Al-Risala · March 2014

اصولِ عملیت

Al-Risala, March 2014, pp. 63–65

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سلسلے میں ایک حدیثِ رسول کا مطالعہ کیجئے ۔ زیرِ بحث موضوع کی نسبت سے ایک اہم روایت ہے جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: إن اللہ فرض فرائض فلا تضيعوها، وحرّم حرمات فلا تنتهكوها، وحدّ حدوداً فلا تعتدوها، وسكت عن أشياء من غير نسيان فلا تبحثوا عنها (مشكاة المصابيح، رقم الحديث: 197) یعنی اللہ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں، تم اُن کو ضائع نہ کرو۔ اللہ نے کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، تم اُن کا ارتکاب مت کرو۔ اللہ نے کچھ حدود مقرر کیے ہیں، تم اُن سے تجاوز نہ کرو۔ اللہ نے کچھ چیزوں کے بارے میں سکوت اختیار فرمایا ہے، تم اُن امور کے معاملے میں بحث مت کرو۔

اس حدیثِ رسول میں چار باتوں کا ذکر ہے۔ ان میں سے ابتدائی تین چیزوں کا تعلق فرد فرائض کا اہتمام فرد کرتا ہے۔ حدود سے تجاوز نہ کرنے کا تعلق فرد سے ہے، حرام چیز سے بچنے کا تعلق فرد سے ہے۔ گویا کہ ان تین فقروں میں ایک شخص کے انفرادی دین کو بتایا گیا۔ آخری فقرے میں جو بات کہی گئی ہے، اس کا ایک پہلو اجتماعی زندگی سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ معاملے میں دینی روش کا تعلق خود اجتماع یا سماج کے حالات پر منحصر ہے۔ اجتماع کے معاملے میں ایک مومن کی روش کسی پیشگی معیار (ideal) کی بنیاد پر متعین نہیں ہوگی، بلکہ اس بنیاد پر متعین ہوگی کہ خود اجتماع کے حالات کیا ہیں، یعنی اجتماع کے قبولیت کی سطح (level of acceptance) کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایک مومن کو اپنی انفرادی زندگی میں معیار پسند (idealist) بننا ہے اور اجتماعی زندگی میں وہ روش اختیار کرنا ہے جس کو اصولِ عملیت (pragmatism) کہا جاتا ہے۔ حدیث کے آخری فقرے میں 'سکوت' کا مطلب مطلق سکوت نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی معاملات، یعنی سماجی اور سیاسی معاملات کو اہلِ ایمان کے لیے کھلا (open) رکھا گیا ہے۔ اُن کو یہ

موقع دیا گیا ہے کہ وہ حالات کی رعایت کرتے ہوئے اپنے لیے کوئی مناسب روش اختیار کریں۔ اسلام میں فرد کے دین اور اجتماع کے دین کے درمیان تفریق کا یہ اصول اُس مشہور اصول کی بنیاد پر نہیں ہے جو مغرب میں چرچ اور سائنس کے درمیان ٹکراؤ کے بعد پیدا ہوا اور جس کو مذہب اور سیاست کے درمیان علاحدگی کا نام دیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں مغرب کا اصول مطلق تفریق یا نظریاتی تفریق کے اصول پر قائم ہے۔ اس کے برعکس، اسلام میں فرد اور اجتماع کے درمیان جو تفریق ہے، وہ ممکن اور ناممکن کے درمیان پائے جانے والے فطری فرق کے اصول پر مبنی ہے، یعنی تقریباً وہی اصول جس کو عام طور پر اس مقولے میں بیان کیا جاتا ہے کہ— سیاست ممکن کا آرٹ ہے: Politics is the art of the possible. اجتماعی اور انفرادی اصول کے درمیان فرق کی حکمت خالق نے انسان کو کامل آزادی دی ہے۔ انسانی آزادی خالق کے منصوبے کا ایک لازمی حصہ ہے جس کو منسوخ کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی بنا پر فرد اور اجتماع کا معاملہ ایک دوسرے سے الگ ہو جاتا ہے۔ چناں چہ جہاں تک فرد کا معاملہ ہے، ہر فرد کی زندگی اس کے اپنے اختیار میں ہوتی ہے، لیکن فرد سے باہر جو انسانی مجموعہ ہے، اس کا معاملہ کسی کے اختیار میں نہیں۔ حرکیاتِ فرد کا اصول الگ ہے اور حرکیات اجتماع کا اصول الگ۔

ایک فرد اپنی ذاتی زندگی میں کوئی دینی مسلک اختیار کرے تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا، لیکن جب آپ اجتماعی زندگی، یعنی سماجی نظام یا سیاسی نظام میں کوئی تبدیلی لانا چاہیں تو فوراً ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہو جائے گا، کیوں کہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ سماجی اور سیاسی نظام پر کوئی شخص یا گروہ پہلے سے اپنا اقتدار قائم کیے ہوئے ہوتا ہے۔ جب آپ سماجی اور سیاسی نظام میں تبدیلی کا علم بلند کرتے ہیں تو فوراً ہی آپ کا ٹکراؤ اُن لوگوں سے شروع ہو جاتا ہے جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ اُن کو اُن کے اقتدار کے منصب سے ہٹانا چاہتے کوئی بھی شخص یا گروہ اس قسم کی معزولی کو برداشت نہیں کر سکتا، اس لیے وہ فوراً اپنے دفاع کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور پھر طرفین کے درمیان ایک ایسی لڑائی شروع ہو جاتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ اس طرح کے معاملے میں کسی ایک فریق کی جیت کبھی لڑائی کا خاتمہ نہیں کرتی، کیوں کہ جو فریق ہارتا ہے، وہ فوراََ ہی انتقام (revenge) کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے دوبارہ ایک نئی جنگ چھیڑ دیتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی جوابی کارروائی کی پوزیشن میں نہ ہو، تب بھی وہ خودکش بم باری شروع کر دیتا ہے، تا کہ اگر وہ فریق ثانی کو ہرا نہیں سکتا تو کم از کم اس کو نقصان پہنچائے یا اُس کو کم از کم غیر مستحکم (destabilise) کر دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر ’’کامل دین‘‘ کے نام پر اس اصول کو اختیار کر لیا جائے کہ فرد نے جس دین کو اپنے لیے اختیار کیا ہے، اُسی دین کو اُسے اجتماع پر بھی نافذ (implement) کرنا ہے، تو اس کے نتیجے میں دونوں فریق کے درمیان ایک ایسی لڑائی شروع ہوگی جو کبھی ختم نہ ہوگی۔ یہ کوئی قیاسی بات نہیں، بلکہ یہی پوری تاریخ کا عملی تجربہ ہے۔

Printed page