ں |
Al-Risala, February 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکا کے ادارہ ناسا نے 1989 میں ایک راکٹ بیرونی خلا میں بھیجا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ بگ بینگ دھماکے سے نکلنے والے ریڈی ایشن (Cosmic Background Radiation) وہ بت بیتا، کے آنے والے ریڈی ایشن (Background Radiation کا مطالعہ کرے اور اس کا فوٹو لے کر زمین پر بھیجے۔ اس راکٹ کا نام یہ تھا: Cosmic Background Explorer اِس تحقیق کے ذریعے حاصل کردہ معلومات کا تجزیہ کرنے سے بگ بینگ کے نظریے پر مزید روشنی پڑی ہے۔ اٗس نے اِس نظریے کو اسٹرانگ سپورٹ (strong support) دی ہے، اور کائنات کی عمر کا حتمی تعیّن کردیا ہے۔ اِس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بگ بینگ کا واقعہ 13 بلین سال رپورٹ کے الفاظ یہ ہیں :
اٹھیلپ ہا پنٹ دی ایج آف دی یونیورس، اینڈ سپورٹڈ دی بگ بینگ تھیوری آف اٹس برتھ (The Times of India, October 4, 2006, p. 17).
بگ بینگ کا نظریہ ابتدائی طور پر بیسویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں دریافت ہوا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کائنات کا آغاز ایک عظیم انفجار (explosion) سے ہوا۔ اس کے بعد اس نظریے پر کام ہوتا رہا، یہاں تک کہ اب یہ نظریہ ایک ثابت شدہ واقعہ بن چکا ہے۔
بگ بینگ کا نظریہ علم العقائد یا تھیالوجی کے اعتبار سے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے خالص انسانی علم کی سطح پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ کائنات ابدی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک وقت خاص پر پیدا ہوئی۔ اس کی یہ پیدائش ایک بہت بڑے دھماکے کے ذریعے ہوئی۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقی طور پر نہیں ہوسکتا۔ اس کو وقوع میں لانے کے لیے ایک خارجی عامل (external factor) درکار ہے۔ اس طرح بگ بینگ کا واقعہ اس نظریے کے حق میں ایک مضبوط منطقی سپورٹ بن گیا ہے کہ اس کائنات کو ایک پیدا کرنے والے نے پیدا کیا۔ بگ بینگ کا واقعہ معلوم ہونے کے بعد اس کی کوئی دوسری نظریاتی توجیہہ ممکن نہیں۔ 3- کائنات کی ترکیب اس طرح ہوئی ہے کہ یہاں ہر صداقت (truth) کا مادی مظاہرہ (physical demonstration) پایا جاتا ہے۔ اس طرح ایک غور کرنے والے انسان کے لیے تمام غیر مرئی صداقتیں (invisible truths) مرئی سطح (visible level) پر قابل فہم بن جاتی اس قسم کی مثالوں میں سے ایک مثال وہ ہے جس کو موجودہ زمانے کی فلکیاتی اصطلاح میں بلیک ہول (Black Hole) کہا جاتا ہے۔ بلیک ہول کا نظریہ تقدیر اور تدبیر، یا انسانی آزادی اور خدائی جبر کے درمیان نازک تعلق کو قابل فہم بنا رہا ہے۔
فلکیات (astronomy) کے جرمن عالم کارل (Karl Schwarzschild) نے 1907 میں اپنے قیاس کے تحت یہ پیشین گوئی کی کہ خلا میں ایسے بڑے بڑے ستارے ہو سکتے ہیں جن کی قوتِ کشش اتنی زیادہ ہو کہ وہ اپنی روشنی کو بھی روکے ہوئے ہوں اور ان کی روشنی باہر نہ آسکتی ہو۔ انسان کسی چیز کو صرف روشنی کی مدد سے دیکھ سکتا ہے، اس لیے یہ عظیم ستارے خلا میں موجود ہونے کے با وجود انسان کے لیے ناقابل مشاہدہ ہیں۔ اس نظریے پر تحقیق جاری رہی، یہاں تک کہ فلکیات دانوں نے ایسے ستاروں کی امکانی موجودگی پر اتفاق کر لیا، اور ایسے ستاروں کا نام بلیک ہول رکھا گیا۔
الہیات کے میدان میں قدیم زمانے سے یہ بحث جاری ہے کہ اس دنیا میں انسان آزاد ہے، یا مجبور۔ بظاہر انسان اس دنیا میں اپنے آپ کو آزاد پاتا ہے، لیکن جب خدا قادر مطلق ہے تو یہ بات ناقابل قیاس معلوم ہوتی ہے کہ خدا کی قدرت کاملہ کے درمیان انسان کو خودمختاری حاصل ہو۔ اس تصور پر بہت زیادہ لکھا اردو شاعر میر تقی میر (وفات: 1810) نے اسی بات کو اس طرح نظم کیا ہے: ناحق ہم مجبوروں پر، یہ تہمت ہے مختاری کی چاہے ہیں سو آپ کرے ہیں، ہم کو عبث بدنام کیا مگر یہ اعتراض ایک غیر منطقی اعتراض ہے۔ کیوں کہ خدا کو اگر ہر قسم کا اختیار حاصل ہے تو اُس کو یقیناً یہ بھی اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی مقام پر اپنی قدرت کو محدود کرلے۔ وہ کامل اختیار رکھتے ہوئے عارضی مصلحت کی بنا پر اپنے اختیار کو وقتی طور پر روک لے۔ یہ قیاس بظاہر ایک نظری قیاس ہے، لیکن بلیک ہول کی دریافت نے اس قیاس کے لیے مظاہراتی سطح پر ایک عملی تصدیق فراہم کردی۔ بلیک ہول کا نظریہ اس قیاس کو قابل فہم بنارہا ہے۔
ایمسٹرڈم (نیدرلینڈس) میں ماہرین طبیعیات (physicists) کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس اس موقع پر فزکس کا نوبل پرائز پانے والے ایک سائنس داں مسٹر جیمس واٹسنن (James Watson Cronin) نے اپنے مقالے میں بتایا کہ ہماری کائنات کا 96 فی صد حصہ سیاہ مادہ (dark matter) پر مشتمل ہے۔ اُس کی روشنی یا ریڈی ایشن ہم تک نہیں پہنچتا، اس لیے ہم اُس کو براہ راست طور پر دیکھ نہیں پاتے:
Dark matter can not be detected directly, because it does not emit or reflect light or radiation. جیمس واٹس نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کائنات کو جانتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ہر چیز کے صرف 4 فی صد حصے کو جان سکتے ہیں :
We think we understand the universe, but we only understand four percent of everything. (The Times of India, September 23, 2007, p. 20)
4- قرآن خدا کی طرف سے آئی ہوئی ایک محفوظ کتاب ہے۔ قرآن کے آغاز ہی میں یہ آیت
شامل ہے: ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ (2:2) یعنی یہ خدا کی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک اس کے ساتھ قرآن کا یہ اعلان تھا کہ وہ ابدی طور پر سارے انسانوں کے لیے کتابِ ہدایت وہ کسی زمانے یا کسی مقام کے لیے نہیں ہے، بلکہ ہر دور اور ہر انسانی گروہ کے لیے ہے۔ قرآن کے اس دعوے کی صداقت کے لیے ضروری تھا کہ بعد کے زمانے کے حالات اس کی تصدیق کرتے رہیں۔ بعد کے زمانے میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے جو اس بیان کی تردید کرنے والا ہو۔ قرآن کا یہ بیان حیرت انگیز طور پر اس معیار پر پورا اترا ہے۔ راقم الحروف نے اس موضوع سے متعلق اس کے مختلف پہلوؤں پر کئی مضامین اور کتابیں تیار کی ہیں۔ مثلاً تاریخی پہلو، نفسیاتی پہلو، حیاتیاتی پہلو اور سائنسی پہلو، وغیرہ۔ یہاں اس سلسلے میں صرف ایک مثال نقل کی جاتی ہے۔ قرآن کی سورہ یونس میں یہ بتایا گیا تھا کہ پندرھویں صدی قبل مسیح میں خدا نے مصر کے فرعون (Ramesses II) کو سمندر میں غرق کیا۔ کیوں کہ اُس نے خدا کے پیغمبر موسیٰ کا انکار کیا تھا۔ خدا نے کہا تھا کہ ـ آج ہم تمھارے جسم کو محفوظ کر دیں گے، تاکہ وہ تمھارے بعد آنے والوں کے لیے ایک نشانی بنے: فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اَيَةً (52: ساتویں صدی کے رُبع اوّل میں جب قرآن میں یہ آیت اتری تو اس واقعے پر دو ہزار سال سے زیادہ مدت گزر چکی تھی۔ اُس زمانے میں نہ پرنٹنگ پریس تھا اور نہ کمیونیکیشن، اور نہ معلوم تاریخ میں اس کا کوئی ریکارڈ موجود تھا۔ چناں چہ تمام لوگ اس واقعے کو بھول چکے تھے۔ اُس زمانے میں کوئی بھی شخص نہ اس واقعے کو جانتا تھا اور نہ اُس کو یہ خبر تھی کہ کبھی فرعون کا جسم ظاہر ہو کر قر آن کی اس آیت کی تصدیق کرنے والا ہے۔ اس آیت کے نزول کے ہزار سال بعد انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں سائنس نے ایسے طریقے دریافت کیے، جن کے ذریعے قدیم اجسام کی تاریخ ٹھیک ٹھیک طور پر معلوم کی جاسکے۔ مزید یہ کہ سائنس کی ترقی نے لوگوں کے اندر بہت بڑے پیمانے پر تجسس کا ذہن لوگ ہر میدان میں نئی نئی چیزیں دریافت کرنے کے لیے عالمی سطح پر سرگرم ہو گئے۔ اِسی دوران مغربی یورپ کے کچھ اسکالر مصر پہنچے۔ انھوں نے قاہرہ کے قریب واقع اہرام کی
تحقیق شروع کی۔ طویل کوشش کے بعد انھوں نے دریافت کیا کہ اہرام کے اندر مصر کے قدیم بادشاہوں کے مردہ اجسام مومیائی حالت میں موجود ہیں۔ چناں چہ خصوصی اہتمام کے ساتھ ان اجسام کو نکالا گیا ۔ اس کے بعد ان اجسام کی جانچ شروع ہوئی۔ سائنس کے جدید طریقوں کے مطابق ، ان کی عمر کا تعین کیا گیا۔ اس تحقیق کے دوران حیرت انگیز طور پر معلوم ہوا کہ مصر کے قدیم بادشاہ فرعون کی لاش ایک اہرام میں موجود تھی۔ سائنسی ٹکنیک کے ذریعے جب اس کی عمر کا پتہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ حضرت موسیٰ کا ہم زمانہ شاہ مصر فرعون کا جسم ہے، جس کی بابت قرآن میں 14 سو سال پہلے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ محفوظ حالت میں موجود ہے، اور مستقبل میں وہ انسان کے علم میںآجائےگا۔ اس حقیقت کا علم اس سے پہلے کسی بھی انسان کو حاصل نہ تھا۔ قرآن میں اس کا صراحتاً ذکر ہونا، اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن اُس خدا کی کتاب ہے جو ساری باتوں کو جانتا ہے (عالم الغیب اس نے اپنے علم کے تحت قرآن میں یہ آیت اتاری۔ اس واقعے میں واضح طور پر جدید سائنس ، قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے کی تصدیق بن گئی۔
فرانس کے ڈاکٹر موریس بکائی (وفات: 1998) نے 1975 میں اپنے ساتھیوں کے ہم راہ مصر کا سفر کیا ، اور قاہرہ کے میوزیم میں جا کر وہاں براہِ راست طور پر اس محفوظ جسم کا مشاہدہ کیا۔ واقعے پر پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد انھوں نے اپنی کتاب میں نہایت حیرت کے ساتھ یہ الفاظ درج کیے ہیں ۔ وہ لوگ جو مقدس کتابوں کی سچائی کے لیے جدید ثبوت چاہتے ہیں، وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میں شاہی ممیوں (Mummies) کے کمرے کو دیکھیں۔ وہاں وہ قرآن کی اُن آیتوں کی شان دار تصدیق پالیں گے جو کہ فرعون کے جسم سے بحث کرتی ہیں :
Those who seek among modern data for proof of the veracity of the Holy Scriptures, will find a magnificent illustration of verses of the Quran dealing with the Pharaoh’s body by visiting the Royal Mummies Room of the Egyptian Museum, Cairo!
5- دین کے عقائد میں سے ایک بنیادی عقیدہ رسالت کا عقیدہ ہے ، یعنی یہ عقیدہ کہ انسان کی
رہنمائی کے لیے خدا کی طرف سے ہر زمانے میں پیغمبر آئے۔ اس سلسلے کے آخری پیغمبر محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ رسالت کے عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے رہنما اصول خود اپنی عقل سے دریافت نہیں کر سکتا۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے میں خدا کے پیغمبروں پر یقین کرے اور اُن سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کرے ۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف خدا کے آخری پیغمبر ہیں، بلکہ آپ پر جو خدا کی ہدایت آئی، وہ اپنی کامل شکل میں اور اپنی اصل حالت میں پوری طرح محفوظ ہے۔ پیغمبر اسلام پر جو پہلی وحی اتری تھی، وہ سورہ العلق کی صورت میں قرآن میں موجود ہے۔ اس ابتدائی وحی میں اللہ تعالیٰ نے کہا تھا کہ: اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ، الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (96:3-5) یعنی پڑھ، اور تیرا رب بڑا کریم ہے جس نے علم سکھایا قلم سے۔ انسان کو اُس چیز کا علم دیا جس کا علم اُس کو نہ تھا۔ اس آیت میں گویا کہ اس بات کا اعلان ہے کہ انسان خود سے اپنی رہنمائی وضع نہیں کر سکتا۔ دنیوی زندگی کے شعبے مثلاً زراعت، باغ بانی اور انجینئرنگ، وغیرہ کے معاملے میں وہ اپنے تجربات کے ذریعے کچھ علم حاصل کر سکتا ہے، جو انسان کی موجودہ زندگی کی ضرورتوں سے متعلق ہیں۔ لیکن انسان کی ابدی رہنمائی کے لیے جو برتر علم درکار ہے، اُس کو انسان خود سے حاصل نہیں کر سکتا۔ زندگی کے اس برتر شعبے میں اُس کے لیے پیغمبرانہ رہنمائی سے مدد لینا ضروری ہے۔
قدیم زمانے میں جو بڑے بڑے فلسفی پیدا ہوئے، اُن سب کا موضوع یہی تھا کہ انسانی زندگی کے لیے رہنمایانہ اصول دریافت کیے جائیں، لیکن کئی ہزار سال تک بڑے بڑے دماغوں کی کوششوں کے باوجود فلسفہ اس قسم کی کسی رہنمائی کو دریافت نہ کر سکا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ فلسفیانہ کاوشوں نے انسان کو جو چیز دی، وہ صرف کنفیوژن (confusion) تھا، نہ کہ کوئی یقینی رہنمائی۔ کارل مارکس (وفات: 1883) نے فلسفے کی ناکامی پر ایک کتاب لکھی جس کا نام یہ تھا— فلسفے کا افلاس (Poverty of Philosophy)۔ یہ کتاب کارل مارکس نے اپنے مخصوص نقطۂ نظر کے اعتبار سے لکھی تھی، لیکن عمومی اعتبار سے بھی یہ درست ہے کہ فلسفیانہ غور و فکر، جو تمام تر عقل کی بنیاد
پر ہوتا ہے، وہ انسان کو رہنمائی کے ابدی اصول دینے کے معاملے میں پوری طرح ناکام ہے۔ شعبے کی یہی نا کامی تھی جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ موجودہ سائنس کے ظہور کے بعد فلسفے کا دور ختم ہو گیا۔ فلسفے کی حیثیت زیادہ تر ایک تاریخی شعبے کی ہے، نہ کہ زندہ شعبہ علم کی۔
یہی معاملہ باطنيت (mysticism) کے ساتھ پیش آیا۔ باطنی نقطہ نظر کے حاملین کا خیال تھا کہ وہ باطنيت کے تجربے کے ذریعے سچائی کو دریافت کر سکتے ہیں، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ باطنيت کیا ہے، اس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے:
Mysticism: The doctrine that it is possible to attain the higher truth through contemplation and love without the medium of human reason, or without any other external source. مسٹی سزم کی تاریخ کئی ہزار سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ بے شمار لوگوں نے مسٹی سزم کے ذریعے سچائی کو پانا چاہا، لیکن لمبے تجربے کے بعد معلوم ہواکہ مسٹی سزم کے ذریعے آخری چیز جو انسان کو ملتی ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ وجد (ecstasy) ہے۔ مگر سچائی کے معاملے میں وجد کی کوئی حقیقت نہیں۔ انسان کے وجود میں سب سے بڑی چیز شعور یا ذہن ہے۔ اس لیے سچائی کو پانے والا وہی شخص ہے جو ذہن یا شعور کی سطح پر سچائی کو پائے، نہ کہ وجد کی سطح پر۔ وجد در اصل بے شعوری کی ایک حالت ہے جس کو بے خودی کے خوب صورت لفظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ سچائی در اصل شعور کی سطح پر حقیقت اعلیٰ کی دریافت کا نام ہے۔ شعور کی سطح پر حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت کی ایک مادی مثال بجلی کے بلب اور پاور ہاؤس میں ملتی بلب ابتدائی حالت میں ایک بے نور شے ہے۔ اس کے اندر نہ خود روشنی ہے اور نہ وہ دوسروں کو روشنی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن جب پاور ہاؤس سے اس کا کنکشن قائم ہو جاتا ہے تو اچانک وہ ایک روشن وجود بن جاتا ہے۔ اب وہ خود بھی روشن ہوتا ہے اور دوسروں کو روشنی دینے کی صلاحیت کا مالک بن جاتا ہے۔ سچائی کو پانے کا معیار کیا ہے، وہ اس مادی واقعے سے معلوم ہوتا ہے۔ سچائی کو پانا شعوری معنوں میں ایک روشنی کو پانا ہے۔ مسٹی سزم اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ مسٹی سزم سے آدمی کو جو چیز ملتی ہے، وہ صرف بے شعوری ہے، نہ کہ شعور۔ اور انسان جیسی با شعور ہستی کے لیے بے شعوری کبھی
حقیقت اعلیٰ کی دریافت کے ہم معنی نہیں بن سکتی۔ اِسی معاملے میں آخری چیز جس کا نام لیا جا سکتا ہے، وہ سائنس ہے۔ جدید سائنس نے بلا شبہ انسان کو بہت سی چیزیں دی ہیں۔ مثلاً ٹیلی کمیونیکیشن اور کنزیومر گڈس (consumer goods)، وغیرہ۔ مگر جہاں تک سچائی کا معاملہ ہے، سائنس نے خود ہی یہ اعلان کر دیا ہے کہ سچائی کی دریافت اس کا میدان عمل نہیں۔
ایک مغربی اسکالر نے درست طور پر لکھا ہے کہ علم کا میدان بہت وسیع ہے۔ علم کی دو قسمیں چیزوں کا علم (knowledge of things)، اور سچائی کا علم (knowledge of truth)۔ اہل علم کے درمیان بلا اختلاف یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ سائنس کا دائرہ صرف چیزوں کے علم تک محدود سچائی کا علم سائنس کے دائرے سے مکمل طور پر باہر ہے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ سائنس اس مقابلے میں بطور امیدوار بھی شامل نہیں۔
انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کا راستہ متعین کرنے کے لیے گہرے علم کی ضرورت اس ضرورت کو ڈاکٹر الیکسس کیرل نے اپنی کتاب انسان نامعلوم (Man the Unknown) میں بخوبی طور پر واضح کیا ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان خود اپنی کوششوں سے اس ناگزیر علم کو دریافت نہیں کر سکتا۔ ایک طرف، علم کا ناگزیر ہونا اور دوسری طرف، انسان کا اس ناگزیر علم کو دریافت کرنے کے لیے نااہل ہونا، بتاتا ہے کہ اس معاملے میں انسان کو ایک خارجی رہنمائی کی اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے پیغمبر کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بلاشبہ پیغمبر ہی وہ انسان ہے جو خدا کے نمائندے کی حیثیت سے ہمارا حقیقی رہنما ہے۔ (25 دسمبر 2007) الرسالہ مشن کے ذریعے آپ کی زندگی میں کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے، ہم آپ کی زبان میں اس کو مرتب کرنا چاہتے ہیں۔ آپ اس سلسلے میں اپنے تجربات اور واقعات اردو یا انگریزی میں ، نام اور پتے کی مکمل تفصیل کے ساتھ، واضح اور متعین انداز میں لکھ کر حسب ذیل پتے پر روانہ فرمائیں: I, Nizamuddin West Market, New Delhi-110 013 Tel. 011-41827083, 46521511, E-mail: znadwi@yahoo.com