خلاصہ کلام
Al-Risala, March 2014, pp. 74–75
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام میں انفرادی دین اور اجتماعی دین کے بارے میں یہاں جو کچھ کہا گیا، وہ اس معاملے میں کوئی نئی اسکیم نہیں ہے۔ اس کی حیثیت صرف یہ ہے کہ اسلام کی تاریخ میں بالفعل جو کچھ پیش آیا، یہاں اس کی ایک قابلِ قبول توجیہہ (acceptable explanation) بیان کی گئی ہے۔ کی روشنی میں اسلام کی تاریخ ایک بامعنی تاریخ بن جاتی ہے۔ اس کے بعد تاریخ کے بارے میں یہ نظر آنے لگتا ہے کہ جو کچھ ہوا، وہ قانونِ فطرت کے مطابق ہوا اور اجتماعیات کے معاملے میں اسلام کا اصول وہی ہے جو خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، فطرت کا اصول ہے۔
یہ ایک معلوم واقعہ ہے کہ اسلام کی بعد کی تاریخ میں کئی ایسے واقعات پیش آئے جو خالص معیار (ideal) سے مطابقت نہ رکھتے تھے۔ مثلاً خلیفہ یا امیر المومنین کے تقرر کے لیے مختلف طریقے بعد کے زمانے میں حکومتی ادارے کا خاندانی حکومت (dynasty) کی صورت اختیار کر لینا، اہلِ اسلام کا مختلف گروہوں میں بٹ جانا اور ان کے درمیان پر تشدد ٹکراؤ پیش آنا، بیت المال کے نظام میں بظاہر خلل واقع ہونا، وغیرہ۔
اسلام کی بعد کی تاریخ میں جو واقعات پیش آئے، وہ بظاہر معیار کے مطابق نہ تھے۔
کے واقعات کے معاملے میں عام طور پر اہل علم نے دو قسم کا موقف اختیار کیا ہے— ایک موقف اُن لوگوں کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ بعد کی تاریخ میں اسلام کا ابتدائی معیار باقی نہ رہا، وہ بگاڑ کا شکار ہو گیا۔ دوسرا موقف اُن لوگوں کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ وہ معاملات ہیں جن کے بارے میں ہمیں خاموشی کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے، ہمیں اُن کا تجزیہ نہیں کرنا چاہئے۔ مگر یہ دونوں موقف ناقابل قبول ہیں، کیوں کہ اسلام انسان کے لیے ہے اور انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ہر واقعے کی عقلی توجیہہ (rational interpretation) چاہتا ہے۔ اس لیے اسلام کی تاریخ کی ایسی توجیہہ کرنا ضروری ہے جو عقلی طور پر قابل فہم ہو۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں لوگ اسلام کی صداقت کے بارے میں مشتبہ ہو جائیں گے، وہ کامل یقین کے ساتھ اسلام کو اختیار نہ کر سکیں گے۔ مذکورہ وضاحت کا یہ فائدہ ہے کہ اس سے اسلامی تاریخ کی ایک قابل فہم توجیہہ حاصل ہو جاتی ہے، بغیر اس کے کہ اسلام کی کامل صداقت پر کوئی حرف آیا ہو۔