Al-Risala · March 2014

جنت کا تمدنی تعارف

Al-Risala, March 2014, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ محمد میں بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو آخرت کی دنیا میں جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس سلسلے میں قرآن میں یہ آیت آئی ہے: وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (6: یعنی اللہ اُن کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اُس نے اُنھیں پہچان کرا دی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کی پہچان سے جنت میں داخلے کا استحقاق پیدا ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں جو لوگ جنت کو پہچان کے درجے میں پالیں، وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں واقعہ کے طور پر جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔

جس آدمی کی معرفت اتنی گہری ہو کہ وہ جنت کا حریص بن جائے، وہ جنت کے اشتیاق میں جینے لگے، ایسا آدمی اسی دنیا میں جنت کا تعارف حاصل کر لیتا ہے۔ وہ دیکھنے سے پہلے جنت کو دیکھنے لگتا وہ داخلے سے پہلے جنت کا ادراک کر لیتا ہے۔

جنت کا یہ تعارف کسی آدمی کو ابتدا ء قرآن کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ قرآن سے کسی آدمی کے اندر جنتی غور وفکر کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد جنت کے عملی تعارف کے لیے دو خاص فطری تعارف، اور تمدنی تعارف۔ فطری تعارف سے مراد وہ تعارف ہے جو مناظرِ فطرت کے ذریعے کسی انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ فطرت کے مناظر گویا کہ جنت کا بعید تعارف ہیں۔ جنت کا تمدنی تعارف پہلی بار موجودہ زمانے میں ممکن ہوا ہے۔ جدید تہذیب نے جو ترقی یافتہ دنیا بنائی ہے، وہ گویا کہ جنت کا تمدنی تعارف ہے۔ جدید تہذیب (modern civilization) کی پیدا کردہ مادی سہولتیں گویا کہ جنت کی پُر راحت دنیا کا ابتدائی تجربہ کرا رہی ہیں۔ مناظر فطرت کے ذریعے گویا کہ خود خالق کی طرف سے جنت کے تعارف کا اہتمام کیا گیا ہے— انسان کے اندر اگر معرفت کا شعور بیدار ہو چکا ہو تو وہ مناظرِ فطرت میں جنت کے باغوں کو دیکھے گا، اور جدید تمدنی ترقیوں کے ماحول میں جنت کا ابتدائی مشاہدہ کرے گا۔

Printed page