Al-Risala · January 2014

ہیبی ٹیٹ کی اہمیت

Al-Risala, January 2014

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیبی ٹیٹ کیا ہے۔ یہی ٹیٹ ایک ارضیاتی اصطلاح ہے۔ اس سے مراد وہ جغرافی مقام ہے جو کسی حیوان یا کسی پودے کے لیے فطری طور پر موزوں ہو:

Habitat: The natural abode of an animal or plant. گویا یہی ٹیت زمین کا وہ مخصوص علاقہ ہے جو کسی جان دار مخلوق کے لیے موزوں ہو جاے قیام کی حیثیت رکھتا ہو، جہاں وہ حالات موجود ہوں جس میں کوئی جان دار مخلوق بھر پور طور پر نشو و نما پا سکے۔ اخروی حقیقتوں کو قابل فہم بنانے کے لیے خالق نے دنیا کی زندگی میں حیوانات کے یہی ٹیٹ کا ظاہر ہ (phenomenon) قائم کیا ہے۔ حیوانات اپنے یہی ٹیٹ میں پر سکون طور پر رہتے ہیں۔ یہی ٹیٹ کے باہر ان کو سکون نہیں ملتا۔ اس کی ایک مثال مچھلی ہے۔ مچھلی ایک جان دار مخلوق ہے اور اس کا فطری یہی ٹیٹ پانی ہے۔ مچھلی پانی کے اندر پر سکون طور پر رہتی ہے، لیکن اگر مچھلی کو پانی کے باہر رکھ دیا جائے، مثلاً کسی محل میں، کسی گارڈن میں، کسی صوفہ سیٹ پر، کسی کار یا ہوائی جہاز میں تو ہر جگہ وہ تڑپتی لیکن جیسے ہی آپ اس کو دریا یا سمندر میں ڈالیں، وہ فوراً پر سکون ہو کر اس میں تیرنے لگے گی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مچھلی اپنی ساخت کے اعتبار سے ہوا سے آکسیجن نہیں لے سکتی۔ لیے آکسیجن حاصل کرنے کا ذریعہ صرف تحلیل شدہ آکسیجن (dissolved oxygen) ہے جو پانی کے اندر فطری طور پر موجود ہوتا ہے۔

موجودہ دنیا انسان کا یہی ٹیٹ نہیں۔ انسان کے خالق نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا ہے، جب کہ موجودہ دنیا اس کے مطابق نہیں۔ انسان اور اس کے رہائشی سیارہ کے درمیان اسی تباین (disparity) کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمین انسان کا فطری یہی ٹیٹ نہیں۔ انسان کو اس دنیا میں

اُس مچھلی کی طرح رہنا پڑتا ہے جو پانی کے باہر کسی غیر آبی جگہ پر ہو۔ اگرچہ اس دنیا میں پھل اور میوے ہیں، اگر چہ اس دنیا میں سر سبز پہاڑ ہیں، اگرچہ اس دنیا میں متمدن آبادیاں ہیں، پھر بھی انسان کو اس دنیا میں ذہنی سکون حاصل نہیں۔ انسان اپنی زندگی کے اس تباین پر غور کرے تو وہ ایک عظیم حقیقت کو دریافت کرے گا، وہ یہ کہ موجودہ دنیا اس کا یہی ٹھیٹ نہیں۔

Printed page