Al-Risala · February 2013

کشمیر میں نئی سوچ کی ضرورت

Al-Risala, February 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

بی بی سی لندن (اردو) کے ویب سائٹ پر 18 دسمبر 2012 کی اشاعت کے تحت ایک رپورٹ آئی ہے۔ یہ رپورٹ جموں و کشمیر کی تحریک کے بارے میں ہے۔ اس کا عنوان ہے ’’عسکری تحریک سے پر امن جدو جہد تک‘‘۔ اس رپورٹ کا متعلقہ حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے: ”بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسلح تحریک کا آغاز کرنے والی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) نے اپنے آئین میں تبدیلی کر کے عسکریت پسندی کو اپنے عزائم سے نکال دیا ہے۔ گذشتہ میں سال سے زائد عرصے سے جاری بھارت مخالف تحریک کے پس منظر میں اس کو جے کے ایل ایف کی طرف سے ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ تنظیم کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی کا کہنا ہے کہ جے کے ایل ایف ایک عسکری تحریک تھی۔ اس سے اس نے خود کو ایک پر امن سیاسی تحریک تو اس حوالے سے آئین میں یہ تبدیلی کی گئی کہ جے کے ایل ایف کے مونوگرام میں بندوق کی علامت ختم کر دی گئی اور اس کی جگہ ٹہنی کی علامت شامل کر دی گئی ہے۔ ڈاکٹر گیلانی نے کہا کہ اس علامت کو بدلنے کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ کشمیری پر امن حل کی طرف جانا چاہ رہے ہیں اور اس کے لیے وہ پہلا قدم اٹھا رہے ہیں، تا کہ بھارت، پاکستان اور بین الاقوامی برادری کو یہ باور کرایا جائے کہ پرامن ذرائع سے مسئلہ کشمیر کا حل جے کے ایل ایف کا کہنا ہے کہ تشدد کے ذریعے مقاصد کا حصول اب دنیا کے لیے قابل قبول نہیں رہا اور اقوام عالم کا مسلسل یہ دباؤ رہا کہ بندوق چھوڑ کر پرامن ذرائع اپنائے جائیں۔ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے جے کے ایل ایف کے اہم رہنما اور سابق چیف کمانڈر محمد رفیق ڈار کہتے ہیں کہ مغرب خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ اور مشرق وسطیٰ کے کچھ طاقتور ممالک جو مسئلہ کشمیر میں دلچسپی رکھتے تھے اور جن کا پاکستان اور بھارت سے تعلق ہے، ان کی مسلسل کوشش تھی اور اس کے علاوہ ہندوستان کے اندر ایک دانشور طبقہ، جو انسانی حقوق کا بڑا چیمپین ہے، اس کی بھی یہ کوشش تھی کہ امن اور پرامن ذرائع کو ایک موقع دیا جائے۔ خیال رہے کہ آزاد کشمیر کی حامی تنظیم جے کے ایل ایف پہلی تنظیم ہے جس نے 31 جولائی 1988 کو وادی کشمیر میں چار بم دھماکے کر کے ہندوستان کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا...“(www.bbc.co.uk/urdu/india)

جموں وکشمیر کی تحریک 1947 کے بعد شروع ہوئی ۔ ابتدا میں وہ پر امن انداز میں چلائی کشمیری لیڈر پر امن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے نہایت زور وشور کے ساتھ اس کو 40 سال سے زیادہ مدت تک اس ’’پرا من‘‘ تحریک کو نا کام طور پر جاری رکھنے کے بعد کشمیر میں نئی لیڈرشپ ابھری۔ انھوں نے دوسرا آپشن لیا۔ نئی لیڈر شپ نے 1988 سے کشمیر کی تحریک کو تشدد کی بنیاد پر چلانا شروع کردیا، لیکن کشمیر کا یہ دوسرا دور بھی اپنے نتیجے کے اعتبار سے، مکمل طور پر نا کام رہا۔ بے حساب جانی اور مالی نقصان کے باوجود اس دوسرے دور میں بھی یہ ہوا کہ کشمیری اپنے مطلوب مقصد کو حاصل کرنے میں مکمل طور پر نا کام رہے، جب کہ اس پر تشدد جد و جہد میں پاکستان پوری طرح ان کا مددگار بن گیا تھا۔

کشمیر کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ کشمیری لیڈر دونوں میدانوں میں مکمل طور پر شکست کھا چکے ہیں، پر امن میدان میں بھی اور عسکریت کے میدان میں بھی۔ اب اصل مسئلہ کسی تیسرے آپشن کی تلاش کا ہے، نہ کہ ناکام عسکری طریق کار سے، نا کام پر امن طریق کار کی طرف دوبارہ لوٹنے کا۔ لیڈروں کی مذکورہ تبدیلی‘‘ خوب صورت الفاظ میں صرف ہلاکت کی توسیع ہے، اس کے سوا اور کچھ یہ نام نہاد تبدیلی صرف یہ ثابت کرتی ہے کہ کشمیری لیڈر جس طرح پہلے دانش مندانہ سوچ سے محروم تھے، اُسی طرح اب بھی وہ دانش مندانہ سوچ سے محروم ہیں۔

کشمیریوں کے لیے تیسرا قابل عمل آپشن کیا ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ ہے اسٹیٹس کو ازم (statusquoism)، یعنی موجودہ صورت حال کو علیٰ حالہ قبول کر لینا اور اپنی تمام کوششوں کو تعمیر و ترقی کے کام میں لگا دینا۔ اب کشمیریوں کے لیے جو دانش مندانہ راستہ ہے، وہ صرف یہی ہے۔ یہ تیسرا ممکن راستہ ایک لفظ میں ــ پرامن تعمیر ہے، نہ کہ صورتِ حال کو بدلنے کے نام پر مفروضہ قسم کی پرامن جد و جہد، جو کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، نہ پر امن ہے اور نہ جد و جہد۔ کشمیریوں کے لیے نیا آغاز صرف یہ ہے کہ وہ اپنے ماضی کی غلطی کا کھلا اعتراف کریں اور نئے ذہن کے ساتھ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کا منصوبہ بنائیں۔

Printed page