تبصره
Al-Risala, January 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت نوح کا جو مشن تھا، وہی تمام پیغمبروں کا مشن تھا۔ حضرت آدم سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے پیغمبر دنیا میں آئے، اُن سب کا واحد مشن یہ تھا کہ وہ انسان کو اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) سے آگاہ کریں۔ وہ ان کو یہ بتائیں کہ موجودہ دنیا ایک دار الامتحان (testing ground) ہے۔ یہاں انسان کو آزادی دے کر یہ امتحان لیا جا رہا ہے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور وہ کون شخص ہے جو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ یہ معاملہ ایک متعین وقت (appointed time) تک کے لیے ہے۔ اس کے بعد قیامت آئے گی اور قرآن کے الفاظ میں، موجودہ دنیا کو بدل کر ایک اور دنیا (13:48) بنائی جائے گی، جہاں امتحان میں کامیاب ہونے والے ابدی جنت میں جگہ پائیں گے اور امتحان میں ناکام ہونے والوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کو لمبی مدت تک ہر طرح سمجھایا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ کچھ لوگوں نے آپ کی بات مانی اور زیادہ لوگوں نے آپ کی بات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا جب یہ ظاہر ہو گیا کہ اب مزید کوئی ماننے والا نہیں ہے، بلکہ معاشرہ اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ اس میں جو شخص پیدا ہوگا، وہ صرف غیر صالح بن کر اٹھے گا۔
اُس وقت حضرت نوح نے اللہ کے حکم کے مطابق، دعا کی اور پھر وہ واقعہ پیش آیا جس کو طوفانِ نوح کہا جاتا ہے۔ اللہ کے حکم سے حضرت نوح نے ایک بڑی کشتی بنائی۔ حضرت نوح اور ران کے ماننے والے لوگ اس کشتی میں سوار ہوئے اور بقیہ تمام لوگ طوفان میں غرق کردئے گئے۔ صالح لوگوں کو بچا کر ابدی جنت کا مستحق قرار دیا گیا اور غیر صالح لوگ ہلاک ہو کر ابدی جہنم کے مستحق بن گئے۔
طوفان نوح کے اس معاملے کی حیثیت ایک تاریخی مثال کی تھی۔ اللہ نے حضرت نوح کے واقعے کی صورت میں یہ مثال قائم کردی کہ آخری زمانے میں جب انسانی تاریخ کے خاتمے کا وقت ہوگا، اُس وقت دوبارہ اسی طرح کا ایک اور زیادہ بڑا زلزلہ خیز طوفان آئے گا جس کو قرآن میں قیامت کا نام دیا گیا ہے۔ قیامت کے بعد خدائی منصوبے کے مطابق ، حیاتِ انسانی کا دوسرا دور شروع ہوگا۔ آخرت کا دور ہوگا جو کہ کامل بھی ہوگا اور ابدی بھی۔
حضرت آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اللہ نے حضرت آدم کو جو شریعت دی تھی، اُن کی بعد کی نسلیں اُس شریعت پر باقی رہیں، مگر دھیرے دھیرے ان کے اندر زوال آیا۔ شخصیت پرستی (personality cult) کی صورت میں پیدا ہوا۔
ابتداء یہ ہوا کہ وہ اپنے بزرگوں، وُدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر (71:23) کے مرنے کے بعد ان کی تعظیم کرنے لگے۔ تعظیم کے بعد ان کے اندر اپنے بزرگوں کی تقدیس کا عقیدہ پیدا ہوا۔ دھیرے ایسا ہوا کہ انھوں نے اپنے ان بزرگوں کے مجسمے بنائے اور پھر ان کی عبادت شروع کردی۔ جب بگاڑ کی یہ حد آئی تو اللہ نے ان کے درمیان اُنھیں کی قوم سے پیغمبر نوح کو پیدا کیا۔ بائبل کے بیان کے مطابق، پیغمبر نوح، حضرت آدم کی دسویں نسل میں پیدا ہوئے ۔ حضرت نوح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طور پر لمبی عمر دی، یعنی 950 سال۔ قرآن کی سورہ نوح (71) میں حضرت نوح کی دعوت کا خلاصہ بتایا گیا ہے۔ دوسرے انبیا کی طرح حضرت نوح کی دعوت بنیادی طور پر دو چیزوں کی طرف تھی— توحید، اور آخرت۔
مگر قوم کا بگاڑ اتنا زیادہ بڑھ چکا تھا کہ چند لوگوں کو چھوڑ کر بقیہ افراد آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ قرآن میں اُن کی طرف سے جو قول نقل کیا گیا ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے:’’ انھوں نے کہا کہ تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ تم ہرگز نہ چھوڑ نا وُدّ کو اور سُواع کو اور یغوث کو اور یعوق کو اور نسر کو‘‘۔
یہ صورتِ حال ہمیشہ غلط تقابل (wrong comparison) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
قومِ نوح کے سامنے ایک طرف، ان کا حال کا پیغمبر تھا جو اُن کو بظاہر ایک عام آدمی کی طرح دکھائی دیتا دوسری طرف، ان کے ماضی کے قومی اکابر تھے، جن کے گرد اُن کے قُصّاص (story tellers) نے مفروضہ کہانیوں کا خوش نما ہالہ بنا رکھا تھا۔ اس خود ساختہ تقابل میں اُن کو حضرتِ نوح ایک معمولی انسان نظر آتے تھے (11:27)۔ اس کے برعکس، ماضی کی شخصیتیں ان کو بہت بڑی دکھائی دیتی تھیں۔ یہی غلط تقابل تھا جس نے اُن کے اندر وہ بے اصل یقین (false conviction) پیدا کر دیا جس کی بنا پر وہ اپنے معاصر پیغمبر کا انکار کر دیں۔
جب یہ بات واضح ہوگئی کہ قوم کے اندر اب مزید کوئی فرد ایمان لانے والا نہیں ہے تو اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ اُس علاقے میں ایک عظیم سیلاب لایا جائے جس میں صالح افراد بچا لیے جائیں اور غیر صالح افراد سب کے سب ہلاک کردئے جائیں۔ اثریاتی شواہد کے مطابق ، قومِ نوح کا مسکن دجلہ اور فرات کے درمیان کا وہ علاقہ تھا جس کو تاریخ میں میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کہا جاتا ہے۔ کشتی نوح کا معاملہ پیغمبر کا انکار کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ جو لوگ پیغمبر کا انکار کریں، وہ اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ اس دنیا میں اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں۔ اس مہلت کو کھو دیتے ہیں کہ وہ خدا کی اس دنیا میں رہنے کا مزید موقع پاسکیں۔ چناں چہ مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے اُن کو ہلاک کر دیا جاتا ہے (29:40)۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح کے مخاطبین کے ساتھ اس معاملے میں الگ طریقہ اختیار کیا گیا، یعنی ایک عظیم سیلاب (Great Flood) کے ذریعے غیر صالحین کو ہلاک کر دینا اور جو صالح افراد ہیں، اُن کو ایک کشتی کے ذریعے بچا لینا۔ اس خصوصی مصلحت کو قرآن کی دو آیتوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: وجعلناھا آيةً للعالمين (29:15) یعنی ہم نے اس (کشتی) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔ دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے: ولقد تر كناها آيةً فهل من مدَّ کر (54:15) یعنی ہم نے اٗس (کشتی) کو ایک نشانی کے طور پر باقی رکھا، پھر کوئی ہے سوچنے والا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح کے معاملے میں کشتی کا طریقہ اس لیے اختیار کیا گیا، تا کہ وہ محفوظ رہے اور بعد کے لوگوں کے لیے علامتی طور پر وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کو جاننے کا ذریعہ بنے۔ کشتی اور طوفان کا طریقہ حضرت نوح کی قوم میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کے علاقے میں آباد تھی۔ اللہ کے حکم کے تحت، وہاں بہت بڑا سیلاب آیا۔ معلوم تاریخ کے مطابق، یہ اپنی نوعیت کا واحد سیلاب تھا۔ سیلاب کا پانی اونچا ہوا اور حضرت نوح کی کشتی اس میں تیرنے لگی تو وہ مختلف سمتوں میں جاسکتی تھی، مگر کشتی نے خدائی حکم کے تحت، ترکی کا رخ اختیار کیا۔ بظاہر اس کا سبب یہ تھا کہ میسوپوٹامیا سے قریب ترین پہاڑی سلسلہ جہاں گلیشیر بنتے ہوں، وہ جودی یا ارارات کا سلسلہ کوہ تھا۔ تقریباً 16 سو کلومیٹر کا سفر طے کرکے کشتی نوح ترکی کے مشرق میں واقع جودی پہاڑ پر پہنچی اور وہاں ٹھہر گئی۔ سیلاب کا پانی اترنے کے بعد یہاں کشتی کے لوگ کشتی سے باہر آگئے۔ ان میں تین خاص افراد حضرت نوح کے تین بیٹے تھے — حام، سام، یافت۔ بعد کی انسانی نسل اصلاً حضرت نوح کے انھیں تین بیٹوں کے ذریعے چلی۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کے ایک بیٹے یافت (Japheth) یورپ کے علاقے میں آباد ہوئے اور آپ کے دوسرے بیٹے حام (Ham) افریقہ میں آباد ہوئے۔ اور آپ کے تیسرے بیٹے سام (Shem) ایشیا کے علاقے میں آباد ہوئے۔ حضرت نوح کے زمانے تک جو انسانی نسل تھی، وہ براہ راست طور پر حضرت آدم کی نسل تھی۔ حضرت نوح کے بعد جو انسانی نسل دنیا میں پھیلی، وہ زیادہ تر حضرت نوح کے انھیں تین بیٹوں کے ذریعے پھیلی۔