھوں نے چار رکعتوں کے ساتھ پڑھی۔
اس طرح نماز کا ایک پہلو وہ تھا جس کے بارے میں تمام صحابہ ایک ہی متعین طریقے کے پابند تھے، لیکن اسی کے ساتھ نماز کے بعض دوسرے پہلوؤں کے بارے میں فرق یا اختلاف پایا جاتا تھا۔ مثلاً کسی نے نماز شروع کرتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ باندھے، اور کسی نے سینے کے نیچے قراتِ فاتحہ کے بعد کسی نے آمین دھیرے سے کہی، اور کسی نے زور سے۔ نماز کے دوران کسی نے اللہ اکبر کہتے ہوئے رفع یدین کیا، اور کسی نے نہیں کیا، وغیرہ۔
جمعِ حدیث کے دوران جب عبادت کے اختلافات سامنے آئے، تو اب یہ سوال اٹھا کہ ان اختلافات کی کیا توجیہہ کی جائے۔ اختلافات کو مٹانا ممکن نہ تھا، کیوں کہ یہ اختلافات سب کے سب، اصحاب رسول کی طرف سے آ رہے تھے، اور اصحاب رسول وہ لوگ تھے جنھوں نے براہ راست طور پر پیغمبر کی عبادت کا مشاہدہ کیا تھا۔ اُن کو مخاطب کرتے ہوئے پیغمبر نے کہا تھا: صلّوا كما رأيتموني أصلي (صحيح البخاري، رقم الحديث: 631/6008) ایسی حالت میں ہر طریقہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مستند حیثیت رکھتا تھا۔ بظاہر یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کس بنیاد پر ایک طریقے کو لیا جائے اور دوسرے طریقے کو چھوڑ دیا جائے۔
اس موقع پر مسلم فقہا کی دو رائیں ہو گئیں۔ ایک رائے یہ تھی کہ: الحق لا يتعدد (تذكرة المؤتسي 1/402) یعنی حق کئی نہیں ہو سکتا، اس لیے ہمیں عملی طور پر یہ کرنا ہو گا کہ ہم یہاں ترجیح (preference) کے اصول کو رائج کریں، یعنی کسی ایک رائے کو راجح قرار دینا، اور دوسری رائے کو مرجوح قرار دے کر اُس کو چھوڑ دینا۔
مگر اس کے باوجود مسئلہ باقی رہا، کیوں کہ ترجیح کا اصول ہمیشہ اجتہاد پر مبنی ہوتا ہے اور جہاں اجتہاد آیا، وہاں اختلاف رائے بھی لازماً آئے گا۔ چناں چہ ترجیح کے اس اصول کا نتیجہ عملی طور پر یہ ہوا کہ لوگوں کے درمیان کئی رائیں بن گئیں۔ ہر ایک نے اپنی رائے کی صحت پر اصرار کیا۔ چناں چہ کسی نے ایک رائے کو ترجیح (preference) دی اور کسی نے دوسری رائے کو، اور اس طرح لوگ کئی گروہ میں بٹ گئے۔ مختلف فقہی اسکول کے وجود میں آنے کا سبب یہی ہے۔
ترجیح کے اس اصول پر بحث کرتے ہوئے محمد بن ادریس الشافعی (وفات: 820ء) نے درست طور پر لکھا ہے کہ: رأيي صواب يحتمل الخطأ، ورأى غيري خطأ يحتمل الصواب (الفتاوى الكبرى الفقھية 4/313) یعنی میری رائے درست ہے، اس احتمال کے ساتھ کہ وہ غلط ہو۔ اور دوسری کی رائے غلط ہے، اس احتمال کے ساتھ کہ وہ درست ہو۔ امام شافعی کے اس قول سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملے میں فقہا کا مسلک کتنا زیادہ غیر منطقی (illogical) تھا۔ جب ایک رائے کو ترجیح دینے کے بعد بھی اس کی عدم صحت کا احتمال موجود ہے، اور اسی طرح جب ایک رائے کو ترک کرنے کے باوجود بھی اس کی صحت کا احتمال پایا جائے، تو ایسی ترجیح عملاً سرا سر بے معنی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ آدمی پریقین کیفیت کے ساتھ اپنی عبادت کر سکے، جب کہ عبادت کے ساتھ یقین کا عنصر لازمی طور پر ضروری ہے۔ محدثین کا مسلک اس معاملے میں فقہا کے مسلک سے مختلف تھا، اور بلاشبہ وہ ہی مسلک زیادہ محدثین کے نقطہ نظر کا اندازہ احمد بن حنبل (وفات: 855ء) کے ایک واقعے سے ہوتا ہے۔ عبدالرحمن صیرفی کہتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا کہ اگر کسی مسئلے میں صحابہ کا اختلاف ہو، تو کیا تنقید اور تمحیص کرنا چاہیے، تا کہ جس کے ساتھ حق نظر آئے، اس کی پیروی کی جائے۔ احمد بن حنبل نے جواب دیا کہ انھوں نے کہا، پھر ہم کیا کریں۔ احمد بن حنبل نے کہا: تقلّد أيهم أحببت (جامع بیان العلم، صفحہ 83) یعنی تم جس صحابی کے قول کو چاہو، لے لو اور اس کے مطابق اس کی پیروی کرو۔ محدثین کے مسلک کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے روایتوں کے اس فرق کو تنوع (diversity) پر محمول کیا، یعنی یہ بھی ٹھیک، اور وہ بھی ٹھیک۔ یہ نظریہ انھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے اخذ کیا: أصحابي كالنجوم، بأيهم اقتديتم، اهتديتم (کشف الخفاء، جلد 1، صفحہ 146) یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں۔ اُن میں سے تم جس کی بھی پیروی کروگے، راہ یاب ہوگے۔
اس نقطۂ نظر کی حکمت یہ تھی کہ چیزوں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اُن کے کچھ اساسی اجزا
ہوتے ہیں، اور کچھ فروعی اجزا۔ یہ ایک عام اصول ہے کہ وحدت (oneness) اساسات میں مطلوب ہوتی ہے۔ جہاں تک فروع (non-basics) کا تعلق ہے، اُن میں ہمیشہ تنوع (diversity) یہ ایک عمومی اصول ہے۔ فروع میں اگر تنوع نہ ہو تو اُس سے کٹر پن(rigidity) (rigidity) پیدا ہوتا ہے اور کٹر پن کسی بھی چیز کے لیے مفید نہیں۔
مزید یہ کہ خدا کی عبادت ایک زندہ عمل کا نام ہے۔ وہ کسی بے روح فارم کو دہرانے کا نام نہیں۔ عبادت کو جب اس کی زندہ اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے گا، تو یہی ہوگا کہ عبادت کے بنیادی اجزا کی حد تک تو یکسانیت ہوگی، لیکن اس کے فروعی اجزا میں تنوع پیدا ہو جائے گا۔ زندہ عبادت کبھی فروع میں یکسانیت کا خل نہیں کر سکتی۔ فروع میں یکسانیت لانے کی کوشش کرنا، عبادت کو بے روح رسموں کا ایک مجموعہ (set of rituals) بنا دینا ہے۔ ایسی عبادت ایک مشینی روبوٹ (robot) کی عبادت ہوگی، نہ کہ کسی زندہ انسان کی عبادت۔ عبادت، اعلیٰ کیفیات کے تحت کیا جانے والا ایک عمل ہے۔ ایسا عمل کبھی یکسانیت کے ساتھ ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اصحاب رسول کی عبادت کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں، ان کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی عبادت اگر چہ اساسات (basics) کے اعتبار سے یکساں انداز میں ہوتی تھی، لیکن غیر اساسی اجزا کے اعتبار سے، ان کے یہاں ہمیشہ تنوع پایا جاتا تھا۔ اس قسم کی ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے جس سے صحابہ کی عبادت کا اندازہ ہوگا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رفاعہ بن رافع الانصاری (وفات: 661ء) کی ایک روایت ہے، جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ نے رکوع کے بعد اپنا سر اٹھایا، تو آپ نے کہا: سمع اللہ لمن حمده۔ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے ایک شخص نے اُس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا: ربنا ولك الحمد، حمداً كثيراً طيباً مبارکاً فيه۔ نماز ختم ہوئی تو رسول اللہ نے پوچھا کہ کس شخص نے ایسا کہا تھا۔ اُس آدمی نے کہا کہ میں نے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ میں نے تیس سے
زیادہ فرشتوں کو دیکھا۔ ان میں سے ہر ایک سبقت کر رہا تھا کہ وہ پہلے اس عمل کو لکھ لے (رأيت بضعةً وثلاثين ملكا يبتدرونها أيهم يكتبها أول) صحيح البخاري، رقم الحديث: 799۔ اس طرح کے بہت سے واقعات، حدیث کی کتابوں میں رسول اور اصحاب رسول کے بارے میں آئے ہیں۔ ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ نماز کسی سیٹ پیٹرن (set pattern) کا نام نہیں، نماز ایک زندہ عمل کا نام ہے۔ کوئی زندہ عمل کبھی لگے بندھے طریقے سے نہیں ہوسکتا۔ کیفیت سے بھرا ہوا عمل ہوتا ہے، اور کیفیت کبھی یکسانیت کی پابند نہیں ہوسکتی۔ اس سے نماز کے معاملے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ نماز کے بنیادی ڈھانچے میں تو ہمیشہ یکسانیت پائی جائے گی، لیکن نماز کے فروعی اجزا ہمیشہ کیفیات کے تابع ہوتے ہیں۔ فروعی پہلوؤں میں کیفیت کا اظہار کبھی ایک طریقے پر ہوگا اور کبھی دوسرے طریقے پر۔ حقیقت یہ ہے کہ عبادت کو ہر پہلو سے یکساں قسم کے ڈھانچے کا پابند بنانا، عبادت کی اسپرٹ کے بھی خلاف ہے، اور پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے نمونے کے بھی خلاف۔
تاریخ بتاتی ہے کہ محدثین کے زمانے میں، یا اُن سے پہلے، مختلف قسم کے فقہی اسکول موجود نہ یہ اسکول بعد کو فقہا کے دور میں بنائے گئے۔ ابتدائی دور میں مختلف فقہی اسکول کا بننا محض ایک سادہ واقعہ معلوم ہوتا ہے، لیکن دھیرے دھیرے بعد کے زمانے میں، وہ غلو آمیز گروہ بندی کی صورت اختیار کرگیا، جب کہ غلو اسلام میں نہیں (لا غلوّ في الإسلام)۔
(نوٹ: مذکورہ موضوع پر مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوراقم الحروف کی کتاب : تجدید دین) سہارن پور (یوپی) میں مولانا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں، قرآن مجید کے ترجمے، دعوتی لٹریچر اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: Dr. M. Aslam Khan (Principal)
National Medical IGNOU Community College 38 Ayodhyapuram Mahipura Dehradun Road www.nmicc.com, dr_aslm@rediff.com, +919997153735