Al-Risala · March 2014

فطرت کا نظام

Al-Risala, March 2014, pp. 67–71

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ الفرقان اس آیت سے شروع ہوتی ہے: تَبٰرَکَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِيرًا (25:1) یعنی بڑا بابرکت ہے اللہ جس نے فرقان (قرآن) اتارا، تا کہ وہ سارے عالم کے لیے آگاہ کرنے والا بنے۔

اس آیت کے مطابق، قرآن ایک کتابِ فرقان ہے، یعنی فرق کرنے والی کتاب۔ کا مبالغہ ہے۔ اس کا مطلب ہے: الفصل بين الشيئين (دو چیزوں کے درمیان فرق کرنا)۔ بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ موجودہ دنیا میں امتحان کی مصلحت کی بنا پر تمام چیزیں غیرممیّزحالت میں پائی جاتی ہیں۔ انسان کی یہ لازمی ضرورت ہے کہ وہ ان چیزوں کو درست طور پر سارٹ آؤٹ (sort out) کر سکے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انسان فکری اعتبار سے، کنفیوژن (confusion) کا شکار ہو جائے گا اور عملی اعتبار سے وہ اپنے کاموں کی نتیجہ خیز پلاننگ نہ کر سکے گا۔ اس اصول کو دوسرے الفاظ میں فطرت کا نظام کہا جا سکتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی کامیابی صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ فطرت کے اس نظام کو ملحوظ رکھتے ہوئے زندگی کا نقشہ بنایا جائے۔ انسان بظاہر وسیع کائنات کا ایک حصہ ہے، لیکن انسان کی ایک ممیز صفت ہے جو بقیہ کائنات میں موجود نہیں، وہ یہ کہ انسان کی زندگی بیک وقت دو مختلف تقاضوں کا مجموعہ

ہوتی ہے فرد (individual) اور اجتماع (society) ۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ فرداور اجتماع کے تقاضے مشترک ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے بہت زیادہ مختلف ہیں، بلکہ بعض اوقات ایک دوسرے سے متضاد ہیں، حتی کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان کی زندگی گویا ایک قسم کا مجموعہ اضداد (mixture of opposites) کی حیثیت رکھتی ہے۔

بقیہ کائنات کا معاملہ اس سے مختلف ہے، بقیہ کائنات میں یہ تقسیم موجود نہیں۔ بقیہ کائنات کا معاملہ یہ ہے کہ جو ایک درخت کا کیس ہے، وہی پورے باغ کا کیس ہے، جو ایک قطرہ آب کا کیس ہے، وہی پورے سمندر کا کیس ہے، جو ایک ستارے کا کیس ہے، وہی پوری کہکشاں کا کیس بھی ہے۔ بقیہ کائنات میں واحدہ (unit) اور مجموعہ دونوں کا کیس یکساں ہے، دونوں کے درمیان کوئی فرق انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسانی زندگی کی منصوبہ بندی میں اس فرق یا اختلاف کو ملحوظ رکھنے کا نام کامیابی ہے اور اس فرق یا اختلاف کو ملحوظ نہ رکھنے کا نام ناکامی۔ تاریخ کی تصویر تاریخ میں جو سوچنے والے لوگ (thinkers) گزرے ہیں، اُن میں سے تقریباً ہر ایک کا یہ حال ہوا ہے کہ انھوں نے اپنی سوچ کے مطابق، ایک عظیم فکری نشانہ (great vision) کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ لیکن ساری کوشش کے بعد آخر میں وہ اپنے نشانہ (goal) کو حاصل کرنے کے بارے میں ناامید ہوگئے۔ اور جب وہ دنیا سے گئے تو وہ مایوسی (despair) کا کیس بن چکے تھے۔ ارسطو (Aristotle) سے لے کر برٹرینڈ رسل تک کتنے لوگ ہیں جنھوں نے آئیڈیل گورنمنٹ کے قیام کو اپنا نشانہ بنایا، لیکن ساری کوشش کے باوجود وہ عملاً آئیڈیل گورنمنٹ نہ بنا سکے۔ لیوٹالسٹاے (Leo Tolstoy) سے لے کر مہاتما گاندھی تک کتنے لوگ ہیں، جنھوں نے پرامن دنیا (peaceful world) بنانے کا خواب دیکھا، لیکن اُن کا خواب کبھی عملی واقعہ نہ بن سکا، یہاں تک کہ ناکامی کے احساس کے ساتھ وہ اس دنیا سے چلے گئے۔

سید قطب سے لے کر ڈاکٹر محمد مرسی (مصر) تک کتنے لوگ ہیں جنھوں نے اپنا یہ مشن بنایا کہ

ان کو دنیا میں انصاف (justice) پر مبنی نظام قائم کرنا ہے، مگر اُن کا آخری احساس یہ تھا کہ ساری کوشش کے باوجود دنیا میں وہ اپنا مطلوب نظام قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اُن سب کا حال وہی ہوا جو رابندر ناتھ ٹیگور نے تمثیل کی زبان میں اس طرح بیان کیا تھا— ساری عمر بینا (ستار) کے تاروں کو سلجھانے میں بیت گئی، مگر جو انتم گیت میں گانا چاہتا تھا، وہ میں نہ گا سکا۔ یہ پوری تاریخ کا ایک عظیم فکری المیہ (intellectual tragedy) ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے — زندگی کے بارے میں خدا کے تخلیقی منصوبہ سے بے خبر ہونا اور خود ساختہ ذہن (self-styled mindset) کے تحت منصوبہ بنا کر اس کو ایک ایسی دنیا میں بروئے کار لانے کی کوشش کرنا جو اس کے مطابق، بنائی نہیں گئی تھی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا (17:84) یعنی ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے۔ اب تمھارا رب بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستے پر ہے۔ قرآن کی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خالق کا منصوبہ اشیا(scheme of things) ہی صحیح تخلیقی منصوبہ ہے۔ اْس کا اتباع کر کے دنیا میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ خالق کے منصوبے کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ صرف اپنے فکری شاکلہ (mindset) کو جانتے ہیں اور اُسی کے مطابق عمل شروع کر دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ اپنے کاگ (cog) کو خالق کے کاگ سے نہیں ملاتے۔ اس بنا پر اُن کا منصوبہ غیر حقیقت پسندانہ بن اس معاملے میں لوگوں کی عمومی ناکامی کا اصل سبب یہی ہے۔

اس سلسلے میں ایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ خالق نے انسان کو مصلحت امتحان کی بنا پر مکمل آزادی (total freedom) عطا کیا ہے۔ ہر انسان کو کلی طور پر یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ اس تخلیقی نقشے کی بنا پر عملاً یہ بات ناممکن ہو گئی ہے کہ اس دنیا میں عوام (masses) کی سطح پر کوئی آڈیئل نظام بنایا جا سکے۔ کیوں کہ کچھ لوگ اگر اُس سے اتفاق کریں گے تو

کچھ لوگ اپنے اختیار کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے اس کے خلاف ہو جائیں گے اور پھر وہ مجوزہ اجتماعی اسکیم کو درہم برہم کر دیں گے۔ تاریخ میں بار بار ایسے واقعات پیش آئے ہیں، جب کہ ایک شخص یا چند اشخاص نے بڑی بڑی اسکیموں کا خاتمہ کر دیا۔

خالق کے اس نقشے کی بنا پر حقیقت پسندانہ رویہ یہ ہے کہ آدمی اس سے مطابقت کرتے ہوئے اپنا نقشہ بنائے۔ ہر انسان کو پیشگی طور پر یہ جاننا چاہیے کہ اس کا منصوبہ صرف اُس وقت کامیاب ہو سکتا ہے، جب کہ وہ خالق کے نقشے کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتا ہو۔ خالق کے نقشے سے ادنی انحراف بھی یقینی طور پر اس کے منصوبے کو نا کام بنا دے گا، خواہ بطور خود وہ اس کو کتنا ہی زیادہ اچھا سمجھتا ہو۔ انفرادی معیار پسندی، اجتماعی عملیت اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے غور کیا جائے تو موجودہ دنیا میں قابلِ عمل منصوبے کا اصول صرف ایک ہے، اور وہ ہے فرد (individual) اور اجتماع (society) کو ایک دوسرے سے الگ کر کے فرد کے تقاضے اور اجتماع کے تقاضے کے درمیان فرق کی رعایت کرتے ہوئے اپنے عمل کا نقشہ بنانا یہی فطری طریقہ ہے۔ اس فطری طریقے کا اصول مختصر طور پر یہ ہے: فرد کے لیے نظری معیار (individual idealism)

اجتماع کے لیے عملی امکان (social pragmatism)

فرد کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں عامل اور معمول دونوں ایک ہوتے ہیں۔ فرد کے کیس میں ایک آدمی خود معیار مقرر کرتا ہے اور خود اس کے اپنے اختیار میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اس معیار کو اپنی زندگی میں اختیار کرے۔ اس لیے فرد کے کیس میں کسی معیارِ عمل کی صورت دینا پوری طرح ممکن ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ کے یہاں لوگوں کا درجہ فرد کی نسبت سے متعین ہوگا، نہ کہ مجموعہ کی نسبت سے۔

ہر فرد کو چاہیے کہ وہ جس اصول کو درست سمجھتا ہے، اس کو وہ اپنی ذاتی زندگی میں پوری طرح وہ اس معاملے میں کسی سے سمجھوتہ (compromise) نہ کرے۔ یہی وہ اصول ہے

جس کو ہم نے انفرادی معر پسندی (individual idealism) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ اس کے بعد جہاں تک اجتماع یا انسانی مجموعہ کا تعلق ہے، اس کے معاملے میں قانون فطرت کے مطابق، جو چیز قابلِ عمل ہے، وہ صرف یہ ہے کہ ممکن الحصول اور ناممکن الحصول کے درمیان فرق کرتے ہوئے اپنا منصوبہ بنانا، یعنی ذاتی ماڈل کو چھوڑ کر عملی ماڈل اختیار کرنا، اجتماع کے درجہ قبولیت (level of acceptance) کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ یہی وہ عملی حقیقت (practical wisdom) ہے جس کو ہم نے اجتماعی عملیت (social pragmatism) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔

تاریخ میں جو مفکرین عملاً ناکام ہو گئے، اُن کی نا کامی کا مشترک سبب یہی ہے کہ انھوں نے ذاتی سوچ کے تحت اپنے ذہن میں اجتماع کا ایک خوب صورت ماڈل بنایا یا اور پھر اس کو وقوع میں لانے کے لیے پُر شور تحریکیں شروع کر دیں۔ اس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کا تصوراتی ماڈل حقائق کی چٹان سے ٹکرا کر بکھر گیا۔ معیار (ideal) مجموعے کی سطح پر نا قابلِ حصول ہے، لیکن فرد (individual) کی سطح پر بلا شبہ وہ قابلِ حصول ہے۔

Printed page